فاروق خان، ہنس مکھ، بے تکلف اور کام آنے والی شخصیت تھے

فاروق خان، ہنس مکھ، بے تکلف اور کام آنے والی شخصیت تھے
فاروق خان، ہنس مکھ، بے تکلف اور کام آنے والی شخصیت تھے

  


یہ تو یاد نہیں کہ ان کے ساتھ پہلی بار تعارف کب ہوا، لیکن یہ یاد ہے کہ برسوں بیت گئے اور یوں ہمارے تعلقات بھی کئی سالوں پر محیط ہیں، وہ بہت سلجھے ہوئے، تعلیم یافتہ شخص تھے اور مجلس سجانے میں ان کو ملکہ حاصل تھا، وقت کے پابند، کھانے پینے میں محتاط تاہم تعلقات کے حوالے سے بے تکلف تھے ان کے دوستوں اور ملنے والوں کی تعداد کا انداز ذرا مشکل ہے کہ ان کے شو روم پر آنے والے حضرات کا تانتا بندھا رہتا تھا اور وہ ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتے اور حالات حاضرہ پر گفتگو جاری رہتی۔ فاروق خان ایسی ہی شخصیت تھے اور ان کو پسند کرنے والوں کی تعداد کا شمار ذرا مشکل ہے۔

آج صبح سیر سے واپس آئے تو موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی، دیکھا تو عمر خان کی کال تھی، صبح ہی صبح عمر کی طرف سے فون کرنا ہی اندیشے والی بات تھی اور اس نے وہ خبر سنا ہی دی، بولا! فاروق خان صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ مرحوم کی حالت اور ڈاکٹروں کی طرف سے مایوسی کے اظہار کا علم ہونے کے باوجود جھٹکا لگا کہ بالآخر وہ اللہ کو پیارے ہو گئے کہ کئی رو زسے صاحب فراش تھے، قالینوں کے کاروبار کی بھی وہ ایک معروف شخصیت تھے اور بڑی صفت دوستی تھی ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا، وہ گھر سے معمول کے وقت پر اپنے سٹور/ دکان پر آتے، ان کے بعد گھر سے کھانا آ جاتا یا اکثر وہ خود لیتے آتے تھے اور پھر عین وقت پر کھانا کھایا جاتا، سٹور پر آئے تمام مہمانوں کو شریک کرتے چاہے بازار سے مزید کچھ منگوانا پڑتا۔

فاروق خان خود سے کہیں آتے جاتے نہیں تھے لیکن اپنے معمولات کی سختی سے پابندی کرتے سیر صبح کے عادی تھے اور بیماری کے جان لیوا حملے کے بعد یہ معمول ترک کرنا پڑا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ان کو عارضہ قلب لاحق ہو گیا حیرت کا اظہار کیا کہ وہ نہ تو سگریٹ پیتے اور نہ ہی کوئی اور روگ پالا ہوا تھا اس کے باوجود ان کو بائی پاس آپریشن سے گزرنا پڑا جو امریکہ میں ہوا کہ تب پاکستان میں ماہرین کی کمی تھی۔

فاروق خان مطالعے کا ذوق اور شوق بھی رکھتے اور حالات حاضرہ سے آگاہ رہتے، ان کے گھر پر جو اخبارات آتے ان میں روزنامہ پاکستان لازم تھا، وہ پسند بھی کرتے اور میری تحریروں سمیت مختلف موضوعات پر تبصرہ کرتے اور مشاورت بھی ہوتی تھی فون پر سلام دعا ہوئی تو سٹور پر آنے کی بات کرتے سٹور پر جاتے تو حالات حاضرہ پر بات شروع ہوتی جو بڑھتی جاتی تھی وہ باخبر شخص تھے۔فاروق خان گورنمنٹ کالج کے فاضل ڈگری ہولڈر تھے انہوں نے ملازمت کے بارے میں نہیں سوچا اور کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ ساہیوال سے لاہور کا سفر بھی تیزی سے کیا اور یہاں احترام بھی پایا، ان کے ہم جماعتوں کی اکثریت اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہوئی، ایک وقت وہ تھا جب پنجاب بیورو کریسی میں ان کے ہم جماعتوں اور دوستوں کی کثیر تعداد اہم عہدوں پر فائز تھی، چنانچہ سٹور پر بھی اہم شخصیات کی موجودگی حیرت کا باعث نہیں اور نہ ہی کبھی فاروق (مرحوم) نے کسی کے جائز کام سے منہ موڑا وہ اپنے فون سے ہی بات کرتے اور طریقہ بھی بتا دیتے۔بہرحال ان کا یہ سلسلہ عرصہ سے چلا آ رہا تھا۔

