ایران کا عراق جنگ کے دوران 700قیدی قتل کرنیکا اعتراف

ایران کا عراق جنگ کے دوران 700قیدی قتل کرنیکا اعتراف

تہران(این این آئی)ایران کی مجلس شْوریٰ کے ایک سرکردہ رکن نے اعتراف کیا ہے کہ 1980ء تا 1988ء کے دوران عراق پر حملے کے دوران المعارہ اور بصرہ شہروں میں در ازندازی کرتے ہوئے 600 سے 700 عراقی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے رکن پارلیمنٹ نادر قاضی بور کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ عراق جنگ کے دوران ہمارے فوجیوں نے عراق میں گھس کر چھ سے سات سو کے درمیان عراقی قیدیوں کو قتل کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ عراق جنگ کے دوران 13 افراد پر مشتمل ایک گروپ کے کمانڈر تھے۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مرشد اعلیٰ کی ہدایت پر ہم ان تمام عراقی قیدیوں کو ہلاک کر دیں جو جنگ کے نتیجے میں ایرانی فوج کے گرفتار کر لیے تھے۔انٹرنیٹ پر پوسٹ اس متنازع بیان میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قاضی بور کے بیان کو جنگی جرم کا اعتراف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس بیان کی تحقیقات کے لیے عالمی قوانین کو حرکت میں آنا چاہیے۔

مزید : عالمی منظر