ناروے،77افرادکے قاتل کی قید تنہائی ختم کرنے کی اپیل

ناروے،77افرادکے قاتل کی قید تنہائی ختم کرنے کی اپیل

اوسلو (این این آئی)چھ درجن سے زیادہ افراد کے قاتل اینڈرز بریوک کے وکیل نے کہاہے کہ وہ اپنے مؤکل کی تنہائی کی قید ختم کرنے کی درخواست کے لیے انسانی حقوق کی یورپی عدالت کا رخ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بریوک نے 2011 میں 77 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا جن میں زیادہ تر جواں سال نوجوان تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اینڈرز بریوک کو انتہائی سخت پہرے کے ساتھ انفرادی طور پر ایک جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ بریوک تنہائی اور سکون سے تنگ آچکا ہے اسی لیے اس نے ریاست (ناروے) کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی اس نے الزام لگایا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ غیر انسانی اورہتک آمیز معاملہ کر رہی ہے جو انسانی حقوق کے یورپی میثاق کی خلاف ورزی ہے۔

اینڈرز کے وکیل اوشٹائن اسٹورویک نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ اگر ہم مجبور ہوئے تو پھر کیس کو انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں اٹھائیں گے انفرادی قید نے اینڈرز کی نفسیاتی حالت کو نقصان پہنچایا ہے۔

مزید : عالمی منظر