زہرہ شاہد کو الطاف حسین کی ہدایت پر ”ٹھوک “ دیا گیا تھا ،تحریک انصاف کے دھرنے پر بھی ”ٹھوک دو “کا حکم ہوا:عارف علوی

زہرہ شاہد کو الطاف حسین کی ہدایت پر ”ٹھوک “ دیا گیا تھا ،تحریک انصاف کے ...
زہرہ شاہد کو الطاف حسین کی ہدایت پر ”ٹھوک “ دیا گیا تھا ،تحریک انصاف کے دھرنے پر بھی ”ٹھوک دو “کا حکم ہوا:عارف علوی

  

کراچی(ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے مرکزی سینئر رہنما ورکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما مصطفی کمال نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر جو الزامات لگائے ہیں ، وہ ساری باتیں تحریک انصاف سالوں سے کہتی آرہی ہے، اسی طرح کے الزامات صولت مرزا نے بھی ایم کیوایم پر لگائے تھے ، صولت مرزا کو جب یہ احساس ہوا کہ ایم کیو ایم نے صرف اسے استعمال کیا ہے اور وہ اب اسے نہیں بچائیں گے تو صولت مرزا نے مزید انکشافات کیے۔ اس طرح کے الزامات ماضی میں بھی لگائے جاتے رہے ، لیکن کسی وجہ سے ان الزامات کی تحقیق کو روک دیا جاتا اور ان پر مٹی ڈال دی جاتی۔روزنامہ خبریں کے مطابق وہ ہفتہ کو تحریک انصاف کراچی کے سیکرٹریٹ ”انصاف ہاﺅس “ نرسری میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔

ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف جب تحریک انصاف نے دھرنا دیا تو الطاف حسین نے پارٹی کے لوگوں کو ہدایت کی کہ انہیں جاکر ”ٹھوک دو “ اور ہمارا یہی ماننا ہے ہے کہ الطاف حسین کی ہدایت کے مطابق ہماری پارٹی کی سینئر رہنمازہرہ شاہد کو ”ٹھوک دیا “ گیا ہے ، جن کے قاتلوں کا بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے ۔ حال ہی میں بلدیہ ٹاﺅن کی جے آئی ٹی رپورٹ کہتی ہے کہ اس سانحہ کی اصل وجہ بھتہ نہ دینا تھی۔ ایک سوال کے جواب میں عارف علوی نے کہا کہ چائنا کٹنگ کا ذکر خود الطاف حسین نے اپنی تقریروں میں کیا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے لوگ چائنا کٹنگ میں ملوث ہیں۔ 2007 ءمیں جب میں ایک مقامی ٹی وی چینل پر ٹاک شو میں شعیب بخاری نے مجھے دھمکیاں دیں جس کے گواہ سینئر صحافی سجاد میر بھی ہیں۔ الطاف حسین حلقہ این اے 250 سے تحریک انصاف کے جیتنے پر انتہائی غمزدہ اور ناخوش تھے اور الطاف حسین نے اپنا غصہ رابطہ کمیٹی پر نکالا اور رابطہ کمیٹی کو توڑ بھی دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت بار بار کہتی ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے تو ماضی میں کافی لمبا عرصہ آپ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ رہے ، آپ نے ان سازشوں کو کیوں بے نقاب نہیں کیا ۔ ہم مطالبات کرتے ہیں کہ اس اہم مسئلے پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور وقت کے تعین کے ساتھ اس کی بھرپور تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

مزید : کراچی