نچلی ذات کی 17 سالہ لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں آگ لگا دی گئی

نچلی ذات کی 17 سالہ لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں آگ لگا دی گئی
نچلی ذات کی 17 سالہ لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں آگ لگا دی گئی

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) دنیا کو روشن خیالی اور ترقی پسندی کا دھوکہ دینے والے بھارت کا اصل چہرہ ان دلخراش جرائم کی صورت میں ہر روز سامنے آتا ہے جن میں انسانیت کی بدترین تذلیل کی جاتی ہے۔ ریاست اتر پردیش میں خوشی نگر شہر کے گاﺅں پتھر دیوا میں بھی ایک ایسا ہی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک نوجوان دلت لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں آگ کے شعلوں کی نظر کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سترہ سالہ لڑکی کو اس کے گاﺅں کے طاقتور لوگوں کی طرف سے تعلیم جاری رکھنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے بیان کے مطابق دھیرج یادو، اس کے بھائی اروند اور دنیش اور باپ رام پرویش یادو زبردستی لڑکی کے گھر میں داخل ہوئے اور اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے آگ لگادی۔

کتنی فیصد خواتین کا حمل کیوں ضائع ہو جاتا ہے ؟ تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

لڑکی کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کی بہن انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے والی تھی جبکہ اونچی ذات کے کچھ نوجوان اپنی بری تعلیمی کارکردگی کے مقابلے میں لڑکی کی شاندار تعلیمی کارکردگی سے حسد کرتے تھے اور اسے تعلیم چھوڑنے کیلئے دھمکیاں دے رہے تھے۔ انہوں نے لڑکی کی ایک تصویر حاصل کرکے اسے بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی لیکن جب اس نے تعلیم چھوڑنے سے انکار کردیا تو مجرموں نے دن دہاڑے گھر میں گھس پر اس پر تیل چھڑک کر آگ لگادی۔ پولیس کے مطابق لڑکی کا 70فیصد جسم جھلس گیا ہے اور اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...