فاروق آج منوں مٹی تلے جا سوئے لیکن وہ یاد تو رہیں گے کہ ان کی شخصیت ہی ایسی تھی اس کا اندازہ ان کی نماز جنازہ سے بھی ہوا، جو خالد مسجد کیولری گراؤنڈ میں پڑھائی گئی۔ حد نگاہ تک لوگ تھے ان میں ہر طبقہ فکر کے افراد شامل تھے۔ کاروباری اور سیاسی شخصیات کے علاوہ اعلیٰ سرکاری (حاضر سروس+ ریٹائرڈ) کی تعداد بھی سوا تھی۔ فاروق خان عارضہ قلب سے تو صحت مند ہو گئے تھے اور ان کا بائی پاس بہت پہلے ہوا تھا، لیکن ان کی موت کا سبب یہ مرض نہیں۔ کینسر کا موذی مرض ہے۔ جس کی وجہ سے آخری دن اپنے بیڈ روم میں گزارے، گزشتہ ماہ سے چند روز قبل گھر پر فون کیا تو بات ہو گئی تھی، تاہم پھر ان سے کوئی رابطہ ممکن نہ تھا اور نہ ہی ان کو دیکھنے کی ہمت تھی کہ سرطان نے ان کو لاغر کر دیا اور وہ اپنے کمرے تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔وہ نہ تو سگریٹ پیتے اور نہ ہی ان کو کوئی اور علت تھی۔ وہ صاف ستھری زندگی گزارتے، کھانا بھی گھر ہی کا کھاتے تھے، اس کے باوجود وہ پہلے عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے اس میں بائی پاس کے بعد شفا ہو گئی لیکن کینسر لے ڈوبا، بات معمولی تھی کہ چھاتی کے دائیں جانب چھوٹی سی گلٹی بنی، تکلیف دینے لگی تو شوکت خانم ہسپتال کا رخ کیا جہاں ان کا علاج شروع ہوا، ایک مرحلے پر ان کو تندرست قرار دے دیا گیا تاہم پھر سے مرض لاحق ہوا۔ ٹیسٹ ہوئے تو گلٹی متاثر نظر آئی جو انہوں نے نکال دی۔ لیکن پھر سنبھل نہ سکے کہ کمزوری اور عمر کے لحاظ سے کیمو تھراپی سے علاج ممکن نہ تھا چنانچہ ادویات تجویز کی گئیں جو وہ بڑی احتیاط سے استعمال کرتے تھے لیکن یہ موذی مرض جان نہیں چھوڑتا اور جان لے کر ہی رہا۔

فاروق خان کی نماز جنازہ میں شرکت ایک بوجھ تھا۔ ان کے بھائیوں سے تعزیت کی ،کیاکیا جا سکتا ہے اللہ کا مال اللہ نے واپس لے لیا۔ اس تحریر کے ذریعے ہر اس ہستی اور شخصیت سے تعزیت کہ جن کا ہم دونوں سے واسطہ یا تعلق رہا اور ہے ۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ یقیناً بڑی ہی خوبیوں کے حامل تھے۔اعلان کے مطابق قرآن خوانی (قل) آج (ہفتہ) عصر سے مغرب کے درمیان سی ایم اے کینٹ میں گلی نمبر5کی جامع مسجد میں ہوگی۔ *

مزید : کالم


loading...