سینٹ الیکشن، ہارس ٹریڈنگ کا شور، پھر بھی پی ٹی آئی پورا حصّہ لے گئی

سینٹ الیکشن، ہارس ٹریڈنگ کا شور، پھر بھی پی ٹی آئی پورا حصّہ لے گئی

تجزیہ چودھری خادم حسین

سینٹ کے انتخابات مکمل ہو کر بھی نامکمل رہے کہ چاروں صوبوں اور وفاق کے نمائندے تو چن لئے گئے البتہ فاٹا کے رہ گئے کہ قانونی سقم تلاش کر لیا گیا۔ اب جلد فیصلہ ہوا تو یہ فاٹا کے چار رکن منتخب ہو جائیں گے دوسری صورت میں باقی حضرات کا تو حلف ہو جائے گا البتہ چار ووٹروں کی کمی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں رکاوٹ کا باعث بن جائے گی۔ سیاسی قائدین نے انتخاب سے پہلے اور انتخاب والے روز خود ہی ہارس ٹریڈنگ کا اتنا زیادہ ہنگامہ کیا کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے منتخب اراکین بھی مشکوک نظر آنے لگے ہیں۔ بہرحال اس سارے شور اور ہنگامے سے پاکستان تحریک انصاف نے فائدہ حاصل کیا اور خیبر پختونخوا سے اپنے حصے کی چھ نشستیں حاصل کرلیں، مخالفین نے خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت پر دھاندلی کے الزام لگائے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں الزام لگانے والوں نے مشکوک اراکین کو سفید پرچیاں دیں جو انہوں نے بیلٹ بکس میں ڈالیں اور بیلٹ پیپر باہر لا کر قیادت کے حوالے کئے جو بااعتماد حضرات کو دیئے گئے اور انہوں نے اپنے بیلٹ پیپر سمیت وہ بھی بیلٹ بکس میں ڈالے۔

سینٹ کے انتخابات میں اس مرتبہ جو ہنگامہ ہوا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اب شاید کچھ ٹھنڈک محسوس ہو اور عمران خان فخر کریں کہ انہوں نے ہدف حاصل کرلیا ہے، تاہم یہ بات ثابت ہوئی کہ تحریک انصاف جس الیکشن کمیشن پر الزام لگا کر اسے ختم کرنے کی بات کرتی ہے اسی کے تحت کرائے گئے انتخابات کے ذریعے سینٹ میں حصہ لیا ہے۔ اب شاید وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں واپسی کا کوئی راستہ اختیار کرے گی۔ قومی اسمبلی، سندھ اور پنجاب اسمبلی میں اس کے اراکین ووٹ ڈالنے نہیں گئے۔

فاٹا کا انتخاب رک جانے کی وجہ سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی مخمصے میں پڑ گیا ہے۔ فیصلہ 11مارچ سے پہلے ہوا تو حلف کے بعد سربراہ اور نائب کا انتخاب ہو جائے گا اور اگر نہ ہوا تو پھر قانونی مشکل ہوگی اور اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

بہرحال اس وقت تک جو پوزیشن سامنے آئی اس کے مطابق آصف علی زرداری سب پر بھاری والا قصہ ہے کہ پیپلزپارٹی 27سینیٹروں کے ساتھ اب بھی ایوان میں واحد اکثریتی جماعت ہے، اب اگر زرداری کی فن کاری ملاحظہ ہو تو وہ اپنے حلیفوں سمیت سینٹ میں اکثریت حاصل کر چکے ہیں، ان کی اپنی جماعت کے 27ارکان ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چار، ایم کیو ایم کے 8، اے این پی کے 7اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے پانچ ہیں اور یہ سب مل کر اکیاون بنتے ہیں۔ دوسری طرف مُسلم لیگ (ن) کے اپنے سینیٹر 26ہیں، پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے تین، بلوچستان نیشنل پارٹی کے تین، بلوچستان نیشنل پارٹی(اے) کے دو اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے۔ آٹھ آزاد، تحریک انصاف کے چھ اور فاٹا سے آنے والے چار ہوں گے۔ یہ سب ملا کر اکیاون بن جاتے ہیں۔ یوں تعداد برابر ہو جاتی ہے بشرطیکہ مسلم لیگ (ن) ان تمام منتخب اراکین کو اپنے ساتھ ملا لے، لیکن یہ ممکن نہیں، دوسری طرف گروپ میں حلیفوں کے درمیان چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین پر اتفاق لازم ہے۔ چیئرمین پر تو ممکن ہے لیکن ڈپٹی چیئرمین کے لئے مشکل ہوگی اور ہر جماعت اپنا نمائندہ چاہے گی۔ اس صورت حال سے مسلم لیگ (ن) فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ فی الحال تو صورت حال اس کے حق میں نہیں۔تو کیا سینٹ کے سربراہ اور نائب کے لئے بھی افہام و تفہیم کا کھیل ہوگااور آصف علی زرداری اپنی باتیں منوائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے راجہ ظفر الحق کا نام سامنے آ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق اے نائیک اور عبدالرحمن ملک کے نام ہیں جبکہ چودھری اعتزاز احسن ڈارک ہارس یعنی چھپے رستم ہیں ان پر اتفاق رائے بھی ہو سکتا ہے مسئلہ ڈپٹی چیئرمین کا ہے جو چھوٹے صوبے کے نام پر مولانا فضل الرحمن، اے این پی اور ایم کیو ایم بھی چاہے گی۔ صورت حال دلچسپ ہے تاہم فاٹا کے لئے نافذ کئے گئے آرڈی ننس کی آئینی حیثیت کا فیصلہ ضروری ہو گیا ہے اور آئندہ کا میدان اسی پر سجے گا، اب غور فرمائیں تو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے ہارس ٹریڈنگ کے مواقع ہیں لیکن پارٹی ڈسپلن پر سختی سے عمل کرایا گیا تو مشکلات پیش آئیں گی۔

مزید : تجزیہ