پنجاب اسمبلی ،مفاد عامہ سے متعلق مختلف مسودات قوانین کثرت رائے سے منظور

پنجاب اسمبلی ،مفاد عامہ سے متعلق مختلف مسودات قوانین کثرت رائے سے منظور

 لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مفاد عامہ سے متعلق مختلف مسودات قوانین منظور کر لئے گئے ہیں جن میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے کم عمری کی شاد ی کی ممانعت‘ فیملی کورٹس ‘ مسلم فیملی لاز ، ‘ تقسیم غیر منقولہ جائیداد اور مالیہ اراضی کے ترمیمی مسودات کے قوانین کثرت رائے سے منظور کئے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی غیر محفوظ ادارہ جات اور ( ریگولیشن ) ساؤنڈ سسٹمز پنجاب کے مسودات قوانین سمیت قیام امن عامہ پنجاب ‘ پنجاب آرمز ‘دیواروں پر اظہار رائے کی ممانعت اور کریمینل پراسیکیوشن سروس کے ترامیمی مسودات قوانین بھی ایوان میں کثرت رائے کے ساتھ منظور کر لئے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز اپنے مقررہ وقت صبح نو بجے کی بجائے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اس اجلاس میں سرکاری کارروائی کے دوران قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحاریک کی منظوری کے بعد صوبائی وزیر قانون میاں مجتبی شجاع الرحمن نے مسودہ قانون ( ترمیم ) مالیہ اراضی پنجاب 2015‘ مسودہ قانون ( ترمیم ) تقسیم غیر منقولہ جائیدار پنجاب 2015‘ مسودہ قانون ( ترمیم ) فیملی کورٹس 2015‘مسودہ قانون ( ترمیم کم سنی شادی ممانعت2015‘ مسودہ قانون ( ترمیم ) مسلم فیملی لاز 2015ء کثرت رائے سے منظور کر لئے ۔ اس کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے غوروخوض کے بعد ایوان میں منظوری کے لئے پیش کئے جانے والے چھ مسودات قوانین کی بھی منظوری دیدی گئی ہے ۔ صوبائی وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجا ع الرحمن نے مسودہ قانون سکیورٹی غیر محفوظ ادارہ جات پنجاب 2015‘ مسودہ قانون ( ترمیم )پنجاب آرمز 2015‘ مسودہ قانون ( ترمیم ) قیام امن عامہ پنجاب 2015‘ مسودہ قانون( ترمیم ) ( تشکیل ،فرائض و اختیارات) کریمینل پراسیکیوشن سروس پنجاب 2015‘ مسودہ قانون( ریگولیشن ) ساؤنڈ سسٹمز پنجاب 2015ء اور مسودہ قانون ( ترمیم ) دیواروں پر اظہار رائے کی ممانعت پنجاب 2015ایوان میں پیش کئے جنہیں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن آ رہا ہے اور حکومت خواتین کے حقوق کے لئے ان بلز کو منظور کرانا چاہتی ہے اگر ان میں کوئی کمی یاکوتاہی رہ بھی جائے گی تو اپوزیشن اس پر ترامیم لے آئے ہم انہیں دور کر لیں گے جس کے بعدسپیکر نے ان بلوں کی منظوری کے لئے کارروائی کا آغاز کیا تو اپوزیشن رکن خدیجہ عمر فاروقی نے اجلاس کے کورم کی نشاندہی کردی اور تعداد پوری نہ ہونے پر پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بھی بجائی گئیں لیکن پانچ منٹ کے بعد تعداد پوری ہونے پر قائمقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے دوبارہ اجلاس کی کارروائی شروع کر دی ۔علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات اور بہبود آبادی کے محکموں کے وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات چودھر ی عبد الوحید ارائیں اور صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی بیگم ذکیہ شاہنواز نے ایوان کو بتایا ہے کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں 226خواتین قیدی ہیں اور ان جیلوں میں آنے والے قیدیوں کے ٹیسٹ لئے جاتے ہیں گزشتہ سال 31341قیدیوں کے ٹیسٹ لئے گئے جن میں سے 198میں ایڈز کی تصدیق ہوئی جو قیدی کسی طرح کی تعلیم میں امتحان پاس کرتا ہے تو اسکے تناسب سے اسکی سزا میں کمی کر دی جاتی ہے ۔ عائشہ جاوید کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں آنے والے قیدیوں کے ٹیسٹ لئے جاتے ہیں 2014-15ء میں 31341قیدیوں کے ٹیسٹ لئے گئے جن میں سے 198میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ۔ ان قیدیوں کانیشنل ایڈ ز کنٹرول پروگرام کے تحت علاج معالجہ کیا جاتا ہے اور ان قیدیوں کو دوسرے اسیران سے علیحدہ رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں دو سے تین مرتبہ قیدیوں کے ٹیسٹ لئے جاتے ہیں اگر کسی مریض کا علاج جیل میں ممکن نہ ہو تو اسے ہسپتال بھی منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ حکومتی رکن میاں محمد رفیق نے استفسار کیا کہ محکمہ بہبود آباد ی کی طرف سے اقدامات کے باوجود آبادی کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا ، ہر دس سال بعد مردم شماری لازم ہے لیکن حکومت کیوں اس سے گریزاں ہے اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے حکومت بھی خوفزدہ ہے ۔ صوبائی وزیر ذکیہ شاہنواز نے کہا کہ اس کے لئے نیا محکمہ بنایا گیا ہے پہلے اس محکمے کے پاس صرف تنخواہوں کے لئے پیسے ہوتے تھے لیکن اب اس محکمے کو 3.6ارب روپے ملے ہیں جس سے معاملات کو درست کر رہے ہیں ۔ اب محکمے میں افرادی قوت ‘ ادویات کو پوری کرنے کے علاوہ آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ آبادی کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی اور اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو 2050ء تک یہ دو گنا ہو جائے گی اسی لئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس شعبے میں ایمر جنسی لگائی ہے ۔عائشہ جاوید کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں 226خواتین قیدی ہیں ۔صوبائی وزیر جیل نے ایوان کو بتایا کہ پورے پنجاب میں کوئی بھی ایسا مرد و خاتون قیدی نہیں جو اپنی سزا مکمل ہو جانے کے باوجود جرمانے یا دیت کی ادائیگی کی وجہ سے قید ہو ۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں منشیات کی روک تھام کے لئے سرچ آپریشن اور‘ سرپرائز وزٹ ہوتے ہیں اور اس میں ملوث 16ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے یہ معاملات سو فیصد تو درست نہیں ہوئے لیکن اس میں بڑی حد تک بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منشیات لانے کے لئے جو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں میں ایوان میں اس کا ذکر نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جرائم پیشہ افراد موبائل فون کے ذریعے جیلوں میں بیٹھ کر اغواء برائے تاوان سمیت دیگر جرائم کراتے تھے لیکن ہم نے جیلوں میں موبائل کی ممانعت کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا ہے ۔ اسی تناظر میں دس جیلوں میں جیمبرز لگا دئیے گئے ہیں جبکہ وقتاً فوقتاً سرپرائز وزٹ اور سرچ آپریشن بھی کیا جاتا ہے ۔انہوں نے مدیحہ رانا کے سوال کے جواب میں بتایا کہ محکمہ ریو نیو کے پاس جیل خانہ جات کے 8کروڑ روپے پڑے ہوئے ہیں ،راولپنڈی میں زمین کے حصول کے لئے ڈی سی او اور آئی جی لیٹر لکھ چکے ہیں ۔ انہوں نے ارشد ملک ایڈووکیٹ کے سوال کے جواب میں کہا کہ مخیر حضرات جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لئے خود کام کراتے ہیں اس لئے اس کا آڈٹ نہیں کرایا جاتا جو قیدی کسی طرح کی تعلیم میں امتحان پاس کرتا ہے تو اسکے تناسب سے اسکی سزا میں کمی کر دی جاتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...