پاکستان میں گندم کی قیمت دنیا بھر کے ممالک سے زیادہ ہے

پاکستان میں گندم کی قیمت دنیا بھر کے ممالک سے زیادہ ہے

انٹر ویو ۔ اسد اقبال

عکاسی ۔ندیم احمد

پاکستان ہر سال ملکی ضرورت سے زائد گندم کی پیداوار حاصل کر نے والا زرعی ملک ہے بدقسمتی سے پاکستان میں گندم کی قیمت دنیا بھر کے ممالک سے زیادہ ہے ۔جس کی وجہ حکو متی ناقص معاشی پالیسیاں اور زرعی مداخل کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ ہے ۔حکو مت پاکستان میں نئی فلور ملوں کے قیام پر پابندی عائد کر تے ہوئے افغانستان سمیت دیگر ممالک میں گندم اور دیگر متعلقہ اشیاء برآمد کرنے کی پالیسی میں اصلاحات لائے ۔حکو مت ہر سال 40لاکھ ٹن گندم خریدتی ہے جس میں28لاکھ بوری مٹی ،سو کھا دانہ اور دیگر اجزاء کی ہو تی ہے جس سے حکو متی خزانہ کو 9ارب 24کروڑ روپے نقصان کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کاشتکاروں اور فلور ملز مالکان کے تحفظات دور کر نے کے لیے "ویٹ بور ڈ " کا قیام عمل میں لائے ۔جس سے نہ صرف در پیش مسائل کا خاتمہ ہو گا بلکہ گندم کی ایکسپورٹ ،کاشتکاروں کو ریلیف اور ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے گروپ لیڈر اور سابق مرکزی و صو بائی چیئر مین عاصم رضا احمد نے بزنس پاکستان کو خصو صی انٹرویو کے دوران کیا ۔ واضح رہے کہ عاصم رضا فلور ملز انڈسٹری کی مقبول شخصیت ،زرعی ماہر اور کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔جو گزشتہ کئی سالوں سے فلور ملنگ انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور اس وقت واہ کینٹ ٹیکسلا اور اسلام آباد میں جنرل فلور ملیں چلا رہے ہیں ۔ عاصم رضا نے فلو ملز ایسو سی ایشن کی سیاست میں پہلی بار حصہ 1997کو لیا جس میں وہ ایگزیکٹو ممبر کے بعدوائس چیئر مین اور پنجاب کے چیئر مین کے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے 2014-15میں پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے مرکزی چیئر مین کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے فلور ملنگ انڈسٹری کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

عاصم رضا احمد نے گفتگو کا آغاز کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو گندم سمیت ، کاٹن ، چاول ، گنا کی بڑی پیداوار حاصل کرتا ہے تاہم بد قسمتی سے زرعی پالیسیوں میں نئی اصلاحات نہ لانے کی وجہ سے جہاں کاشتکار مسائل سے دوچار ہیں وہیں بین لاقوامی منڈیاں پاکستان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے مہنگی گندم پاکستان کی ہے جس کی قیمت 320ڈالر فی ٹن ہے جبکہ دنیا بھر میں گندم کی فی ٹن قیمت 150 ڈالر سے 200ڈالر تک ہے جس کے پیش نظر پاکستان اپنی مہنگی گندم دیگر ممالک میں سستے داموں نہ بیچنے پر مجبور ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں گندم سر پلس ہے جبکہ پاکستان میں بھی نئی فصل آنے والی ہے اور رواں سیزن میں ملک بھر سے 35لاکھ ٹن گندم تقریبا کی پیداوار حاصل ہو گی ۔انھوں نے کہا کہ زمانہ قدیم سے افغانستان کو پاکستان آٹا فروخت کر رہا ہے اورسالانہ 10لاکھ ٹن گندم مصنوعا ت برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ کما یا جاتا تھا تاہم افغانستان میں گندم مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد کر نے کے بعد افغانستان کے صدر نے افغانی سر مایہ کاروں کو ترغیب کر تے ہوئے افغانستان میں 45فلو ر ملیں آپر یشنل کروائی جبکہ پچاس کے قر یب فلو ملیں لگانے کے لیے کام ہو رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ افغانی حکو مت اپنی معیشت مظبو ط کر نے کے لیے اپنے سر مایہ کاروں کو دس فیصد خو د اور نوے فیصد حکو متی خرچ پر ملیں لگانے کی پیش کش کی ہو ئی ہے جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔اگر افغانستان کو گندم مصنوعات کرنے کی اجازت مل جائے تو حکو متی ریو نیو میں 350ملین ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں فلور ملوں کی تعداد 930ہے اور ملک بھر میں مجمو عی طور پر 1450فلو ر ملیں ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ پنجاب کی فلو ر ملیں روزانہ دو لاکھ ٹن گندم گرائینڈنگ کر نے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ شہری ضرورت صر ف بیس ہزار ٹن ہے ۔انھوں نے کہا کہ فلور ملنگ انڈسٹری کو تباہی کے دہانے سے بچانے کے لیے وفاقی حکو مت سے ایسو سی ایشن مطالبہ کر تی ہے کہ نئی فلور ملوں کی تعمیر پر 10سال کے لیے پابندی عائد کی جائے تاکہ انڈسٹری کو مستحکم رکھا جا سکے ۔

