اہلسنت و الجماعت نے اپنے کارکنوں کے قتل کیخلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا

اہلسنت و الجماعت نے اپنے کارکنوں کے قتل کیخلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا

لاہور ( آئی این پی ) ااہلسنت والجماعت نے انے کارکنوں کے قتل کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں پرامن یوم احتجاج منایا، حکومت ہمارے بلاجواز گرفتار رہنماوں کو فوری رہا کرے،اہلسنت نسل کشی بہت ہوچکی،اگر حکومت تحفظ نہیں کرسکتی تو ہم اپناتحفظ کرنابھی جانتے ہیں اور دہشت گردوں کو بھی لگام دے سکتے ہیں،حکمران طاقت کے نشے میں اندھے اور بہرے ہوچکے ہیں،دہشت گردی کے خلاف یک طرفہ آپریشن کس قانون کے تحت کیا جارہاہے،حکومت اپناشاہی تخت بچانے کے لیے اہلسنت کو قربانی کا بکرا مت بنائیں،پاکستان میں حزب اللہ کے پرچم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،مجلس وحدت مسلمین کالعدم سپاہ محمد کا متبادل ہے،حکومت قانونی گرفت میں لے،ان خیالات کااظہار اہلسنت والجماعت کے سربراہ علامہ محمد احمد لدھیانوی ،سیکرٹری جنرل ڈاکٹرخادم حسین ڈھلوں نے جمعہ کو مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ کراچی اور وفاقی دارالحکومت اہلسنت کے مقتل کا منظر پیش کررہے ہیں،اہلسنت والجماعت روزانہ کی بنیاد پرجنازے اٹھا چکی ہے،ہزاروں جنازے اٹھانے کے باوجودہماری امن پسندی اورصبر کا دامن تھامے رکھنا محب وطن ہونے کی علامت ہے،ہم پاکستان میں امن کے خواہاں ہیں لیکن مسلسل لاشے نہیں اٹھاسکتے،قابل افسوس بات ہے کہ اہلسنت والجماعت کی مسلسل نسل کشی پر حکمران ابھی تک خواب غفلت میں ہیں سینکڑوں جنازے اٹھانے کے باوجود آج تک نہ کبھی مذمتی الفاظ کہنے کی توفیق ہوئی اور نہ ہی کبھی تعزیت کی،اہلسنت کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلو ک ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہاہے،اگر حکمران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نوٹس نہ لیا تو ہم بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں گے،ایک طرف اہلسنت کو ماوراء عدالت قتل کیا جارہاہے،پنجاب میں قانون نافذکرنے والے ادارے چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرکے بلاجواز گرفتاریاں کررہی ہے،دوسری جانب اہلسنت رہنماوں کو نہتا کیا جارہاہے،جس سے دہشت گرد کھلے عام نشانہ بنارہے ہیں،ڈاکٹرفیاض کا قتل حکومت سندھ پر قرض ہے،کراچی آپریشن کو ناکام بنانے کے لیے ڈاکٹرفیاض کو نشانہ بنایا گیا ہے،اہلسنت والجماعت حکومت سے پرامن طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ پنجاب میں بے گناہ گرفتار افراد کو فوری رہاکیا جائے،اہلسنت قاتلوں کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے،شیعہ سنی کے نام پر ہونے والے فسادات میں ملوث کے خلاف سخت کاروائی کی جائے،دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے یک طرفہ کاروائی فوری بند کی جائے،بصورت دیگر اہلسنت والجماعت سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوگی،دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سنی شیعہ خانہ جنگی شروع کی جارہی ہے اہلسنت کی پرامن پالیسی نے ایسے عناصر کے عزائم کو ناکام بنایاہواہے،حکومت دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے افراد کو قانونی گرفت میں لائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...