کا لا دھن

کا لا دھن
کا لا دھن

  


پاکستان کے چند بڑے اخبا رات نے حال ہی میں دبئی کے شعبہ ترقی زمین کی جانب سے جا ری کردہ اعداد وشما ر کی بنیا د پر ایک خبر شا ئع کی جس پر الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے خاص توجہ نہیں دی گئی۔ اس خبر کے مطا بق 2013-2014ئمیں دبئی میں رئیل اسٹیٹ یا پر اپرٹی کے شعبوں میں پا کستانیوں کی جانب سے 16ارب درہم (متحدہ عرب امارات کی کرنسی) سے بھی زائد کی سرما یہ کا ری کی گئی۔ایک پا کستانی روپے کے مقابلے میں متحدہ عرب اما رات کے درہم کی شرح کو دیکھا جا ئے تو یہ 27/1بنتی ہے، یعنی ایک درہم پاکستان کے 27 روپے کے برابر ہے۔ اس حساب سے دیکھا جا ئے تو چند پاکستانیوں نے 2013-2014ء میں 430ارب روپیہ دبئی میں جائیدا د کی خرید پر صرف کیا۔ظاہر ہے دبئی کی رئیل اسٹیٹ پر لگا یا گیا یہ پیسہ قطعی طور پر بھی سفید دھن کے زمرے میں نہیں آتا۔معاشی ماہرین کے مطا بق نائن الیون کے بعد مغربی ممالک اور خا ص طور پر امریکہ کے بینکوں میں بھا ری رقوم کی منتقلی اور اخراج پر جا نچ پڑتال کا عمل سخت بنا دیا گیا ہے۔

دُنیا بھر سے لو ٹا گیا کالا دھن اس وقت لکسمبرگ ، سنگا پور، جنو بی افریقہ، ما ریشس اور متحدہ عرب امارات( دبئی) جیسے ممالک میں مختلف ناموں کی جعلی یا فرضی کمپنیوں کے نا م پر منتقل کیا جا رہا ہے،جس کے با عث یہ ممالک غیر قانونی ذرائع سے بنا ئے گئے کا لے دھن اور منی لا نڈرنگ کے بڑے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ یہ انکشاف ہر گز نیا نہیں کہ پاکستان جیسے غریب ملک کی امیر اشرافیہ اپنے ملک کا سرمایہ پاکستان سے لوٹ کر دیگر ممالک میں سرما یہ کا ری یا دیگر مقاصد کے لئے استعما ل کر رہی ہے۔سوئٹزر لینڈ کے ایک سابق وزیر خارجہ میشلائن کالمے رے آن دی ریکارڈ یہ با ت کہہ چکے ہیں کہ سوئٹز رلینڈ کے بنکوں میں چند پاکستانیوں کی 200ارب ڈالرز سے بھی زائد کی رقم موجود ہے۔سوئس بینک Credit Suisse کے ایک ڈائریکٹر کے مطابق چند پاکستانیوں کے 97ارب ڈالرز تو صرف ان کے بینک Credit Suisseمیں پڑے ہو ئے ہیں،جن اہم سوئس بینکوں میں پا کستانی سرمائے کی مو جودگی یقینی بتا ئی جا تی ہے ان میں HSBC بینک، Credit Suisseبینک،UBS جیسے سوئس بینک قابل ذکر ہیں۔

ٖغریب مما لک کی ہی اشرا فیہ کی جانب سے اپنے ممالک کی لوٹ ما ر سے حا صل ہو نے والی دولت کے لئے سوئٹز رلینڈ کو ایک جنت کا درجہ حا صل رہا ہے، جہا ں ٹیکس یا دولت کے حصول کے ذرائع کے حوالے سے کو ئی پو چھ گچھ نہیں رہی،مگر نائن الیون کے بعد اور خاص طور پر 2009ء کے بعد سے امریکہ اور یورپین یو نین کی جانب سے سوئٹز رلینڈ کے بینکوں پر یہ دباؤ رہا کہ کہ وہ عالمی ٹیکس انتظامیہ کو خفیہ اکا ؤنٹس تک رسائی کے حصول میں مدد فراہم کریں، حتیٰ کہ امریکہ نے سوئٹز رلینڈ کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر سوئس بینکنگ قوا نین میں تر میم نہ کی گئی تو امریکہ اپنے ہا ں قائم سوئس بینکوں کے لا ئسنس منسوخ کر دے گا۔یوں سوئٹز رلینڈ نے دبا و میں آکر اپنے بینکنگ سیکٹر کے قوانین میں کسی حد تک ترامیم کیں۔ امریکہ نے سوئٹزر لینڈ سے اپنے 4,500امیر شہریوں کے با رے میں معلوما ت بھی حاصل کر لیں۔2010ء میں The Restitution of Illicit Assets Act,2010(RIAA)کا نیا سوئس قا نون سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اب سوئس حکومت کو ایسی رقم یا اثاثوں کے با رے میں معلومات فراہم کرنے کی اجازت ہو گی کہ جن کوغیر قانونی ذرائع سے حا صل کرکے سوئس بینکوں میں ڈپا زٹ کر وایا گیا ہے۔

اس با ت سے ثابت ہوتا ہے کہ اب اگر پا کستان کی حکومت چاہے تو سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں پاکستان سے لوٹی گئی دولت اور اثاثوں کے بارے میں نہ صرف معلومات حا صل کر سکتی ہے، بلکہ یہ ثا بت کر کے کہ یہ رقم غیر قا نونی طریقے سے بنا ئی گئی ہے اس رقم کو واپس لینے کے لئے قانونی چا رہ جوئی بھی کر سکتی ہے،مگر ہمارے حکمران قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گئے ایسا سوچنا بھی پرلے درجے کی حما قت ہو گی۔پاکستان میں کئی سیا سی جماعتوں نے سوئٹزر لینڈ اور بیرونی ممالک میں پڑے کا لے دھن کو واپس لانے کے ایشو کو کئی بار اپنے انتخا بی وعدوں اور دعوؤں کی زینت بنا یا، مگر اس پر عمل کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس وقت پاکستان کی شائد ہی کو ئی ایسی سیا سی جماعت ہو کہ جس کی اعلیٰ سطحی قیا دت میں سے کسی نہ کسی کا سرما یہ بیرون ممالک میں نہ پڑاہو۔ابھی حال ہی میں دبئی میں پرا پرٹی کے شعبے میں جن پا کستانیوں کی جانب سے 430ارب روپیہ لگا یا گیا تو ایسے پا کستا نیوں کی واضح اکثریت میں یہا ں کے سیا ستدان اور ان کے گھرانے کے افراد ہی شامل ہیں کہ جو مو جودہ اور سابقہ عہد میں اہم ترین حکومتی عہدوں پر فا ئز رہے ہیں۔ بیرون ممالک اثاثہ جا ت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اور طریقہ یہ اپنا یا جاتا ہے کہ پہلے نا جا ئز ذریعہ سے دولت بنا ئی اس کے بعد اس دولت کو بیرون ملک منتقل کیا وہا ں اس کی منی لانڈرنگ کی یا اس کو پرا پرٹی کے شعبے میں لگا یا اور اس کے بعد اس سے حا صل ہونے والے پیسے کو ’’حوالے ‘‘کے ذریعہ پا کستان لاکر سٹاک ایکسچینج یا کسی منا فع بخش کا م میں لگا کر اس دولت کو سفید قرار دلوا دیا۔ پا کستان میں کالے دھن کو چھپا نے کے کئی اہم طریقے یہ بھی ہیں کہ اس دھن کے ذریعہ بیرون ممالک کے بھر پور دورے کئے جائیں،اپنے بچوں کو مغربی ممالک کی انتہا ئی مہنگی یونیورسٹیو ں میں تعلیم دلوائی جا ئے، سونے اور چاندی میں بھر پورسر ما یہ کا ری کی جا ئے، شا ہا نہ طرز زندگی پر بیجا اصراف وٖغیرہ۔

پا کستان میں جہاں ایک طرف کرپشن یا ناجائز ذرائع سے بنائی گئی دولت پر کسی قسم کی گرفت نہ کرنے کی ذمہ دار ریا ست ہے تو وہیں دوسری طرف ہم یہاں کے سماجی رویوں پر بھی تنقید کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اب ہما را سما جی رویہ بن چکا ہے کہ اگر کسی بھی شعبے کا کو ئی فرد اپنی جائز آمدنی کی حد سے زیا دہ شا ہانہ طرز زندگی اپنا تا ہے اور ہر کسی پر یہ واضح بھی ہو تا ہے کہ یہ شخص کرپشن ، کمیشن، غبن یا دیگر غیر قا نونی ذرائع کے ذریعے ہی ایسا طرز زندگی اپنا ئے ہوئے ہے اس کے با وجود اس رویے کی مذمت کرنے کی بجا ئے لو گو ں کی اکثریت ایسے شخص سے مرعوب ہو نے لگتی ہے۔

ایک ایسے معا شرے میں جہاں کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے حصول میں ہی اپنی ہر صبح کو شام کرنے میں لگی ہو، جہاں غریبوں کے بچوں کے لئے تعلیم اور روزگار تو دور کی بات ہے سر ڈھاپنے کے لئے چھت اور اپنی بیما ریوں سے لڑ نے کے لئے صحت کے بنیا دی وسائل بھی مو جود نہ ہوں ایسے میں وسائل کو یوں اپنی عیا شیوں کے لئے لو ٹنا اور پھر اس لوٹی ہو ئی دولت سے دنیا کے امیر ممالک میں اپنے اثا ثے بنا نا یقیناًنا قابل معا فی جرم ہے۔وسائل کی اِسی اندھی لوٹ کھسوٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ پا کستان 15کھرب روپے سے بھی زائد کا مقروض ہو چکاہے، جبکہ ہر پا کستانی اوسطاً 82,627روپے کا مقروض ہے،مگر بے حسی کی حد تو یہ ہے کہ وسائل کی لوٹ مار کم ہو نے کی بجائے اس لوٹ ما ر میں مزید اضا فہ ہو تا جا رہا ہے۔ *

مزید : کالم


loading...