عاصم رضا نے بتایا کہ اس وقت پنجاب سمیت ملک بھر میں گندم کے زخائر سر پلس ہیں اور اس وقت 22لاکھ ٹن کے قریب گندم سر کاری گوداموں میں پڑی ہے جبکہ سیزن میں 32لاکھ ٹن گندم کا سٹاک ہو تا ہے جس کے لیے حکو مت کے پاس گوداموں کی کمی ہے انھوں نے کہا کہ حکو مت گندم کو نمی اور خراب ہو نے سے محفو ظ بنانے کے لیے نئے گودامز بنائے جائیں کیو نکہ ملک میں کئی لاکھ ٹن گندم گودام نہ ہو نے کی وجہ سے کھلے آسماں تلے محفو ظ کرنا پڑتی ہے جس کے لیے محکمہ خوراک کو بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ جتنی سر پلس گند م گو دامو ں میں پڑی ہے اس کے لیے پالیسی وضح کر تے ہوئے عالمی منڈی کے مطابق گندم کی قیمت کا تعین کر تے ہوئے ایکسپورٹ کر نے کی اجازت دے جس سے فارن انویسٹمنٹ میں اضافہ ممکن ہو گا ۔ انھوں نے کہا کہ حکو مت سالانہ گندم کی فیئر ایوریج کوالٹی کی مد میں اربوں روپے کا نقصان اٹھاتی ہے ۔ کاشتکاروں سے محکمہ خوراک اور پاسکو ہر سال 40لاکھ ٹن گندم خریدتا ہے جس میں فیئر ایوریج کوالٹی کے نام پر حکو مت کو 28لاکھ گندم کی بوریاں مٹی ، سو کھا دانہ اور دیگر اشیاء کاشتکاروں سے خریدتی ہے کیو نکہ کاشتکار کھیتوں سے گندم صاف کر کے نہیں لاتے جس کے پیش نظر حکو متی خزانہ گندم کی بجائے دیگر مٹی اشیاء کی مد میں 9ارب 24کروڑ روپے کا نقصان کر تی ہے لہذ ا حکو مت کو معیاری گندم خریدنے کی سفارش کی جاتی ہے جس سے فلور ملز مالکان کی مشکلات بھی قدرے کم ہو نگی ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ فلور ملز مالکان کو ربیٹ کے نام پر بدنام کر نے والے چند ایک شر پسند عناصر فلور ملنگ انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی سازش رچا رہے ہیں۔ربیٹ کے تحت ایکسپورٹ کی جانے والی گندم کا طریقہ کا ر نہایت شفاف اور فو ل پروف سسٹم کے تحت بنایا گیا ہے جس میں تما م تر کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد کلیئرنس دی جاتی ہے ۔ایسے افراد اس سیکٹر کو تباہ کرنے کے لیے پر اپیگنڈہ کر رہے ہیں جن کو منہ کی کھانا پڑے گی ۔ کیو نکہ ایسے افراد غلط الزامات لگا کر حکو مت کو بھی بلیک میل کر نے کا مو جب ٹھر تے ہیں۔انھوں نے کہا کہانہوں نے کہا پاکستان کا آئین ملک بھرمیں آزادانہ نقل و حمل اور تجارت کی ضمانت دیتا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے باعث صوبوں میں فاصلے بڑہیں گے اور باہمی تجارت متاثر ہوگی۔ پابندی کی وجہ سے پنجاب سے صوبہ بلوچستان کو ترسیل ہونے والی گندم اور آٹے کی ترسیل گزشتہ دو روز سے تعطل کا شکار ہے۔جس کی وجہ سے صوبہ بلوچستان میں غذائی قلت کا اندیشہ ہے۔غیر قانونی پابندیوں کی وجہ سے جنوبی پنجاب کی فلور ملز مشکلات کا شکار ہیں جن کی مصنوعات کی بڑی مارکیٹ صوبہ بلوچستان ہے

عاصم رضا احمد کا کہنا تھاکہ پاکستان میں واحد آٹا ہے جس کی قیمت گزشتہ پانچ سالوں سے ایک روپیہ کلو بھی اضافہ نہ ہوا ہے تاہم اس کی امدادی قیمت میں اضافے سے انڈسٹری کو نقصان پہنچا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکو مت گندم سمیت دیگر فصلوں کی بھرپور پیداورا حاصل کر نے کے لیے ملک کے کاشتکاروں کو ریلیف دے تاکہ ایکسپورٹرز قیمت کے لحاظ سے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی ساکھ بنا سکیں۔ جس کے لیے بیج ، کھادیں ، زرعی ادویات اور زرعی مشینری پر سبسٹڈی دیتے ہوئے ریلیف دے جبکہ ہمسایہ ممالک کی طر ح کاشتکاروں کو فصلوں کو پانی دینے کے لیے بجلی مفت فراہم کر ے کیو نکہ اگر ملک کا کاشتکار خوشحال ہو گا تو اس سے ملک زرعی اجناس میں خو د کفیل ہونے سے کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے ۔ جس کے لیے بھارت کو رول ماڈل بنانے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان سے آٹا بحران کا خاتمہ ، قیمتوں میں کمی ، کاشتکاروں کو ریلیف اور فلور ملز مالکان کو درپیش مسائل کے حل سمیت گندم کے ذریعے کثیر زر مبادلہ کمانے کے لیے حکو مت ویٹ بورڈ کا قیام عمل میں لائے جس سے ہم ایڈہاک سسٹم سے نکل کر مثبت ایکسپورٹ پالیسیاں وضح کر سکیں گے اور ویٹ بور ڈ کے قیام سے جہاں فلور ملنگ انڈسٹری مسائل سے پاک ہو تے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی وہیں ملک کا کاشتکار بھی خو شحال ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں پاکستان فلور ملز ایسوی ایشن کے دفتر میں ڈی ایس ایم فورٹیٹیک برطانیہ کے ایک وفد نے پاکستان فلور ملز ایسوی ایشن کے سینٹرل چےئرمین محمد نعیم بٹ ، چےئرمین پنجاب چوہدری افتخار احمد مٹو ، عاصم رضااور دیگر غیر ملکی وفد میں ینک فونگ،اور فرانسکوس چوم شامل تھے جبکہ MIپاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبدالسلام نے شرکت کی،وفد نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدِداروں سے ملاقات کے دوران فلور فورٹیفکشن پراجیکٹ کے حوالے سے مختلف امور پر گفتگو کی اور اس پراجیکٹ کو مسقبل بنیادوں پر استوار کرنے کے پہلو پر مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ملاقات کے دوران فلور فوٹیفکیشن پراجیکٹ کی راہ میں حائل قانونی اور دیگر مسائل اور ان کے حل پر غور کیا گیا۔ملاقات میں پاکستان فلور ملز ایسوی ایشن کی جانب سے وفد کو تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فلور فورٹیفکیشن پراجیکٹ کی بحالی اور اس کی تکمیل کیلئے ایسی ملاقاتوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہئے۔

عاصم رضا احمد نے مذید کہا حکومت کی طرف سے40ارب روپے جمع کرنے کیلئے 313درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے سے سمگلنگ کوتقویت ملے گی اور انڈر انوئسنگ بھی کنٹرول میں نہیں رہے گی، حکومت کے ریونیو کا بھی نقصان ہو گا،حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرئے۔انہوں نے کہا کہ درآمدی پھل،سبزی،دہی،مکھن،ڈبل روٹی ،مشروبات،شیمپو سمیت 313 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے سے سمگلنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا ،یہ ڈیوٹی ان تمام سکیٹرز پر لگائی گئی ہے جو پہلے ہی نیٹ ورک میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ سے مقامی انڈسٹریز بحران کا شکار ہے۔پاکستان کو ملک میں بڑھتی ہوئی سمگلنگ کی وجہ سے بھاری نقصان برداشت کر نا پڑ رہا ہے۔حکومت چھوٹے تاجروں کو درآمدی ڈیوٹی کی شرح میں ریلیف دے اس کے علاوہ حکومت غریب عوام کیلئے خصوصی ریلیف فراہم کریکہ اگر ملک سے بجلی کا بحران ختم ہو جاتا ہے تو ملکی صنعتیں اپنی پیداواری استعداد کو بڑھاتے ہوئے برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر دیں گی جس سے پاکستان کا ایشین ٹائیگر بننے کا خواب پورا ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔چینی سرمایہ کار پاکستان میں بجلی گھروں کے قیام کیلئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار ہیں،لٰہذا حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے۔ موجودہ بجلی بحران کی وجہ سے پا کستا ن کی صنعتیں اپنی کل پیداوار ی صلاحیت کے مقا بلے میں 50فیصدپیداواری صلا حیت پر چل رہی ہیں ۔ حکومت کو انرجی بحران کے خاتمہ کے لئے مزید انرجی منصوبوں کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ ملک اس بحران سے نجات حاصل کرکے اپنی معیشت کو مضبوط بنا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔امن وامان ،توانائی بحران اور ٹیکسز کی بھر مار سے ملک میں کاروبار کرنا مشکل ہو رہا ہے اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،موجودی حالات میں مقابلے کی فضاء پیدا کرنا ممکن نہیں کسی بھی صنعت کیلئے سازگار ماحول اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ملک میں کاورباری طبقے کو ایسی کوئی سہولت میسر نہیں،ان حالات میں حکومت کو کاروبار کے فروغ کی کو شش کرنی چاہئے تاکہ ملک میں کاروباری

سر گرمیوں کو بڑھایا جا سکے۔

مزید : ایڈیشن 2