سینیٹ انتخابات:شیدے ریڑھی والے کے تبصرے

سینیٹ انتخابات:شیدے ریڑھی والے کے تبصرے
سینیٹ انتخابات:شیدے ریڑھی والے کے تبصرے

  


لو جی سینیٹ کے انتخابات ہو گئے، مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا، جیتنے والوں کو یہ نصیحتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ وہ جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ شیدا ریڑھی والا پوچھتا ہے ’’سینیٹر بننے والے تو پہلے بھی سینیٹر تھے، ماسوائے چند ایک کے، باقی تو سارے پرانے چہرے ہی ہیں، پھر ان سے یہ توقع کیوں باندھی جا رہی ہے کہ وہ جمہوریت کے استحکام یا فروغ کے لئے کوئی غیر روایتی کردار ادا کریں گے یا اُن کے گلے میں نیا ڈھول کیوں ڈالا جا رہا ہے، وہ تو پرانا بجائیں گے، اسی جمہوریت کوقائم رکھیں گے، جس پر وہ سالہا سال سے پہرہ دے رہے ہیں وہ جمہوریت جو عوام کے لئے تو ہے ہی نہیں۔ یہ تو خاص لوگوں کے لئے ہوتی ہے‘‘ شیدے کی باتیں تو ہوتی ہی تلخ ہیں، اس لئے اچھا بھی ہو رہا ہو تو اُسے بُرا ہی نظر آتا ہے۔ اب اُسے کون سمجھائے کہ تجربہ کار لوگوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے وہ سینیٹرز جو پارلیمنٹ کا سالہا سال تک حصہ رہے ہیں وہ بہتر ہیں یا وہ جنہیں ریاست اور پارلیمانی نظام کی الف ب بھی نہیں آتی۔ شیدے کی سوئی جب ایک جگہ اڑ جائے تو پھر نکلتی نہیں، سو اُسے سمجھانا فضول بات ہی رہ جاتی ہے مثلاً اُس کی سوئی اس نکتے پر اٹکی ہوئی تھی کہ رحمن ملک پھر سینیٹر بن گئے ہیں، حالانکہ اُن کے بارے میں ذوالفقار مرزا نے جو انکشافات کئے ہیں ، انکوائری کے بعد انہیں تو جیل میں ہونا چاہئے تھا۔مَیں نے کہا شیدے توبہ توبہ کرو۔رحمن ملک جیسا سیاست دان ہمیں دوسرا مل ہی نہیں سکتا۔

کہنے لگا: ’’بابو جی سرخاب کے پَر لگے ہیں، اُن میں، وہ ایک معمولی سرکاری ملازم تھے۔آج ارب پتی ہیں۔ آخر کون سا کاروبار ہے جس میں آدمی چند سال کے بعد ارب پتی ہو جائے۔ مَیں تو 30سال سے ریڑھی لگا رہا ہوں اور آج تک ریڑھی کی جگہ کھوتا ریڑھی تک نہیں لے سکا۔ صبح و شام تک محنت کرتا ہوں، مَیں دو وقت کی روٹی ہی کما پاتا ہوں‘‘۔ مجھے بڑی ہنسی آئی، لیکن شیدے کا سنجیدہ موڈ دیکھ کر مَیں نے روک لی، سوچنے لگا کہ یہ شیدے جیسے عوام بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ محنت مزدوری سے آدمی امیر ہو جاتا ہے، حالانکہ محنت مزدوری تو صرف زندہ رہنے کا ایک بہانہ ہوتی ہے تاکہ دال روٹی کا سلسلہ چلتا رہے۔ اس سے آدمی امیر نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان میں تو روز بروز غریب ہوتا جاتا ہے۔ امیر بننے کے لئے تو دو شعبوں میں ہونا ضروری ہے، بیورو کریسی یا پھر سیاست میں، بیورو کریٹ بننے کے لئے چونکہ پڑھنا لکھنا پڑتا ہے،اس لئے یہ کام تھوڑا مشکل ہے، لیکن سیاست کے لئے تو بس سیاست کرنی پڑتی ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلتے جاتے ہیں۔ چند ہزار روپے تنخواہ لینے والا سرکاری ملازم بھی جب بدعنوانی پر برطرف ہونے کے بعد سیاست میں آتا ہے تو چند ہی سال میں اپنے جیسے بیس تیس نوکر رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ خیر مَیں اپنی سوچ سے باہر نکلا اور مَیں نے شیدے کو سمجھایا کہ رحمن ملک بڑے کام کے آدمی ہیں، وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں، اُن جیسا ’’قابل‘‘ آدمی اس وقت پورے منظر نامے پر کوئی نہیں۔ وہ سب کے لئے قابلِ قبول ہیں، حتیٰ کہ الطاف بھائی بھی اُن کے ہاتھوں رام ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔

