ایل ڈی اے کوقرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری منصبوبے پر کام سے روکدیا گیا

ایل ڈی اے کوقرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری منصبوبے پر کام سے روکدیا گیا

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے لاہو رڈویلپمنٹ اتھارٹی کو 20مارچ تک قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری منصوبے پر کام سے روکتے ہوئے جیل روڈ فوار ہ چوک سے ہر قسم کی رکاوٹیں ہٹانے اور محکمہ ماحولیات سے این او سی لئے بغیر کام شروع کرنے پرڈی جی ایل ڈی اے کو حکم دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف انکوائری کر کے رپورٹ آئندہ سماعت تک عدالت میں پیش کی جائے۔ شہری فہد ملک کی جانب سے دائردرخواست پر سماعت شروع ہوئی تودرخواست گزار کے وکیل سعد امیر نے موقف اختیار کیا کہ 7کلو میٹر لمبے سگنل فری منصوبے کے لئے ایک ارب 30لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جبکہ یہ رقم مالی سال کے بجٹ میں منظور ہی نہیں کی گئی تھی ،قرطبہ چوک تا لبرٹی چوک سگنل فری کوری ڈور کے لئے محکمہ ماحولیات سے سروے نہیں کروایا گیا اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے ہزاروں درخت کاٹے جا رہے ہیں جس سے ماحولیات آلودگی میں اضافہ ہو گا،سگنل فری کوری ڈور منصوبے کو روکنے کا حکم دیا جائے، پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عوامی مفاد کیلئے بنایا جا رہا ہے جبکہ منصوبے کا ماحولیاتی سروے کرنے کیلئے محکمہ ماحولیات نے بھی کام شروع کر دیا ہے، انوار حسین نے مزید موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار شہری کی نیک نیتی جاننے کیلئے لازمی ہے کہ درخواست گزار اپنی ٹیکس ریٹرن عدالت میں جمع کرائے، واپڈا اور پی ایچ اے کے افسروں نے عدالت کو بتایا کہ جیل روڈ فوارہ چوک پر درخت کاٹنے سے ان کا تعلق نہیں ہے، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کیلئے فنڈز پنجاب حکومت کی طرف سے نہیں دیئے جا رہے بلکہ یہ منصوبہ ایل ڈی اے کا اپنا ہے اور اس کی فنڈنگ بھی ایل ڈی اے کی ہی ذمہ داری ہے، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا کہ 20مارچ تک منصوبے پر کسی قسم کا کوئی تعمیراتی کام نہ کیا جائے اور جیل روڈ فوارہ چوک پر منصوبے کی تعمیر کیلئے پیدا کی گئی رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے تا کہ شہریوں کو ٹریفک کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑا، عدالت نے محکمہ ماحولیات کو حکم دیا کہ وہ پہلے منصوبے کا ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے سروے کرے، عدالت نے قرار دیا کہ اگر محکمہ ماحولیات منصوبے کو کلیئر قرار دے کر این او سی جاری کر دیتا ہے تو اس منصوبے کی تعمیر کی جا سکتی ہے، پنجاب حکومت کے اعتراض پر عدالت نے درخواست گزار کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنی ٹیکس ریٹرن عدالت میں جمع کرائے ، پراجیکٹ کے ڈائریکٹر خالد عزیز نے عدالت میں اعتراف کیا کہ انہوں نے محکمہ ماحولیات سے سروے کرائے اور این او سی حاصل کئے بغیر ہی منصوبے پر کام شروع کر دیاجس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو حکم دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف انکوائری کر کے رپورٹ آئندہ سماعت تک عدالت میں پیش کی جائے ۔

ایل ڈی اے

مزید : صفحہ آخر


loading...