صاف پانی کمپنی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر قائم کی گئی، کاشف پڈھیار

صاف پانی کمپنی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر قائم کی گئی، کاشف پڈھیار

لاہور (فلم رپورٹر)پنجاب صاف پانی کمپنی کے چیئرمین کاشف پڈھیارکا کہنا صاف پانی کمپنی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر قائم کی گئی ہے جس کا مقصد پنجاب کے دیہی علاقہ جات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے جوعالمی ادارہ صحت کے میعار کے مطابق ہو اور حکومتِ پنجاب نے اس منصوبے کے لئے 70 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے جس کے تحت پراجیکٹ کو 2018 میں مکلم کرلیا جائے گا اس پراجیکٹ سے صوبہ پنجاب کی 4کروڑ سے زائد آبادی کوفائدہ ہوگا ان باتوں کا اظہار انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام ’رابطہ‘کے سلسلے ’ترقی کی راہ پر ‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کی تکمیل کیلئے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کے علاقوں بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان اور لودھراں میں کام کا آغاز کیا گیا جو تیزی سے جاری ہے۔ اسی طرح مرحلہ وار صوبے کے تمام اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگااورعالمی ادارہ صحت کے میعار کے مطابق ہر فرد کو روزانہ تین لیٹر صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائیگا۔

چئیرمین پنجاب صاف پانی پراجیکٹ کاشف پڈھیار نے اس موقع پر اس امر کا اظہار بھی کیا کہ ابتدائی مراحل میں صوبہ میں واٹر سروے کروایا جا رہا ہے اور تمام علاقوں کی جی آئی ایس میپنگ کی جا رہی ہے جس سے صوبے میں کہیں بھی زیرِ زمین پانی کی موجودگی اور میعار کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔یہ سروے جون 2016میں مکمل ہو جائے گا۔

جبکہدوسرے مرحلے میں سروے سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق مختلف نوعیت کے واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیا جائیں گے۔جن میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ریورس آسموسس(RO) پلانٹس بھی شامل ہیں۔پلانٹس کی تنصیب کے بعد کمپنی 3 سے 5 سال تک اپنے کنٹریکٹرز کے ذریعے انہیں نہ صرف چلائے گی بلکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ بھی کرے گی۔ اس موقع پر چیئرمین ،پنجاب صاف پانی نے سامعین کو مزید بتایا کہ عوام میں صاف پانی کی اہمیت، فلٹریشن پلانٹس کے استعمال اور دیکھ بھال کے حوالے سے شعور اور آگاہی پیدا کرنے کیلئے کمیونٹی آرگنائزیشنز بنائی جارہی ہیں جو پانچ سال پر محیط آگاہی مہم چلائیں گی۔ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والے اس انٹرویو کے میزبان شکیل گیلانی اور پروڈیوسر کاشف غوری تھے۔

مزید : کلچر