ایم کیو ایم کا احتجاج ختم کرنا ہو یا پی ٹی آئی کا دھرنا، وہ پیش پیش ہوتے ہیں اور کام بھی دکھاتے ہیں۔صبر و ضبط اتنا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے انہیں آصف علی زرداری کا ٹوائلٹ تک صاف کرنے کے طعنے دیئے، مگر انہوں نے یہ کہہ کر قصہ ہی ختم کر دیا کہ ذوالفقار مرزا میرے بھائی ہیں، وہ جو کہیں مَیں بُرا نہیں مناؤں گا۔ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے بھی منظور نظر تھے اور آصف علی زرداری کی بھی مونچھ کا بال بنے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ بلاول بھٹو زرداری بھی کسی دوسرے انکل کے تو خلاف ہو سکتے ہیں، لیکن رحمن انکل پر جان چھڑکتے ہیں اس لئے ایسے شخص کا سینیٹ میں ہونا پورے نظام کی خوش قسمتی ہے۔۔۔میرا اتنا کہنا تھا کہ شیدے کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گزر گئے۔ ’’بابو جی یہ آپ کہہ رہے ہیں؟‘‘۔ اس نے حیرت سے پوچھا:مجھے پہلی بار شیدے کی آنکھوں میں اپنے لئے غیظ و غضب محسوس ہوا۔ مَیں نے خود کو سنبھالا اور کہا: ’’شیدے میرا مطلب ہے سینیٹ اُن کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ ’’بابو جی یہ کیسا تجربہ ہے جس کا فائدہ کبھی عوام کو نہیں ہوتا۔ خیر آپ کہتے ہیں تو مان لینا ہوں، بات صرف رحمن ملک کی نہیں، اُن سب لوگوں کی ہے جو عوام کی بات کرتے ہیں، جمہوریت کا نام لیتے ہیں، مگر عوام کے لئے کرتے کچھ نہیں، بابو جی مجھے ایک بات کی بہت خوشی ہوئی ہے‘‘۔۔۔ شیدے کے اس جملے نے مجھے چونکا دیا، کبھی خوش نہ ہونے والا شیدا آخر کس بات پر خوش ہوا؟

مَیں نے حیرت سے پوچھا: ’’شیدے وہ کیا؟‘‘ پرویز رشید کے جیتنے کی ،مجھے ڈر تھا کہیں مسلم لیگ (ن) والے ہی انہیں نہ ہروا دیں‘‘۔ شیدے نے کہا۔ مَیں نے اس کی طرف حیرت سے دیکھاکہ کہیں مذاق تو نہیں کررہا، مگر وہ سنجیدہ تھا۔ ’’تم کیسی باتیں کررہے ہو، پرویز رشید بھلا کیوں ہارتے، وہ تو میاں صاحب کے پنج پیاروں میں شامل ہیں‘‘۔ شیدے نے پھر مجھے چونکا دیا۔۔۔’’بابو جی اسی وجہ سے تو ڈر تھا کہ انہیں میاں صاحب سے ملاقات کے لئے ترسے ہوئے ارکان اسمبلی کہیں، اپنا رقیب سمجھ کر ہرا ہی نہ دیں‘‘۔۔۔ لیکن تمہارے لئے اس میں خوشی کی بات کیا ہے؟ مَیں نے شیدے سے پوچھا: ’’بس بابو جی، ٹی وی پر ان کا چہرہ دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے، پھر جس طرح وہ عمران خان کے میاں نواز شریف کے خلاف ہر بیان کے بعد مزاحیہ چہرہ بنا کر ان پر طنزکرتے ہیں، اس سے پنجابی فلموں میں سلطان راہی اور مصطفےٰ قریشی کا ٹاکرا یاد آ جاتا ہے۔ اگر وہ کہیں ہار جاتے اور وزیر نہ رہتے تو ساری رونق ہی ختم ہو جاتی۔ میری خواہش ہے کہ شیریں مزاری انہیں دفتر جا کے مبارکباد دیں، کیونکہ شیریں مزاری کا ڈنکا بھی پرویز رشید کی وجہ سے بج رہا ہے۔ وہ ٹی وی پر آکر عمران خان کے خلاف بیان دیتے ہیں تو ٹی وی چینلوں کو مجبوراً شیریں مزاری کا موقف بھی لینا پڑتا ہے‘‘۔۔۔ شیدے کی باتیں بھی لاجواب کر دینے والی ہوتی ہیں۔

مَیں خوش تھا کہ شیدے نے یہ نہیں پوچھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں، لیکن میری یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی، شیدے نے اچانک سوال داغ دیا’’بابو جی زیادہ تر تو وہی لوگ سینیٹرز بنے ہیں، جنہیں ان جماعتوں نے ٹکٹ دیئے تھے، جن کے پاس اسمبلیوں میں ووٹ موجود تھے، پھر ہارس ٹریڈنگ کا شور کیوں مچایا گیا۔ وہ بے چارہ نسیم جاوید تو ووٹ ڈالنے ہی نہیں آیا، جس پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا تھا اور یہ خبریں بھی آتی تھیں کہ اس نے دو کروڑ روپے بھی لے لئے ہیں‘‘۔ شیدے کی بات میں کافی وزن تھا۔ مَیں خود بھی یہ سوچنے لگا کہ جس بڑے پیمانے پر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا شور مچا، بات 22 ویں ترمیم لانے تک پہنچ گئی، اسے دیکھتے ہوئے تو انتخابات میں کئی اَپ سیٹ ہونے چاہئیں تھے، مگر ایسا تو کچھ نہیں ہوا، مسلم لیگ (ن) جو ہارس ٹریڈنگ کے خلاف آئینی ترمیم لانے کے لئے سب سے زیادہ متحرک تھی۔ پنجاب میں کلین سویپ کر گئی، وفاقی سطح پر بھی اس کی نشستیں عین توقع کے مطابق رہیں۔

پی ٹی آئی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے اس کی تین نشستیں جا سکتی ہیں، مگر اسے اپنی عددی اکثریت کے لحاط سے مکمل سیٹیں مل گئیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کامیاب رہے اور بلوچستان میں حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ جیت گئے۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی مشترکہ حکمت عملی تھی کہ ہارس ٹریڈنگ کا اس قدر شور ڈالا جائے کہ بکنے اور خریدنے والے خوفزدہ ہو جائیں۔ یہ بات اس لئے بھی درست نظر آتی ہے کہ اس بار جتنا واویلا ہوا اور علی الاعلان کروڑوں روپے میں ووٹ بیچنے اور خریدنے کی باتیں ہوئیں، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں، مگر آخر میں کیا ہوا، کھودا پہاڑ، نکلا چوہا کے مصداق پیسے کے زور پر سینیٹر بننے والا کوئی غیر سیاسی کردار سامنے نہیں آ سکا، جس طرح پراپرٹی ڈیلر کسی پلاٹ یا مکان کی غیر معمولی قیمت لگا کر بیچنے اور لینے والے ووٹوں کا دماغ خراب کر دیتے ہیں، اِسی طرح موجودہ انتخابات میں بھی ووٹوں کی کروڑوں میں قیمتوں کا گوشوارہ جاری کرکے لینے اور دینے والوں کے لئے مشکلات کھڑی کر دی گئیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ عمران خان نے ٹکٹ کے لئے 15 کروڑ روپے کی آفر کرنے والے جس شخص کا ذکر کیا ہے، وہ بھی کوئی فرضی کردار ہے، جسے اسی نفسیاتی حربے کے لئے استعمال کیا گیا۔شیدے جیسے پاکستانیوں کے ہاتھ تو کچھ نہیں آتا، لیکن وہ سیاست میں دلچسپی ضرور لیتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات کی ویسے تو عام پاکستانی کو سمجھ بھی نہیں آتی کہ یہ گورکھ دھندہ کیا ہے۔ کون کیسے ووٹ حاصل کرتا ہے اور ایک ایک ووٹ کروڑوں میں کیوں بکتا ہے، عام پاکستانی تو یہی سوچتا ہے کہ جب اس کے ووٹ کی قیمت دو ٹکے کی نہیں، تو ان کے نمائندوں کا ووٹ اتنا مہنگا کیوں ہو جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ دو لاکھ بندے مل کر ایک رکن اسمبلی بناتے ہیں۔ دو کروڑ روپے کو دو لاکھ پر تقسیم کریں تو فی کس دو ٹکے ہی آتے ہیں، مگر چونکہ ایک رکن اسمبلی سب کا حصہ ہڑپ کرنا چاہتا ہے، اس لئے کروڑوں روپے مانگ لیتا ہے۔ پاکستانی جمہوریت کرپٹ تو تھی، لیکن یہ ناکام اب ہوئی ہے جب شیدے ریڑھی والے جیسے پاکستانیوں میں بھی اس کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

کل مَیں نے اپنی پنجابی غزل کا مطلع درج کیا تھا۔ بہت سے دوستوں نے پوری غزل کی فرمائش کی ہے۔ غزل حاضر ہے۔

اک چنگیر تے کھاون والے بہتے نیں

کوٹھا اک تے ڈھاون والے بہتے نیں

جتھے لوکاں نوں روٹی وی لبھ دی نئیں

اوتھے جشن مناون والے بہتے نیں

ظالم دی گردن نوں کوئی وی نہیں نپ دا

اوویں رولا پاون والے بہتے نیں

نفرت دے بھانبڑ توں بچنا سوکھا نئیں

ایتھے تیلی لاون والے بہتے نیں

ایتھے جیہڑا سچ بولے ٹنگیا جاوے

چوٹھے نوں بچاون والے بہتے نیں

مزید : کالم


loading...