عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے اثرات!

عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے اثرات!

عرفان یوسف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی معیشت مزید کمزور ہوگئی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ’ناموافق جھٹکوں کے لیے شدید غیر محفوظ ہے معیشت میں کمزوری ’بڑھتے ہوئے مالی اضطراب اور اثاثوں کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ آئندہ ہفتے شنگھائی میں جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کے اجلاس سے قبل آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق چین کی معیشت میں سْست روی عالمی اقتصادی ترقی کے خدشات میں اضافہ کررہی ہے ’ترقی یافتہ معیشتوں میں ترقی کی رفتار پہلے ہی قائم کردہ حد سے نیچے ہے۔ جیسے کچھ ممالک میں طلب میں کمی اور بڑے پیمانے پر پیداوار میں نمایاں کمزوری نے بحالی کے عمل کو روک رکھا ہے۔‘ترقی کی رفتار میں کمی کی وجہ سے چین کی پیداوار میں مزید استحکام کے حوالے سے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ جس کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی اْبھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جس میں اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتیں بھی شامل ہیںآئی ایم ایف نے عالمی ترقی کے حوالے سے بھی مستقبل کے امکانات کا ذکر کیا ہے کہ ’مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی ترقی غیر مستحکم ہوسکتی ہے، جیسے تیل کی قیمتیں کا گرنا اور جغرافیائی اور سیاسی تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں ایجنسی نے معیشت کے حوالے سے سب سے کمزور ممالک کی حفاظت کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے جی 20 گروپ کا اجلاس بْلایا ہے رواں سال کے آغاز میں آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی ترقی میں کمی کی پیش گوئی کی تھی اب آئی ایم ایف رواں سال اقتصادی سرگرمیوں میں 3.4 فی صد اور سنہ 2017 میں 3.6 فی صد اضافے کی توقع رکھتا ہے دنیا بھر میں 98 ممالک میں زیر زمین ذخائر سے تیل کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے اور پاکستان پیداوار کے حوالے سے 42 ویں نمبر پر ہے ۔ توانائی کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ 1980ء میں ملک میں خام تیل کی پیداوار 10ہزار بیرل یومیہ تھی جو 1990ء تک بڑھ کر 60 ہزار بیرل یومیہ تک بڑھ گئی تھی جس میں 2000ء تک خاطر خواہ اضافہ نہ کیا جاسکا۔ ملک میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی تلاش کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف تیل کی ملکی ضروریات کی تکمیل میں مدد ملے گی بلکہ اس سے تیل کی درآمدات میں کمی کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی بچایا جاسکتا ہے۔ 1980ء تک ملک سے پیدا ہونے والا خام تیل مجموعی کھپت کے 10فیصد کے برابر تھا جبکہ اس وقت مجموعی ضرورت کا 23 فیصد تیل پیدا کیا جا رہا ہے ۔ خام تیل کی پراسیسنگ کیلئے ملک میں ریفائینریز کا نیٹ ورک بھی موجود ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ زیر زمین ذخائر کی تلاش اور پیداوار میں اضافہ کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث خلیجی ممالک میں پاکستانی ملازمین کی بیروزگاری کا خدشہ ہے، اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملکی ترسیلات متاثر ہوسکتی ہیں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ریاض الدین نے کہا ہے کہ توازن ادائیگی کی صورتحال اطمینان بخش ہے، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سے ترسیلات زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہو ں نے کہا ملکی ترسیلات کا دارومدار خلیجی ممالک سے بھیجی گئی رقوم پر ہے، جس سے ملکی تجارتی خسارے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، لیکن عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے خلیجی ممالک کی معیشتیں متاثر ہورہی ہیں، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کا روزگار ختم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ایکواڈور کے صدر رافائیل کورریا نے کہا ہے کہ کچھ عرصہ بعد تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے روس، سعودی عرب، قطر اور وینزویلا نے جنوری میں تیل کی جتنی مقدار پیدا کی ، اسے 2016 کے دوران برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا تھا ،اگر تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک بھی اس پر راضی ہوں اس فیصلے سے ایکواڈور، الجزائر، نائجیریا اور عمان نے اتفاق کر لیا۔ کویت بھی اس پر راضی ہو گیاایکواڈور کے صدر نے کہاکہ تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری روکنے اور کنویں بند کرنے سے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکے گی جبکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹ کرائے بھی کم ہو گئے۔ فیصلے کا اطلاق انٹرسٹی اور انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ سروس پر ہو گا۔پنجاب میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بارہ فیصد تک کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ انٹرا سٹی اور انٹر سٹی نان اے سی ڈیزل ٹرانسپورٹ کرائے چھ اعشاریہ ایک چھ فیصد کم ہونگے۔ پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں گیارہ اعشاریہ نو فیصد کمی کی گئی ہے۔ اے سی ٹرانسپورٹ مالکان نے بھی حکومتی فیصلے کی حمایت کی ہے۔ سندھ میں بھی ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کر دیئے گئے ہیں۔ ملک میں پٹرول منصوعات کی حالیہ قمیتوں میں کمی سے لاہور کے شہریوں کو ریلیف ملے گا اور ایل ٹی سی عوام تک معیاری ، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات پہنچانے کا مشن جاری رکھے گی۔جب سے قیمتوں میں کمی کا سفر شروع ہوا ہے پٹرول کی قیمت میں بیک مشت آٹھ روپے فی لیٹر کی کمی تو شاید پہلی مرتبہ ہوئی ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ جونہی یہ خبر آئی تو پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کے چہروں پر رونق آگئی، سڑکوں پر کاروں سے زیادہ موٹر سائیکلیں دوڑتی ہیں حکومت کا تو کہنا ہے کہ اس وقت پٹرول کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، گزشتہ ماہ جب حکومت نے قیمتیں پانچ روپے لیٹر کم کی تھیں تو اپوزیشن جماعتوں نے اس کمی کو ناکافی قرار دیا تھا اور مزید کمی کا مطالبہ کیا تھا، اپوزیشن کا موقف ہے کہ اگر پٹرول پر ٹیکس کم کردیئے جائیں تو قیمتیں مزید کم ہوسکتی ہیں لیکن حکومت غالباً یہ سوچتی ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں کے حوالے سے موج میلے کے یہ دن ہمیشہ نہیں رہیں گے اور کوئی نہ کوئی جھٹکا ایسے لگے گا جو قیمتوں کو پھر پر لگا دے گا تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال قیمتوں میں اضافے کا امکان کم ہے، سال کے آخر میں شاید قیمتوں میں اضافہ ہو یا پھر اگلے سال کے شروع میں۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں اس لیے بھی اضافہ ہوگیا ہے کہ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران ے تیل کی پیداوار بڑھا دی ہے کیونکہ اس کے تیل کے خریداروں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران دنیا میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ ایران فی الحال تیل کی پیداوار بڑھائے رکھے گا اس لیے سال رواں میں تیل مناسب نرخوں پر ملتا رہے گا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کی معیشت کو خاصا سہارا ملا ہے، درآمدی بل میں معتد بہ کمی آگئی ہے قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کو تو ضرور ہو رہا ہے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے ملک میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے نئے کنوؤں کی کھدائی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے ذرائع کے مطابق او جی ڈی سی ایل کے پاس اس وقت 2500 سے 5500 میٹر تک کنوؤں کی کھدائی کے لئے رگز موجود ہیں جو 35 سے 40 سال پرانی ہیں۔ کمپنی کے پاس موجود 9 رگز 5500 میٹر گہرائی تک کھدائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ او جی ڈی سی ایل کے پاس کرایہ کی بھی 8 رگز ہیں جو تیل و گیس کے مختلف کنوؤں پر کام کر رہی ہیں۔ کمپنی نے پچھلے چار سال کے دوران مختلف علاقوں میں تیل و گیس کے تقریباً 84 کنوؤں کی کھدائی کی ہے اور ستمبر 2012ء سے جنوری 2016ء تک تیل و گیس کی 13 کامیاب دریافتیں ہوئی ہیں جبکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ہی کے تناسب سے بجلی کے فی یونٹ نرخ بھی کم کئے جا رہے ہیں اور جنوری کے لئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں 4.11 روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ یوں براہِ راست اثرات بار برداری اور استعمال پر پڑے اور بڑی معقول کمی ہوئی، تاہم ابھی تک مارکیٹوں پر یہ اثر نہیں آیا اور اشیاء ضرورت اور خوردنی جوں کے توں نرخوں پر ہی فروخت ہو رہی ہیں، حتیٰ کہ برانڈڈ اشیائے ضرورت کے نرخ بھی کم کرنے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔ ایسی صورت میں اگر پنجاب میں وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے تو اس پر عمل بھی ہونا اور عوام کو فائدہ ملنا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 2