خوشگوار اور طویل ازدواجی زندگی کیلئے جیون ساتھی کی تلاش کرتے ہوئے اس ایک بات کو ضرور مد نظر رکھیں، ماہرین نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

خوشگوار اور طویل ازدواجی زندگی کیلئے جیون ساتھی کی تلاش کرتے ہوئے اس ایک بات ...
خوشگوار اور طویل ازدواجی زندگی کیلئے جیون ساتھی کی تلاش کرتے ہوئے اس ایک بات کو ضرور مد نظر رکھیں، ماہرین نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) شریک حیات کی تلاش کے لئے آپ کن باتوں کو اہم سمجھتے ہیں، شکل و صورت، تعلیم، مزاج، پسند ناپسند یا سماجی رتبہ؟ شاید آپ ان تمام باتوں کو ہی اہم سمجھتے ہوں گے لیکن اس اہم ترین بات کی طرف کبھی دھیان نہیں گیا ہوگا کہ جسے ایک امریکی ماہر نفسیات نے خوشگوار اور پائیدار ازدواجی زندگی کا اصل راز قرار دیا ہے۔

”بزنس انسائیڈر“ کے مطابق ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ماہر نفسیات پیٹر پیئرسن جوڑوں کو ازدواجی مشاورت فراہم کرتے ہیں اور شادی شدہ افراد کے معاملات زندگی کا کئی سالوں سے مطالعہ و مشاہدہ کررہے ہیں۔ پیٹر کہتے ہیں کہ وہ موزوں ترین شریک حیات کی تلاش میں مصروف افراد کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی ازدواجی زندگی کے لئے جو چیز اہم ترین ثابت ہوگی وہ ہے ”بنیادی اقدار“۔ پیٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی سالوں پر مشتمل تجربے اور بے شمار جوڑوں کے ازدواجی حالات کے مشاہدے سے معلوم کیا ہے کہ شادی کے بعد ہر بات پر کمپرومائز ہوسکتا ہے لیکن ”بنیادی اقدار“ پر کمپرومائز نہیں ہوسکتا، اور اکثر گھرانوں میں تلخی اور بالآخر ازدواجی سفر کے اختتام کی وجہ ”بنیادی اقدار“ کا اختلاف ہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”بنیادی اقدار“ آپ کے وہ سماجی نظریات ہیں کہ جن کا آپ کے رویے اور سوچ پرگہرا اثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ انتہائی سادگی پسند ہیں اور انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کے برعکس شریک حیات کے لئے زندگی کی رنگینیاں، زرق برق اور بناﺅ سنگھار اہم ترین باتیں ہیں، تو ایک مضبوط ازدواجی رشتے اور خوشگوار زندگی کا امکان بہت مشکل ہے۔ اسی طرح اگر ایک تعلیم اور شعور کو بے حد اہم سمجھتا ہے جبکہ دوسرا دولت اور سماجی رتبے کو اصل چیز گردانتا ہے تو وقت کے ساتھ یہ اختلاف بھی کشیدگی اور تصادم کی صورت اختیار کرے گا، جس کا نتیجہ ازدواجی تعلق کے اختتام کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پیٹر پئیرس کا کہنا ہے کہ آپ دیگر امور کو ضرور مد نظر رکھیں، لیکن یہ مت بھولیں کہ اگر ”بنیادی اقدار“ میں اختلاف ہے تو باقی سب باتیں بے معنی ہو کر رہ جائیںگی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس