سی اینڈ ڈبلیو میں ترقی پانیوالے چیف انجینئروں نے پر کشش سیٹوں کیلئے بھاگ دوڑ شروع کر دی

سی اینڈ ڈبلیو میں ترقی پانیوالے چیف انجینئروں نے پر کشش سیٹوں کیلئے بھاگ دوڑ ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)سی اینڈڈبلیو میں بطور چیف انجنئیرعہدوں پرترقی پانے والے انجنئیروں نے پرکشش سیٹوں کے حصول کے لیے تگ و دو شروع کردی ہے۔ اینٹی کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں کے الزامات میں ملوث محمد طارق وسہیل رضا ھائی ویزمیں جبکہ فرحت منیر بلڈنگز میں تعیناتی کے خواہاں بتائے جاتے ہیں۔صوبائی سیکرٹری کو سفارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ معلوم ہواہے کہ سپرنٹنڈنٹ انجنئیر سے چیف انجنئیر کے عہدے پر حال ہی ترقی پانے والے انجنئیروں نے پرکشش عہدوں کے حصول کے لیے کاوشیں شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیو پنجاب میں چیف انجنئیرکی پانچ پوسٹیں ہیں۔ چیف انجنئیر ھائی ویز نارتھ ، چیف انجنئیر ھائی ویز ساؤتھ ، چیف انجنئیر بلڈنگز نارتھ ، چیف انجنئیر بلڈنگز ساؤتھ اور چیف انجنئیر ڈسٹرکٹ سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ۔ان میں ھائی ویز نارتھ کو سب سے پرکشش تصور کیا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر ھائی ویز ساؤتھ تیسرے پر بلڈنگز نارتھ ، چوتھے پر بلڈنگز ساؤتھ اور پانچویں نمبر پر چیف انجنئیر ڈسٹرکٹ سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ کے عہدے پرکشش سمجھے جاتے ہیں۔میڈیا ذرائع کے مطابق گریڈ 19سے 20میں ترقی پانے والے متذکرہ بالا چاروں انجنئیر اینٹی کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں میں ملوث رہے ہیں۔ لیکن اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے انہیں پھر بھی پرموشن کے لیے کلین چٹ دیدی ہے۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق انجنئیر محمد طارق اینٹی کرپشن منڈی بہاوالدین کے مقدمہ نمبر 13/11میں ملوث ہیں۔ اس بات کا اعتراف خود انجنئیر محمد طارق بھی کرتے ہیں کہ ان کے خلاف اینٹی کرپشن نے مقدمہ نمبر 13/11میں جوڈیشل ایکشن منظور کرنے کی سفارش کی ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہو ں نے ہیڈ رسول سے بھیرہ تک بننے والی 80کلومیٹر طویل سٹرک کی تعمیر میں بدعنوانی کرتے ہوئے ادائیگیوں کی سفارش کی۔اور ان کی سفارش پر 63کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اسی طرح ترقی پانے والے ڈائریکٹر برجیز سہیل رضا اور صفدر علی کے خلاف شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حافظ آباد کے نزدیک کوٹ ہرا سے ونیکے تارڑ ، جلال پوربھٹیاں روڈ پر پل کی تعمیر میں دوکروڑ10لاکھ روپے کی کرپشن کے الزام میں اینٹی کرپشن حافظ آباد میں مقدمہ نمبر11/14درج کیا گیا۔اور یہ مقدمہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرٹیکنیکل کے پاس زیر التوا ہے۔ اسی طرح ترقی پانے والے چوتھے انجنئیر فرحت منیر کے خلاف کرپشن کے الزامات پر مبنی انکوائری نمبر 1404/13زیر التوا بتائی جاتی ہے۔ مذکورہ انکوائری میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ فرحت منیر اور دیگر انجنئیروں نے پنڈی بھٹیاں ٹول پلازے کی رقم میں خوربرد کی۔ ذرائع کے مطابق ڈی سی او حافظ آباد نے بھی مذکورہ خردبرد کی تصدیق کی ۔ لیکن اینٹی کرپشن نے فرحت منیر کا نام اس انکوائری سے ڈراپ کرنے کی سفارش کردی۔ذرائع کے مطابق ترقی پانے والے چیف انجنئیروں کی ابھی تک پوسٹنگ نہیں ہوسکی۔ لیکن انہوں نے باقاعدہ نوٹیفکیشن سے قبل ہی من چاہی پوسٹنگ کے لیے تگ و دو شروع کردی ہے اور صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات کو سفارشیں کروائی جارہی ہیں۔ تاکہ پرکشش سیٹ کے لیے ان کی سمری ارسال کی جائے ۔ اس ضمن میں چیف محمدطارق اور سہیل رضا ھائی ویز نارتھ اور ھائی ویز ساؤتھ کے لیے جبکہ فرحت منیر بلڈنگز نارتھ کے عہدے کے لیے کوشاں بتائے جاتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر