نیشنل ایکشن پلان اور ہماری ذمہ داری

نیشنل ایکشن پلان اور ہماری ذمہ داری
نیشنل ایکشن پلان اور ہماری ذمہ داری

  


پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد سانحہ شکار پور پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ امن و امان کی صورت حال غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے ہر پاکستانی خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ملک میں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے ملک کے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضربِ عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے تو دوسری جانب حکومت ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بجلی کی قلت، گیس اور پٹرول کی قلت بحرانوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان بحرانوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ حکومت قومی ایکشن پلان اور آپریشن ضربِ عضب پر مکمل فوکس کئے ہوئے ہے۔ یہ بات بھی قابلِ اطمینان ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں فوجی اور سیاسی قیادت میں مکمل ہم آہنگی اور اتفاق پایا جاتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کا اجراء فوجی اور سیاسی قیادت کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا وفاق اور صوبوں دونوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ تفریق کی بجائے یہ جنگ بحیثیت ایک قوم لڑی جائے۔حکومت کوہدف تنقید بنانے سے بہتر ہے کہ دہشت گرد عناصر پر توجہ دی جائے اور ان کو بے نقاب کیا جائے۔ ملکی سلامتی سے جڑے معاملات میں سیاسی عزم دکھانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر سیاست نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ اس سے سب سے زیادہ نقصان نیشنل ایکشن پلان کو ہو گا۔دہشت گردوں نے آپریشن ضربِ عضب کے ردِ عمل کے طور پر اپنا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا دیا ہے۔ ایک متفقہ قومی ایکشن پلان کے تحت پورے ملک میں ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ اب تک اس سلسلے میں مختلف شہروں میں عسکریت پسندوں کی خفیہ کمین گاہوں پر ہزاروں آپریشن کئے گئے، جن میں پشاور، شکارپور اور دوسرے مقامات پر ہونے والے سانحات میں ملوث درجنوں دہشت گرد اور ان کے ماسٹر مائنڈ ہلاک یا گرفتار کئے جا چکے ہیں۔

اس حوالے سے افغانستان سے ملنے والا تعاون بھی کافی کارگر ہے۔ یہ حکومتِ وقت کی اہم سفارتی کامیابی ہے۔ پاک افغان تعلقات میں بہتری دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں بہت معاون ثابت ہو گی۔ یہ بات قابلِ اطمینان ہے۔ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے قلع قمع کے لئے فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ بلا شبہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں پر زمین تنگ ہو جائے گی۔وفاق کی جانب سے فاٹا سے بے گھر ہونے والے بیس لاکھ سے زائد قبائلیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے لئے ایک مربوط پلان تیار کیا جا رہا ہے، جس پر حکومت اربوں روپے خرچ کرے گی۔ یہ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف دیرپا حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ فاٹا کی تعمیر اور ترقی سے دہشت گردی کے لئے تیارہ کردہ نرسریاں ختم کرنے میں مدد ملے گی۔یہ بات خوش آئند ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کافی متحرک نظر آتی ہے۔وزیراعظم ہر صوبے میں ایکشن پلان کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ خود لیتے نظر آتے ہیں۔

وفاق کی جانب سے چاروں صوبوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اب صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائیں اور ملکی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے حکومت نے ایک لائحہ عمل دیا ہے، جس پر عمل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈالنا درست نہیں۔ یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ملک کی پیچیدہ صورت حال ہر فرد سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنا کردار مثبت طور پر ادا کرے۔ ملک کو دہشت گردی کے عذاب سے بچانے کے لئے عوامی تعاون کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔

حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کے بینک اکاؤنٹس کی چھان بین، غیر ملکیوں کے ذرائع آمدن، کاروبار اور دیگر تفصیلات جمع کئے جانے کا فیصلہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ غیر قانونی ذریعے سے رقم کی منتقلی پر نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ یہاں تمام پاکستانیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی رقوم کی منتقلی کے لئے قانونی طریقہ اختیار کریں۔حوالہ یا ہنڈی وغیرہ سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے، بلکہ دہشت گرد عناصر کی مدد بھی ہوتی ہے۔ اِسی طرح لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال پر پابندی سے لے کر مدارس کی رجسٹریشن، کالعدم تنظیموں کے کئی ناموں سے نئے سرے سے رجسٹریشن وغیرہ جیسے اقدامات میں حکومت کو عوامی تعاون درکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے بہت سی این جی اوزکے خلاف بھی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ بلا شبہ ایک احسن فیصلہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں انسانی خدمت کے نام پر کام کرنے والی بہت سی این جی اوزکے باہر کی جاسوس اور دہشت گرد تنظیموں سے رابطے ہیں۔ اس سلسلے میں غیر ملکی فنڈنگ کی سخت جانچ پڑتال اور این جی اوزکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بروقت ہے۔ ایسے اقدامات اگر پہلے کوئی حکومت کر لیتی تو یقیناًملک کو بہت سی مشکلات سے بچایا جا سکتا تھا۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ کئی برس تک دہشت گرد عناصر اپنے نیٹ ورکس مضبوط کرتے رہے اور کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے ہیں۔ غیر فعال ریاستی ایکشن حکومتوں کی چشم پوشی اور غیر دانشمندانہ طرزِ حکمرانی کے باعث ملکی امن و امان کی صورت حال پیچیدہ ہوتی گئی۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا فائدہ بھی دہشت گردوں نے خوب اٹھایا۔ اس وقت صورت حال کی حساسیت کا ادراک پورا ملک کر چکا ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملکی سلامتی کے لئے کئے جانے والے تمام تر فیصلوں سے عوام کو با خبر رکھا جائے۔ حکومتی اقدامات میں شفافیت اور سرعت کے ساتھ ساتھ نتیجہ خیزی ناگزیر ہے۔ حکومت کو ملکی مفادات کے منافی کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی کا طریقہ کار بھی واضح کرنا ہو گا تاکہ اس سلسلے میں حکومت پر ہونے والی تنقید کا موثر جواب دیا جا سکے۔

اس سلسلے میں قوم کے ہر فرد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت سے ہر طرح کا تعاون کرے۔ اپنی شناخت سے متعلق تمام کوائف پورے کرے۔ اپنی موبائل سموں کی تصدیق کروائے اور کوئی مشکوک شخص یا سرگرمی کا علم رکھتا ہو تو پولیس میں اطلاع کرے۔ اپنے آس پاس کے ماحول پر نظر رکھے اور نفرت پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی کرے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کی مذہبی آزادی کا احترام کرے اور باہمی معاملات میں برداشت کو فروغ دے۔ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت، فوج اور قوم کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس لئے ایک ایک لمحہ قیمتی اور اہم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مصلحتوں سے کام نہ لے اور پوری دیانت داری سے اس پر عمل کرے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنا کردار ادا کرے۔ قومی ایکشن پلان کو بروئے کار لاتے ہوئے جس منزل کا تعین کیا گیا ہے، اس کے حصول کے لئے سب کو ساتھ چلنا ہے۔ *

مزید : کالم


loading...