وکلاء ہڑتال۔۔۔ سائلین خوار

وکلاء ہڑتال۔۔۔ سائلین خوار
 وکلاء ہڑتال۔۔۔ سائلین خوار

  

آئے روز وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے سائلین اور غریب لوگوں کو جو نقصان ہوتا ہے۔ اس کا احساس وکلاء کو نہیں، جب ایک سائل اپنے مقدمہ کی بابت فیصل آباد سے یا پھر اوکاڑہ اور قصور سے اپنے تین چار گواہان کے ساتھ اتنا سفر مع سفری اخراجات کے اور پھر ٹرانسپورٹ کے اس بے ہنگم نظام میں جگہ جگہ ٹریفک جام ہونے کے باوجود عدالت میں پیش ہوتا ہے اور اس کو صرف یہ لفظ سننے کو ملتا ہے کہ جناب آج وکلاء کی ہڑتال ہے اور آپ آئندہ ماہ کی فلاں تاریخ کو آئیے گا تو اس کے پاؤں سے زمین کھسکنے لگتی ہے اور ہڑتال بھی بلاجواز اور بغیر کسی اہم واقعہ کے ہوتی ہے، مثلاً ہڑتال اس لئے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سیٹ خالی کیوں ہے اور پھر اس لئے کہ ایک وکیل صاحب پر قصور ضلع میں قاتلانہ حملہ کیوں ہوا۔ اب ان دونوں ہڑتالوں میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا تقرر کرنے والے وزیراعلیٰ اپنے لاؤ لشکر سمیت بحفاظت پولیس اور پورے پروٹوکول کے ساتھ اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔

دوسری ہڑتال میں وکیل پر حملہ کرنے والے اورپرچہ درج کرنے والے ذمہ دار افسران اپنے آرام دہ دفتروں میں مزے سے بیٹھے ہیں، مگر مشکلات کا سامنا غریب عوام اور پریشان حال سائلین کو کرنا پڑتا ہے، جن کا ان واقعات سے دور دور کا تعلق بھی نہ ہے۔ حالانکہ وکلاء کی ایک بہت بڑی اکثریت جو اپنا کام ایمانداری سے کرنا چاہتی ہے۔ وہ اس ہڑتال کے خلاف ہوتے ہیں اور اس دن عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے مقدمات کی پیروی بھی کرنا چاہتے ہیں، مگر چونکہ بار کونسلز میں اور بار ایسوسی ایشن میں دو دھڑوں کی اکثریت ہے اور تمام وکلاء کو انہوں نے یرغمال بنا کر رکھا ہوتا ہے او ر تمام جائز و ناجائز فیصلے وہی کرتے ہیں۔

وہ اپنے جائز و ناجائز کام کروانے کے لئے ججوں پر پریشر بھی ڈالتے ہیں اور اپنی مرضی سے فیصلے بھی کرواتے ہیں اور ذرہ سی بات پر پورے ملک کا عدالتی نظام مفلوج بھی کروا دیتے ہیں،جبکہ انہی گروپوں کے اکثر صدور اور دیگر عہدیداران عام وکلاء کا کتنا بھی بڑا مسئلہ ہو۔ اس کو حل کروانے میں ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔

عدالتوں میں مقدمات کے لئے آنے والوں کو قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ بڑی بڑی تقریبات میں ججز حضرات اور وکلاء عہدیدار اپنی تقریروں میں ان پریشان حال سائلین کو سستا انصاف اور فوری انصاف مہیا کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے، مگر عملی طور پر اس کے برعکس کیا جاتا ہے۔ میں ایک ایسے فریق مقدمہ کو جانتا ہوں کہ اس نے اپنے گواہان کو اوکاڑہ سے 8بار لاہور بلایا، مگر ہر بار کبھی جج صاحب رخصت پر کبھی وکلاء کی ہڑتال ، کبھی دوسرے وکیل کی مصروفیات اور خاص طور پر کر 5دفعہ اس کے مقدمہ میں ہڑتال کی وجہ سے جب وہ اپنا گواہان کو لا لا کر تھک گیا اور ان کے سفری اخراجات اور احسان کے نیچے دب گیا تو اس نے کہا کہ جج صاحب میں 2 سال قبل جو انصاف لینے آیا تھا، مجھے توقع ہے کہ یہ 20سال بعد بھی نہیں ملے گا۔ اس لئے میں اب نہ تو گواہان کو لاؤں گا اور نہ ہی خود آؤں گا۔آپ کا جو جی چاہے فیصلہ کریں یا خارج کریں، یہ ہے ہماری عدالتوں کا انصاف۔

مزید : کالم