نظامِ عدل میں اصلاحات کی ضرورت

نظامِ عدل میں اصلاحات کی ضرورت

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ مُلک میں عدلیہ مکمل آزاد ہے اور عدلیہ کا ہر فرد پوری ذمے داری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے، مُلک میں عدالتی نظام میں کوئی خرابی نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد کرنے اور عملی جامہ پہنانے والے مختلف کرداروں میں خرابی ہے، موجودہ عدالتی نظام پرتنقید بلاجواز ہے، معتبر ادارے نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی نظام، انصاف کی فراہمی میں کردار ادا نہیں کر سکتا، دیہی علاقوں میں انصاف کے متبادل ادارے بنائے جائیں، معاشرے سے سچ، جھوٹ، حلال، حرام کی تمیز ختم ہو رہی ہے۔ اب ناگزیر ہو گیا ہے کہ تنازعات کے حل کے لئے ملکی سطح پر مصالحتی ادارے قائم کئے جائیں، تاکہ عالمی سطح پر سرمایہ داروں کا اعتماد بحال ہو، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے باعث ہی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، عدالتی کارروائی ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہوتا ہے، بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات کی کثیر تعداد تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے، جو وقت کے ضیاع، فریقین کے لئے ذہنی اور جسمانی تکالیف کا باعث بنتی ہے، ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں خوفِ خدا کا فقدان ہے۔ عدالتی احکامات پر عمل کرنے کی بجائے بچنے کا سہارا لیا جاتا ہے، مقتول کی ماں اور بیٹی تو عدالتوں میں بیان دیتی ہیں، لیکن گواہ منحرف ہو جاتے ہیں، دیہی علاقوں میں فیصلے جرگے کے ذریعے کئے جاتے ہیں جو درست نہیں ہوتے، تنازعات کے حل کے لئے دیہی علاقوں میں بھی نظام موجود ہونا چاہئے۔ انہوں نے اِن خیالات کا اظہار کراچی میں نیشنل سنٹر فار ڈسپیوٹ رینرویشن کے تحت منعقدہ پاکستان کے پہلے مصالحتی سیمینار اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جناب چیف جسٹس مُلک کے عدالتی نظام کی اعلیٰ ترین شخصیت ہیں اُنہیں موجودہ نظامِ عدالت میں موجود خامیوں اور خرابیوں کا کما حقہ، ادراک ہے، روزانہ عدالتوں میں اُن کے سامنے جو مقدمات فیصلوں کے لئے پیش ہوتے ہیں اُن میں کتنا جھوٹ اور کتنا سچ ہوتا ہے اس کے کیف و کم سے بھی وہ پوری طرح آگاہ ہیں، اُنہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں ناروا تاخیر کیوں ہوتی ہے اور اِس تاخیر میں کس کا کتنا حصہ ہوتا ہے، انصاف دِلانے میں بنچ اور بار دو اہم ترین شعبے ہیں، بار اگر حقیقت تک پہنچنے میں بنچ کی معاونت نہ کرے تو درست نہج پر مقدمات کا فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے نظام انصاف کی جن کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے اس میں جتنی اصلاح وہ کر سکتے ہیں اور جو کچھ کرنا اُن کے لئے ممکن ہے اس کا آغاز وہ اپنی ذمے داری کی مدت میں کر سکتے ہیں۔

مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ایک ہم وجہ وکلاء کی مصروفیات بھی ہیں، وہ اپنی انسانی استطاعت سے زیادہ مقدمات کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں، لیکن اُنہیں بھی دوسرے انسانوں کی طرح چوبیس گھنٹے ہی عطاہوئے ہیں انہوں نے انہی شب و روز میں اپنی دوسری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنی یہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہوتی ہیں، جن میں وہ اکثر توازن قائم نہیں کر پاتے، ایک عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو عین اسی وقت کسی دوسری عدالت میں اُن کا کوئی اور مقدمہ زیر سماعت ہوتا ہے، جہاں وہ نہیں پہنچ پاتے چنانچہ اگر وہ ایک مقدمے میں دلائل دیتے ہیں تو کئی دوسرے مقدمات میں عدالتوں سے تاریخیں لے لیتے ہیں، یوں مقدمات کی سماعت برسوں تک مکمل نہیں ہو پاتی، اس تاخیر کا مقدمے کے فریقین میں سے کسی کو فائدہ ہو رہا ہوتا ہے تو کسی کو نقصان، چنانچہ جسے فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے وہ تو خوش ہو جاتا ہے کہ مقدمہ جتنی دیر چلتا رہے گا اُس کے فائدہ میں ہو گا، اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے اس پر کاشت شروع کر دے اور اصل مالک کو زمین سے بے دخل کر دے تو متاثرہ فریق عدالت سے رجوع کرتا ہے، اب جتنا عرصہ مقدمہ چلتا رہے گا اِس کا برابر فائدہ ناجائز قابض کو پہنچتا رہے گا، چنانچہ اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا بااثر وکیل کرے، جس کی شہرت یہ ہو کہ وہ مقدمے کو لمبا کھینچ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسی استحقاق کے بغیر ہی محض قانونی طوالت سے فائدہ اُٹھا کر سال ہا سال اور بعض صورتوں میں رُبع صدی سے بھی زیادہ مدت تک زمین پر ناجائز قابض رہتا ہے، زمین کی کمائی کھاتا رہتا ہے اور مقدمہ لڑتا رہتا ہے، اس دوران یہ بھی ہوتا ہے کہ اصل مالک تو جہانِ فانی سے رُخصت ہو گیا اور اس کے وارثوں نے مایوس ہو کر، اپنے باپ کی خواریوں سے سبق سیکھ کر یا پھر اپنی دوسری مصروفیات کی وجہ سے مقدمے کی پیروی ہی چھوڑ دی اور یوں کسی فیصلے کے بغیر ہی ناجائز قابض، اصل مالک کی جگہ زمین سے مستفید ہوتا رہا، جبکہ مقدمے کا فیصلہ اگر معقول مُدت کے اندر ہوتا تو فیصلہ کسی صورت اس کے حق میں ہونے کا امکان نہ تھا، لیکن محض قانونی کارروائی کی طوالت نے اس کے ناجائز قبضے کو جائز بنا کر رکھ دیا۔اگرچہ قانون بظاہر اس کا ذمہ دار نہیں لیکن تاخیر کا فائدہ ایک ناجائز قابض ہی کے حصے میں آیا ۔

