رن مرید اور پنجاب اسمبلی

رن مرید اور پنجاب اسمبلی
رن مرید اور پنجاب اسمبلی

  

مغرب تو فیصلہ کر چکا کہ عورت اور مرد برابر ہیں، لیکن پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں جو دو انتہاؤں کے درمیان آباد ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ یہاں بھی عورت اور مرد برابری کر سکیں؟۔۔۔ بظاہر تو یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ آپ کو یہ دو انتہائیں ہر جگہ نظر آئیں گی۔ ایک طرف روایتی مذہبی طبقہ ہے، جہاں قبائلی حلقوں میں مذہبی و سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر یہ طے کر لیتی ہیں کہ عورتیں ووٹ نہیں ڈالیں گی اور اس پر عمل در آمد بھی ہوتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو چاہتا ہے کہ عورت کو اُسی طرح مرد کے برابر آزادی ہونی چاہیے، جیسے کہ مغرب میں حاصل ہے۔ اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ مغربی آزادیوں کا کیا نتیجہ نکلا؟ امریکہ اور یورپ ترقی یافتہ معاشرہ ہے۔ ہم اِن کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی سے روزمرہ کی زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں،لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ہر بات میں ان کی تقلید کریں۔ امریکہ میں طلاق کی شرح 55 فیصد اور یورپ میں 60 فیصد ہے۔ مغربی ممالک اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ وہاں ہر ادارہ آئین میں درج اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان میں چند اداروں کے سوا ہر ادارہ تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پنجاب اسمبلی میں خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنے کے لئے جو بل منظور کیا گیا ہے، اس میں کون سی شق غیر اسلامی ہے۔ اس سوال کے جواب میں علمائے کرام کے تبصروں اور مؤقف تک اپنی بساط کے مطابق رسائی کی بھرپور کوشش کی، لیکن یہ پتا نہ چل سکا کہ اس میں علماء کے نزدیک کون سی بات خلاف اسلام ہے۔ اس پر مولانا فضل الرحمان کی حسب موقع گفتگو اور حس مزاح کی تو داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے بآواز بلند یہ فقرہ چست کر دیا کہ پنجاب اسمبلی کے مردزن مرید ہیں۔۔۔ لیکن اس بیان سے بھی یہ رہنمائی نہیں ملتی کہ قانون غیر اسلامی کیسے ہے؟ ہمارے ہاں کچھ علماء یا مذہبی طبقے کا عموماً یہی اسلوب ہے کہ جو بات پسند نہ ہو، اسے خلاف اسلام قرار دے دیتے ہیں۔ اسلام میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں،بلکہ عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق اسلام میں حاصل ہیں۔

دورِ جہالت میں بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ اسلام میں اس کو سختی سے منع فرمایا گیا۔ اسلام میں شادی کے لئے عورت کی پسندیدگی، بلکہ مرضی تک پوچھنے کا حکم ہے، لیکن ہم نے اسے اپنی جھوٹی انا اور غلط روایات کی بھینٹ چڑھا دیا،پھر بھی اس طبقے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہیں پسند کریں اور جس کو چاہیں ناپسند۔ اس پر اتفاق ہو سکتا ہے اور اختلاف بھی۔ قانون یا رائے کو خلاف اسلام قرار دینے کے لئے یہ بتانا لازم ہے کہ اس میں کون سی بات غیر اسلامی ہے۔ ہر بات اپنی حقیقت میں اسلامی ہے، اگر وہ خلاف اسلام نہیں۔اس بحث میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کئی معاملات میں اہل علم اختلاف رکھتے ہیں اور یہ اختلاف خلاف اسلام نہیں۔ ہمارے ہاں مختلف ققہی مکابتِ فکر میں بہت سے مسائل ہیں، جن پر ایک رائے ممکن نہیں۔ جیسے ایک فقہہ رائے کے حق میں ہو اور دوسرا اس سے مختلف رائے رکھتا ہو۔ رائے کے اختلاف کو خلاف اسلام نہیں کہا جا سکتا، لیکن ہمارے ہاں عام رجحان یہ بھی ہے کہ رائے کے اختلاف کو بھی خلاف اسلام کہہ دیتے ہیں جو تکلیف دہ ہے۔

میرے دوست یہ نشان دہی نہیں کر سکے کہ اس میں کون سی بات غیر اسلامی ہے۔ خاندان کے نظام میں میاں اور بیوی ایک دوسرے کے معاون ہیں یا حریف؟ میاں بیوی نے ایک دوسرے سے حقوق چھیننا ہیں یا خاندان کی سلامتی اور پائیداری کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ آپ جس سے محبت کرتے ہیں، اس کے لئے جان تک دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ہم محبوب کی پسند کو اپنی پسند پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی خوشی پر اپنی خوشی کو قربان کر دیتے ہیں اور اس میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ جو رشتہ اس بنیاد پر قائم ہوتا ہے ، اس میں حقوق کی بات بے معنی ہو جاتی ہے، جو گھر اس اساس پر کھڑا ہو ، وہاں تشدد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تاہم اختلاف ہو سکتا ہے۔یہاں ڈر کی بات یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے خاتون خاندان کے نظام کو چیلنج نہ کر دے اور فساد کا امکان پیدا نہ ہو جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں حقوق کی جنگ کو مغرب کے زیرِ اثر بنایا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے علمبرداروں نے شوہر اور بیوی کے تعلق کو حریفا نہ کشمکش میں بدل دیا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اس سے خاندانی نظام کے کمزور ہو جانے کا خطرہ ہے۔ بہر حال سماج میں خواتین کے خلاف تشدد کے لئے قانون سازی لازم ہے اور ریاست اس بارے میں ہر سخت قدم اُٹھا سکتی ہے۔ اگر معاشرہ اس قانون کو اپنی ماں بہن کو محفوظ بنانے کے لئے دیکھے تو قبول کرے گا اور اگر دوسرے کی ماں بہن کی نظر سے دیکھے گا تو مخالفت کرے گا۔ بہر حال پنجاب حکومت اس قانون سازی پر مبارک باد کی مستحق ہے۔ گھریلو تشدد کو البتہ مغرب کی بجائے، اپنے سماجی پسِ منظر میں سمجھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاست ہر معاملے میں قانون سازی کا حق رکھتی ہے۔

مزید : کالم