برطانیہ کے پاکستانی نژاد سیاستدان کو شادیوں کے شوق نے بڑی مشکل میں پھنسا دیا

برطانیہ کے پاکستانی نژاد سیاستدان کو شادیوں کے شوق نے بڑی مشکل میں پھنسا دیا
برطانیہ کے پاکستانی نژاد سیاستدان کو شادیوں کے شوق نے بڑی مشکل میں پھنسا دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی لیبر پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے پاکستانی نژاد کاﺅنسلر وسیم ظفر خواتین کے حقوق کے محافظ اور ترقی پسند خیالات کے مالک ہونے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن اپنی سابقہ بیوی کی رضامندی کے بغیر نئی شادی کرنے اور شادی سے متعلق برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر وہ سخت مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

برطانوی جریدے ”میل آن لائن“ کے مطابق 33 سالہ وسیم ظفر نے اپنی پہلی شریک حیات فراز بیگم کو برطانوی قانون کے مطابق طلاق دئیے بغیر ایک خاتون ٹیچر عائشہ امداد سے شادی کرلی۔ بعدازاں انہوں نے پہلی شادی کے خاتمے سے متعلق کچھ شواہد بھی پیش کئے جو ایک مقامی امام کی طرف سے جاری کئے گئے طلاق نامے کی صورت میں سامنے آئے مگر ان شواہد کو برطانوی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے۔ برطانوی قانون کے مطابق وسیم ظفر اور فراز بیگم کی شادی تاحال ختم نہیں ہوئی جبکہ اس دوران وہ ایک اور خاتون سے شادی کرکے غیر قانونی فعل کے مرتکب ہوچکے ہیں۔

بچے پیدا کرنا منع ہے ، آسٹریلوی کمپنی نے اپنے ملازمین پر انوکھی پابندی لگا دی

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ برطانوی قانون کے مطابق طلاق نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ شریک حیات کے ساتھ مالی و دیگر معاملات طے نہیں کئے ہیں اور ایسی صورت میں ایک اور شادی کرکے انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کی پہلی شریک حیات بھی برطانوی شہری ہیں اور اب وہ قانونی طریقے کے مطابق طلاق کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ وسیم ظفر کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ اور عوامی حلقوں میں منفی تاثر پیدا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ انہیں لیبر پارٹی سے نکال دیا جائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس