سینیٹ کے انتخابات

سینیٹ کے انتخابات

چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت سے سینیٹ کے لئے نمائندوں کا انتخاب مکمل ہو گیا ہے، البتہ فاٹا سے چار نمائندوں کا انتخاب ملتوی ہو گیا ہے۔ انتخابی گہما گہمی کے دوران اس سرد موسم میں بھی سیاسی درجہ حرارت گرم ہی رہا۔44 نشستوں کے غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن)نے پنجاب میں گیارہ کی گیارہ نشستیں جیت کر کلین سویپ کر دیا اور ساتھ ہی اسلام آباد کی دو سیٹیں بھی جیت لیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا ہے، اسے پانچ سیٹیں جبکہ ایم کیو ایم کودو نشستیں ملیں۔ سندھ سے چار سینیٹرزپہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے تھے جن میں سے پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اور سسی پلیجو جبکہ ایم کیو ایم کے بیرسٹر سیف علی اور نگہت مرزا بالترتیب ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی نشستوں پر منتخب ہوئے۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی تین تین سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔جے یو آئی اور بی این پی (مینگل ) کے حصے میں ایک ایک نشست آئی جبکہ ایک آزاد امیدوار منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) نے بلوچستان سے تین نشستیں تو لے لیں، لیکن اسے وہاں بڑا دھچکا بھی لگا۔اسے بلوچستان میں اپنے امیدوارسردار یعقوب ناصر کی آزاد امیدوار یوسف بادینی کے ہاتھوں شکست کے صدمے سے دو چار ہونا پڑا۔یہ مسلم لیگ (ن) کا بڑا نقصان رہا، کیونکہ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ سردار یعقوب کو بعض پار ٹی اراکین نے ہی ووٹ نہیں دیا۔بلوچستان میں ہی سپیکر جان محمد جمالی کی آزادحیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والی صاحبزادی ثنا جمالی کوبھی ہار کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار جیت گئیں۔

خیبر پختونخوامیں البتہ کافی گرما گرمی دیکھنے میں آئی،تحریک انصاف کو وہاں اسی الزام کا سامنا کرنا پڑا، جو وہ گزشتہ کافی عرصے سے حکومتی جماعت پر عائد کر رہی ہے۔ اپوزیشن نے تحریک انصاف جو کہ وہاں کی حکومتی جماعت ہے پر دھاندلی کا الزام لگایا، دونوں کے مابین کشیدگی کے باعث پولنگ کا عمل پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت کے لئے ملتوی رہا،بالآخر گفت و شنید کے ذریعے معاملات حل ہوئے اور پولنگ کے لئے مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد چار گھنٹے کی توسیع کردی گئی، اس لئے وہاں پولنگ کا سلسلہ رات 8بجے ختم ہوا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں چند ووٹ ہی پڑنے کے بعد پیپلزپارٹی، جے یو آئی اورقومی وطن پارٹی کے اراکین نے انتخابی طریقہ کارپر اعتراض لگانے شروع کر دئیے۔مخالفین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنے اراکین اسمبلی پرنظررکھنے کا اہتمام کیا ہے۔رات گئے ملنے والے نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے چھ سینیٹرز منتخب ہو گئے۔ پیپلز پارٹی،جے یو آئی(ف) ، جماعت اسلامی اور اے این پی کا ایک ،ایک سینیٹر اورمسلم لیگ (ن) کے دو سینیٹرز منتخب ہوئے ۔

سب سے بدترین صورت حال فاٹا میں دیکھنے میں آئی جہاں انتخابی عمل ہی معطل کر دیا گیا۔فاٹا میں انتخابی عمل میں تبدیلی کے لئے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب صدر مملکت کی طرف سے فاٹا میں ووٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق فاٹا اراکین اسمبلی چار کی بجائے ایک ووٹ کاسٹ کر سکتے تھے۔ 2002 میں مشرف دور میں صدارتی آرڈیننس کے تحت فاٹا اراکین کو ایک کی بجائے چار امیدواروں کو ووٹ دینے کا اختیار دیا گیا تھا حالانکہ وہ 2002سے قبل ایک ہی ووٹ دیتے تھے، اس طرح وہاں متناسب نمائدگی ختم کر دی گئی،اس وقت تو کسی نے اس کا کوئی خاطر خواہ نوٹس نہ لیا، لیکن اب انتخابات سے پہلے شور و غل مچ گیا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) کو یہ احساس ہوا کہ شاید اُس فارمولے کے تحت وہ وہاں کوئی بھی سیٹ حاصل نہیں کر پائے گی۔گو کہ صدارتی آرڈر میں وضع کیا گیا طریقہ پہلے سے طے شدہ طریقے سے بہتر تھا، لیکن اسے جاری کرنے کاوقت بظاہر مناسب نہیں تھا۔اگر کسی کی ایسی کوئی خواہش تھی تو اس پر پہلے عمل کر لیا جاتا،یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہمارے سیاست دانوں کووقت پر کام کرنے کی کوئی خاص عادت ہی نہیں رہی۔ اس کے بعد فاٹا میں ریٹرنگ آفیسر نے بغیر کسی سٹے آرڈڑ کے خود ہی پولنگ نہ کرانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ان کو لگتا تھا کہ ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ان کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل روک دیا،جس کو بخیر و خوبی پورا کیا جا سکتا تھا۔

یاد رہے کہ سینیٹ کے کل 104ا رکان میں سے 52 سینیٹرز 11 مارچ کوریٹائر ہو رہے ہیں، چار سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں، اس لئے جمعرات کو سینیٹ کی 48نشستوں پر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی دارالحکومت میں انتخابات ہونے تھے، لیکن فاٹا کی چار نشستوں پر انتخابات نہیں ہو سکے۔بہر حال ان سب مسائل کے باوجودچاروں صوبوں اور اسلام آباد میں سینیٹ انتخابات ہو گئے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نتائج بھی تقریباً توقع کے مطابق اور بلوچستان کے سوا پارٹیوں کی پوزیشن کے مطابق ہی آئے ہیں، جو طوفان چند سیاست دانوں نے مچا رکھا تھا وہ بھی تھم گیا۔ سینیٹ کے انتخابات ہونے سے پہلے چاروں طرف ہارس ٹریڈنگ کا شوربھی بلند کیا جا رہا تھا، تحریک انصاف خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹنگ کی حامی تھی اور اسے کافی شکوک و شبہات بھی تھے۔اس معاملے میں وزیراعظم نے بھی ان کا ساتھ دیا اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے آئین میں ترمیم کا ارادہ تو کر لیا، لیکن سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بائیسویں آئینی ترمیم کی مخالفت کر دی۔عمران خان نے صدر آصف زرداری سے رابطہ کر کے ان کی حمایت حاصل کرنی چاہی لیکن ان کی سنی نہیں گئی ، ہو سکتا ہے آئندہ کبھی یہ ترمیم ہو جائے۔اب صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی 27نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جبکہ مسلم لیگ(ن)26 سینیٹرز کے ساتھ ایوان بالا کی دوسری بڑی جماعت بن چکی ہے اور ایم کیو ایم آٹھ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ۔سینیٹ انتخابات کے دوران کہیں کہیں بے قاعدگیاں دیکھنے میں آئیں، الیکشن کمیشن کے کردار کو بھی بہت زیادہ سراہا نہیں جا سکتا اور حکومتی جماعت کے بعض فیصلوں سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ مُلک میں جمہوری نظام بہر طور مضبوط ہوا ہے ۔ہمارے اہل سیاست کو چاہئے کہ وہ بردباری اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کریں ، وقت پر ہی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کی طرف توجہ کریں، اچھی طرح غور و خوض کریں تاکہ جمہوریت کی گاڑی روں دواں رہے۔

مزید : اداریہ