پنجاب پولیس ۔۔۔ڈنگ ٹپاؤ محکمہ

پنجاب پولیس ۔۔۔ڈنگ ٹپاؤ محکمہ
پنجاب پولیس ۔۔۔ڈنگ ٹپاؤ محکمہ

  

اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس بینڈ کے بینڈ ماسٹر عبدالمجید کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی سیکیورٹی کا چارج دے دیا گیا ہے، یعنی وزیراعلیٰ ہاؤس کا سیکیورٹی چیف پولیس بینڈ کا بینڈ ماسٹر ہو گا، عبدالمجید کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہیں بطور خاص پولیس بینڈ کے لئے بھرتی کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 36برسوں سے اس ڈیوٹی پر مامور تھا ، مفروضہ یہ ہے کہ عبدالمجید نے اپنے کسی بڑے افسر کو خوش کیا تو اس نے اسے انتہائی حساس وزیراعلیٰ ہاؤس کا سیکیورٹی انچارج مقرر کردیا ، عبدالمجید 1978ء میں پولیس میں بھرتی ہوئے تھے اور 2008ء میں انہیں بینڈ ماسٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

ایک دوسری اخباری اطلاع کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا ہے کہ پنجاب میں لگ بھگ 147 مدرسوں کو بیرونی امداد ملتی ہے،چونکہ پولیس کی کوئی پکی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں ہے، اس لئے ان مدرسوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، واضح رہے کہ 30جنوری کو سینیٹر صغریٰ امام کے ایک سوال پر پنجاب پولیس کی جانب سے ادھوری معلومات فراہم کرنے پر سینیٹ کمیٹی نے آئی جی پنجاب کو طلب کیا تھا، جنہوں نے کمیٹی سے ادھوری معلومات فراہم کرنے پر معافی کی درخواست بھی کی اور یقین دلایا کہ اس ضمن میں اصل اعداد و شمار جلد پیش کردیئے جائیں گے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک دہشت گردوں کی زد پر ہے ، عوام کا خون خشک ہے اور ہماری پولیس ہے کہ اس سنجیدہ معاملے پر بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اپنائے ہوئے ہے، مثال کے طور پر مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ شہر کے مختلف حصوں اور اداروں کے مرکزی دروازوں پر تعینات پولیس اور دیگر فورسز لوگوں کی تلاشی لیتے ہوئے قرآنی آیات کا ورد کر رہے ہوتے ہیں، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جان جانے کے خوف نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف دینی مدرسوں میں ہی نہیں پولیس سمیت بہت سے اداروں میں مذہبی رجحان کے حامل ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں، جو بذات خود کسی بھی وقت عوام کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں ، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور نیول بیس کراچی سمیت بہت سے اداروں پر ہونے والے حملوں میں ایسے عناصر کی ملی بھگت کا انکشاف ہوا ہے، جو اندر سے دہشت گردوں کے معاون بنے ہوئے تھے۔یہ کتنے اچنبھے کی بات ہے کہ پاکستان سمیت دُنیا بھر سے پاکستانی مدرسوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہاہے اور ہماری پولیس ہے کہ اس کے پاس ان مدرسوں کے صحیح کوائف اور ان کی سرگرمیوں پر کوئی actionable intelligence ہی نہیں ہے، اس سے بڑھ کر اچنبھے کی بات یہ ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے اس قدر محتاط ہیں ماڈل ٹاؤن سے جاتی عمرہ بھی ہیلی کاپٹر پر جاتے ہیں، لیکن محکمہ پولیس کا حال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا سیکیورٹی چیف ایک ایسے اہلکار کو لگایا گیا ہے، جو گزشتہ 36برسوں سے بینڈ ماسٹر کے طور اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے!

پچھلے دِنوں سول بیورو کریسی کی پرفارمنس کو بڑھانے کے لئے ہونے والی ورکشاپ میں ایک اہم نکتہ اٹھایا گیا کہ ضلع رحیم یار خان یا راجن پور میں بھی کوئی پوسٹنگ ٹرانسفر ہونی ہوتی ہے، تو آئی جی پنجاب کی منظوری لازمی ہوتی ہے ،نکتہ اٹھانے والے کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب لاہور میں بیٹھ کر کیسے اندازہ کر سکتا ہے کہ رحیم یار خان یا راجن پور میں کام کرنے والا کوئی افسر کیسا ہے ، ان صاحب کی تجویز یہ تھی کہ یہ اختیار مقامی انتظامیہ کو دیا جانا چاہئے تاکہ وہ صحیح اور مناسب شخص کا انتخاب کر سکے، اسی ورکشاپ میں وفاقی وزیر احسن اقبال کا فرمانا تھا کہ ناکام ریاست کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی پولیس تو ہوتی ہے، لیکن اگر کسی شہری کو جان کا خطرہ لاحق ہو تو اسے پولیس پر انحصار کرنے کے بجائے پرائیویٹ سیکیورٹی ارینج کرنا پڑتی ہے !

مزید : کالم