آج کل بار ایسوسی ایشنیں اکثر ہڑتالوں کی کال دیتی رہتی ہیں اور کسی نہ کسی مسئلے پر ہڑتال کر دیتی ہیں، اِس دوران کسی کارروائی کے بغیر مقدمات کی لمبی لمبی تاریخیں پڑتی رہتی ہیں، اور یوں مقدمات کی فائلوں کا انبار بڑھتا رہتا ہے، وکلاء اگر اپنی ہڑتالوں کو صرف اپنے پیشہ ورانہ مسائل کے حل تک محدود رکھیں تو بھی اس کا کوئی جواز بنتا ہے، لیکن اگر وہ پورے معاشرے کی اصلاح کا کام بھی رضا کارانہ طور پر اپنے ذمے لے لیں اور کسی نہ کسی سیاسی، سماجی اور اصلاحِ احوال کے مسئلے پر ہڑتالیں شروع کر دیں اور یہ تاثر دیں کہ سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے۔تو یہ سلسلہ کہیں رُکتا نہیں، اِسی وجہ سے بہت سے فاضل جج صاحبان یہ کہتے رہتے ہیں کہ وکلاء حضرات ہڑتالوں سے گریز کریں، لیکن بظاہر اُن کی یہ نصیحت صد ابہ صحرا ثابت ہوتی ہے، اِس لئے جنابِ چیف جسٹس کو بار کے ساتھ بیٹھ کر اِس مسئلے کا بھی کوئی حل نکالنا چاہئے۔مقدمات کی تاخیر تو اپنی جگہ وکلاء حضرات کے دلائل کا بنیادی مقصد تو کسی بھی مقدمے میں سچ تک پہنچنے میں جج حضرات کی مدد کرنا ہوتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں وہ اس کے برعکس کوششیں شروع کر دیتے ہیں اور شعوری طور پر مقدمے کو ایسے رُخ کی جانب لے جاتے ہیں کہ جج کنفیوز ہو کر ایسا فیصلہ کر دے جس کا اس کے موکل کو فائدہ ہو، سچائی کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے مقدمے کو اُلجھانے کی اس روش سے صرف اُن لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے جو سچ کی وجہ سے نقصان میں رہتے ہیں۔چنانچہ سچ کی بجائے جھوٹ کی مدد کا راستہ اپنی ذاتی منفعت کے لئے اختیار کرتے ہیں اور دعویٰ پھر بھی یہی ہے کہ وہ ’’حصول انصاف‘‘ میں مدد کرتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں جرگوں وغیرہ میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ قانون کی نظر میں تو محلِ نظر ہوتے ہی ہیں معاشرے کی نگاہوں میں بھی قابلِ اعتراض، بلکہ بعض صورتوں میں مضحکہ خیز ہوتے ہیں، لیکن یہ سلسلہ رُک نہیں پایا۔اصل ضرورت یہ ہے کہ نظام انصاف پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لئے تنازعات کے حل کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جہاں چھوٹے چھوٹے مسائل چند سماعتوں کے بعد حل ہو جائیں، لیکن بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں میں ایسے ایسے مقدمات بھی دائر ہونے لگے ہیں جو دیکھنے میں ہی مضحکہ خیز لگتے ہیں، لیکن وکلاء ایسے مقدمات پوری ’’دلجمعی‘‘ سے دائر کرتے ہیں اور اپنے موکلوں سے اِن نامعقول مقدمات کی معقول فیس بھی لیتے ہیں، چند سماعتوں کے بعد ایسا مقدمہ خارج ہو جائے تو وہ پھر کسی ایسے ہی ’’مقدمے‘‘ کی تلاش میں رہتے ہیں، کئی وکلاء کی تو شہرت ہی یہ ہے کہ وہ مضحکہ خیز مقدمات دائر کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جج حضرات ایسے مقدمات میں بعض اوقات وکلاء کو جرمانے بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ سلسلہ رُک نہیں سکا۔ اس کی وجوہ بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس پردہ زنگاری میں کوئی معشوق تو نہیں؟ عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لئے سارے نظام کو اوورہال کرنے کی ضرورت ہے۔ نظام عدل میں اگر واقعتا کوئی خرابی نہیں بھی ہے تو کیا یہ خرابی کم ہے کہ بیس بیس سال تک مقدمے کا فیصلہ ہی نہ ہو؟

مزید : اداریہ