خدا کی قدرت! بہتا دریا راتوں رات غائب ہوگیا، سارا پانی کہاں گیا؟ حقیقت جان کر انسانی عقل دنگ رہ جائے

خدا کی قدرت! بہتا دریا راتوں رات غائب ہوگیا، سارا پانی کہاں گیا؟ حقیقت جان کر ...
خدا کی قدرت! بہتا دریا راتوں رات غائب ہوگیا، سارا پانی کہاں گیا؟ حقیقت جان کر انسانی عقل دنگ رہ جائے

  

میکسیکو سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) میکسیکو میں گزشتہ دنوں ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا ہے جہاں ایک رات میں پورے کا پورا دریا غائب ہو گیا۔ میکسیکن ریاست ویراکروز (Veracruz) میں بہنے والے اس دریا کا نام دی اٹویک ریور(The Atoyac River) تھا۔ ایک رات کو اس دریا کے کنارے بسنے والے ہزاروں لوگ سوئے تو دریا معمول کے مطابق بہہ رہا تھا لیکن جب وہ صبح اٹھے تو وہاں دریا کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ بس ایک پانی کی خشک گزرگاہ موجود تھی جو پتا دے رہی تھی کہ کبھی یہاں سے دریا گزرتا تھا۔ ہوا یوں کہ اس رات ایک زلزلہ آیا۔ زلزلے کی وجہ سے جہاں سے دریا شروع ہوتا تھا وہاںزمین میں30میٹر طویل چوڑی دراڑ پڑ گئی اور وہ پانی جو اس دریا کو جنم دے رہا تھا اس دراڑ میں زیرزمین جانے لگا جس سے یہ دریا خشک ہو گیا۔ یہ دریا ویرکروز ریاست کے 10ہزار افراد کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ دراڑ سین فرمین(San Fermin) نامی علاقے میں پڑی جہاں سے دریا کا آغاز ہوتا ہے اور یہ وسطی میکسیکو کی 8میونسپلٹیوں سے گزرتا اور انہیں پانی فراہم کرتا ہے۔

مزید جانئے: سبحان اللہ ! خدا کی قدرت، مچھیروں کی نظروں کے سامنے اچانک سمندر کا پانی ریت میں ’تبدیل ‘ ہو گیا ، حیران کن وجہ بھی سامنے آگئی

سین فرمین کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ”زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ جیسے ہمارے پیروں کے نیچے پوری زمین ہی لرز رہی ہو، زلزلے کے وقت تیز اور خوفناک قسم کی آواز بھی آ رہی تھی۔ اس آواز کا تعین کرنے کے لیے ہم لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اورآواز کے تعاقب میں دریا پر جا پہنچے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ دریا کے بیچ ایک گہری اور چوڑی دراڑ پڑ چکی تھی اور تمام پانی اس میں اتر رہا تھا جس سے یہ خوفناک آواز پیدا ہو رہی تھی۔رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے ادارہ ہنگامی صورتحال برائے تحفظ عوام (Emergencies for Civil Protection) کے ڈائریکٹر ریکارڈو مازا لیمن(Ricardo Maza Limon) نے بھی واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ”ہم نیشنل واٹر کمیشن کے ساتھ مل کر اس واقعے کی سائنسی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے کے لوگوں کو پانی کی قلت سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس