بلدیاتی اداروں کی تکمیل، کب؟

بلدیاتی اداروں کی تکمیل، کب؟

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے اعلان کیا ہے کہ منتخب بلدیاتی ادارے مکمل کر کے نمائندوں کو ضروری اختیارات اور سہولتیں نہ دی گئیں تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق عرصہ ہوا انتخابات ہو چکے، حلف بھی ہو گیا لیکن ابھی تک یونین کونسلیں کام شروع نہیں کر سکیں ۔قائد حزب اختلاف کا بیان درست ہے کہ منتخب چیئرمین وائس چیئرمین اور اراکین انتخاب اور حلف کے بعد بھی منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ ابھی تک ان کے اختیارات اور فرائض ہی کا تعین نہیں ہوا۔ دفاتر نہیں ملے کہ وہ کام کر سکیں دوسری طرف شہری مسائل کی بھرمار ہے اور لوگ ان منتخب نمائندوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو بوجوہ کوئی کام کرنے سے قاصر ہیں یہ مسئلہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں ہے۔ بہتر عمل یہ ہے کہ یہ جلدحل کیا جائے تاکہ بلدیاتی ادارے کام شروع کریں اور عوامی مسائل جو مقامی نوعیت کے ہیں حل ہونا شروع ہوں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے تو اپنا فرض ادا کیا ہے، تاہم پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد ان اداروں کی اوپر تک تکمیل کریں کہ یہ منتخب حضرات فرائض ادا کر سکیں۔

مزید : اداریہ