موسمیاتی تبدیلیاں، گیس سے خبردار!

موسمیاتی تبدیلیاں، گیس سے خبردار!

  



محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے اور اس سے اگلے ہفتے کے دوران مزید برف باری اور بارش ہو گی،جس کی وجہ سے موسم بھی سرد ہو گا،محکمہ کے مطابق بارش کا سبب بننے والی مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل ہو گئی ہیں۔ پاکستان میں اس بار غیر معمولی موسمی تبدیلیاں محسوس کی گئی ہیں کہ گرمیوں میں سخت گرمی تھی اور برسات کا موسم بھی قریباً خشک گزر گیا تھا اس کے بعد دسمبر میں بھی توقع پوری نہ ہوئی اور بوائی والی بارشیں بھی نہ ہو پائیں، بالآخر یہ سلسلہ فروری میں شروع ہوا، جس نے خشک سردی تو ختم کی، لیکن دورانیہ بڑھا دیا، تاحال بہار میں بھی بارش اور سردی چل رہی ہے۔اس غیر معمولی موسم نے گندم کی فصل کو کئی علاقوں میں فائدہ اور بعض حصوں میں نقصان بھی پہنچایا ہے۔پاکستان میں یہ موسمی تبدیلیاں اب محسوس کی جا رہی ہیں، جبکہ یہ صورت حال دنیا بھر کو درپیش ہے۔ امریکہ، بعض دوسرے مغربی ممالک اور چین تک برف باری کے طوفان سے متاثر ہوئے اور آسٹریلیا جیسے براعظم کے بعض شہر گرمی سے متاثر ہوئے ہیں،ماحولیات کے ماہرین نے یہ سب تبدیلیاں خود انسانوں کی طرف سے پیدا کردہ قرار دیں کہ غلط حرارت کے غیر معمولی استعمال سے پیدا ہونے والی گیسوں نے اوزان کی تہہ میں سوراخ کر دیا جو سورج کی تپش کو ایک حد میں رکھنے کے لئے قدرتی نظام ہے، زمین پر بسنے والے انسان اب بھی مضر گیسوں کے اخراج سے باز نہیںآ رہے اور یوں اوزان کے سوراخ میں اضافے کا ذریعہ بن رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایک طرف درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف موسموں میں غیر معمولی تغیر و تبدل پیدا ہو رہا ہے، برصغیر بھی اس سے متاثر ہے اور موجودہ صورت حال بھی اس کی غماز ہے۔ ماہرین ماحولیات نے مضر گیسوں کے اخراج کی پیداوار کو روکنے کی سفارش کی ہے۔

اس صورت حال کا اطلاق پاکستان پر بھی ہوتا ہے، لیکن یہاں ماحولیاتی آلودگی میں کسی کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ہمارا محکمہ ماحولیات کوئی کام نہیں کر رہا، الٹا ہمارے کئی ماحول مائع گیسوں والے بن رہے ہیں، جبکہ جنگل کی کٹائی کے باعث درختوں میں کمی بھی ایک وجہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے درجہ حرارت میں اضافہ اور گرمی کا دورانیہ بھی زیادہ ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ حکومت کو خصوصی طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے،یہاں نہ صرف درخت کاٹے جاتے ہیں، بلکہ شجرکاری مہم میں بھی دھوکا دہی کی جاتی ہے، ماحولیات کی بہتری ہی انسانیت کی بقا کے لئے لازم ہے۔

مزید : اداریہ


loading...