چین کو برطرفیوں میں نئی لہر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، ژو شاؤ شی

چین کو برطرفیوں میں نئی لہر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، ژو شاؤ شی

بیجنگ(آئی این پی/شنہوا) ایک سینئر اقتصادی منصوبہ ساز اہلکار نے اتوار کو کہا کہ چین صنعتی زائد گنجائش میں کمی کر کے اقتصادی بحالی کے حصول میں 1990ء کی دہائی میں دیکھی جانیوالی ملازمتوں کی برطرفی میں ایک اور اضافہ نہیں دیکھے گا ۔قومی ترقیاتی و اصلاحات کمیشن کے سربراہ ژو شاؤ شی نے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طورپر میں چین کی روزگار مارکیٹ کے بارے میں پر امید ہوں انہوں نے اپنی پر امیدی کی پانچ وجوہ بتائیں ۔ پہلی ، بعض کارخانوں نے اپنے ملازمین کی برطرفی سے گریز کرنے کے لئے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی سمیت اقدامات کئے ہیں ،ثانیناً ،اگرچہ چین کی پیداواری رفتار کسی طورسست پڑ گئی ہے لیکن اس کی اقتصادی مجموعی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے ، مجموعی ملکی پیداوار میں ایک فیصد پوائنٹ کا اضافہ 1.6ملین مزید روز گار کا مظہر ہے ، سوئم ، تیزی سے بڑھتی ہوئی سروس صنعت ،روزگار کے قیام کا قابل اعتماد ذریعہ ہے ، 2015میں سروس سیکٹر چین کی مجموعی ملکی پیداوار کا 50.5فیصد تھا ، پہلی مرتبہ یہ 50فیصد کی سطح کو تجاوز کر گیا ہے ، چوتھا ، جدت اور انٹر پنیور شپ کے بڑھتے ہوئے جذبے کا مقصد یہ ہے کہ مزید لوگ خود اپنا کاروبار شروع کررہے ہیں ،2015ء میں 4.4ملین نئے کاروباری اداروں کا اندراج کیا گیا جو کہ ہرروز 12ہزار نئے اداروں کا مظہر ہے ، پانچواں ،سمالی موبائیلٹی اورمعلومات کے تبادلے کی ترقی کے ساتھ عوام کے لئے اپنی اہلیت اور دلچسپی کے مطابق روز گار تلاش کرنا عوام کے لئے زیادہ آسان اور تیز ہے ، دنیا کی دوسری بڑی معیشت فاضل کارکنوں میں کمی کر کے اپنے صنعتی شعبے کو بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے ، ابتدائی پیشنگوئیوں کے مطابق کوئلے اورفولاد کے شعبوں میں مجموعی طوپر 1.8ملین کارکنوں کو برطرف کیا جائے گا ، خاندانوں اور معاشرے پر روز گار میں کمی کے اثرات میں کمی کرنے کے لئے مرکزی حکومت برطرف کئے جانے والے کارکنوں کو نئے روزگار کی تلاش میں آئندہ دو برسوں میں سو بلین ژوان (15.4بلین امریکی ڈالر ) مختص کرے گی ۔

مزید : عالمی منظر