چین ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی کسی صورت اجازت نہیں دے گا: صدر ژی جن پنگ

چین ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی کسی صورت اجازت نہیں دے گا: صدر ژی جن پنگ

بیجنگ(آئی این پی/شنہوا)صدر ژی جن پنگ نے ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کیخلاف خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی علیحدگی کو دوہرایا نہیں جانا چاہئے ،قومی قانون ساز اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے پہلے روز شنگھائی کے قانون سازوں کے ایک گروپ کے ساتھ شامل ہوتے ہوئے ژی نے کہا کہ ہم ’’تائیوان کی آزادی ‘‘ جیسی ہر قسم کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کو بھرپور طریقے سے روکیں گے۔ژی نے کہا کہ ہم اپنے ملک کی خودمختاری اور علاقائی یکجہتی کا دفاع کریں گے اور قومی علیحدگی کے تاریخی سانحے کو دوبارہ کبھی وقوع نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام چینی عوام کی مشترکہ خواہش اور ٹھوس عزم ہے ، یہ ہمارا عزم صمیم اورتاریخ اورعوام کے بارے میں یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ ژی نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ تائیوان کے بارے میں ہماری پالیسی واضح اور اصولی ہے اور یہ تائیوان کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوگی ،ڈیمو کریٹک پراگریسو پارٹی( ڈی پی پی ) کی امیدوار ٹسائی لنگ وین نے جنوری میں تائیوان کی قیادت کا انتخاب جیت لیا ، ٹسائی نے کیو من تنگ ( کے ایم ٹی) کے امیدوار ایرک شو کو ہرا دیا،کے ایم ٹی نے گذشتہ آٹھ برسوں تک تائیوان پر حکمرانی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں طرف کے ہم وطن آبنائے تائیوان بھر کے تعلقات کے پر امن فروغ کے خواہاں ہیں ہمیں انہیں مایوس نہیں کرنا چاہئے ، ہم سیاسی بنیاد کے طورپر1992ء کے اتفاق رائے کی پاسداری کریں گے اور کراس آبنائے تعلقات کے پر امن ترقی کی مسلسل پیشرفت کریں گے ،1992ء کے اتفاق رائے کو قبول کر کے ہی اور اس کے بنیادی منشاء کو تسلیم کر کے ہی طرفین مشترکہ سیاسی بنیاد حاصل کر سکتے ہیں اور اچھے میل ملاپ کو برقراررکھ سکتے ہیں ،1992ء کا اتفاق رائے آبنائے بھر کے تعلقات کی نوعیت کی واضح طورپر وضاحت کرتا ہے اور آبنائے بھر کے تعلقات کی طویل عرصے تک پر امن ترقی کی بنیاد ہے ۔ژی نے کہا کہ دونوں طرف کے ہم وطنوں کو چاہئے کہ کراس آبنائے تعلقات کی پر امن ترقی کے نتائج کا دفاع کریں ، چینی عوام کی عنفوان شباب کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ آبنائے بھر کے عوام کی طرف سے ٹھوس کوششیں کی جائیں ۔صدر ژی نے کہا کہ سر زمین چین تمام شعبوں میں آبنائے بھر کے درمیان تعاون اور تبادلوں کو مزید فروغ دے گا ، اقتصادی و سماجی ادغام کو وسیع کرے گا اور عام تقدیر والی کمیونٹی کے احساس کو فروغ دے گا ۔

مزید : عالمی منظر