کرپشن کا الزام: پنجاب سوشل سروسز بورڈ کی خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر کیخلاف تحقیقات شروع

کرپشن کا الزام: پنجاب سوشل سروسز بورڈ کی خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر کیخلاف تحقیقات ...

لاہور(اپنے نمائندے سے)پنجاب سوشل سروسز بورڈ میں غیر قانونی طورپر تعینات اور سرکاری خزانے سے بھاری تنخواہوں کی وصولی کے انکشاف پر محکمہ انٹی کرپشن نے خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیاہے ،محکمہ انٹی کرپشن میں درخواست دیتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کی ایم پی اے سلمیٰ شاہین بٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ 1992میں ضلع حافظ آباد میں شروع ہونے والے ایک پروجیکٹ میں پروگرام آفیسر صباء انجم نامی خاتون تعینات ہوئی لیکن پروجیکٹ کے ختم ہونے کے بعد بھی مذکورہ خاتون نے بہت چالاکی سے اپنا نام صباء انجم سے بدل کر صباء زاہد رکھ لیا اور بغیر کسی کے آڈر اورمحکمہ کے چندافراد کی ملی بھگت سے پنجاب سوشل سروسز بورڈ میں پروگرام آفیسر کے طور پر بھرتی ہو گئی ،جبکہ پنجاب سوشل سروسز بورڈ میں پروگرام آفیسر کی کوئی سیٹ ہی نہ تھی اور نہ بجٹ میں اس کی کوئی گنجائش تھی،مذکورہ خاتون نے دھوکہ دہی سے بغیر کسی آڈر کے اپنے آپ کو اسسٹنٹ ڈائریکٹرکے طور پر تبدیل کروا لیا بلکہ اس نے محکمہ کے ہی چند افراد کی ملی بھگت سے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کے آڈر بھی کروا لئے ،یہ کام مذکورہ خاتون نے محکمہ میں عرصہ دراز سے کوئی اتھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی من مانی کرکے ڈی جی سوشل ویلفیئر کو غلط بریف کرکے یہ کام کراتی رہی کیونکہ محکمہ میں کئی سالوں سے کوئی پنجاب سوشل سروسز بورڈ کا کوئی چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے ڈی جی سوشل ویلفیئر جو کہ چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں اور ڈی جی سوشل ویلفیئر ،پنجاب سوشل ویلفیئر جو کہ چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں اور ڈی جی و سیکریٹری پنجاب سوشل سروسز بورڈ کو غلط بریف کرکے اسے ترقی دلواتا رہا ،جس کو کئی اخبارات نے بھی ہائی لائٹ کیا اور اس خاتون کو نوٹسز بھی جاری ہوئے لیکن طارق جاوید اس سے ہر بار بھاری رقم لے کر اور اتھارٹی کو دھوکہ دیتا رہاہے،مذکورہ خاتون کی مبینہ طور پر ڈگریاں بھی جعلی ہیں ،اس لئے میری ڈی جی انٹی کرپشن سے اپیل ہے کہ مذکورہ خاتون کے خلا ف محکمہ میں کی جانے والی کرپشن کی انکوائیری کی جائے تاکہ ترقیوں سے محروم اور ڈگریاں لے کر دھکے کھانے والے نوجوانوں کو ان کا حق مل سکے۔درخواست گزار کی درخواست پر ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب کو تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا گیا ہے محکمہ انٹی کرپشن میں زیر سماعت انکوائری کا ڈائری نمبر 3454-2/5-15ہے دوسری جانب مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ان کو حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر