انقلاب زندہ باد

انقلاب زندہ باد
انقلاب زندہ باد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا جمہوریت خطرے میں ہے؟ سیاستدانوں کی بوکھلاہٹ ، جارحانہ و دفاعی بیانات سے تو کم از کم ایسا ہی لگتا ہے۔ کبھی چیئرمین سینٹ فرماتے ہیں ، وفاق پر کالے بادل منڈلا رہے ہیں، کبھی اپوزیشن لیڈر فرماتے ہیں، ہم کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور کبھی تبدیلی کے دعوے دار عمران خان یہ کہتے ہیں کہ انہیں خیبر پختونخوامیں فیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا کی طرف آئیں تو نجی ٹی وی چینل طویل عرصے سے پارلیمنٹ کا بھرکس نکال رہے ہیں۔ نئے رجحانات کے مطابق لگ بھگ ساٹھ فیصد رائے عامہ ٹاک شوز کے ذریعے تشکیل پا رہی ہے۔ لوگ جو سنتے ہیں، اس پر من و عن یقین بھی کر رہے ہیں۔ اگر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کا جنازہ نکالا جا رہا ہو تو لوگ بغیر وضو ثواب دارین حاصل کرنے ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی لمحے لوگوں کو تاثر دیا جاتا ہے کہ سیاسی قیادتیں چند دنوں کی مہمان اور کرپٹ اشرافیہ ملک سے بھاگنے کو تیار ہے۔ چند ہفتے اسی طرح گذر جاتے ہیں، پھر یکایک اشاروں کنایوں میں کہا جانے لگتا ہے الطاف حسین شدید علالت کے باعث زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں، انہیں پاسپورٹ جاری ہوچکا اور وہ کسی بھی لمحے پاکستان آسکتے ہیں۔ وجہ۔۔۔ ایم کیو ایم کا پندرہ روزہ ہائی الرٹ کا اعلان۔

کچھ مواقع پر ایسا ہوتا نظر بھی آتا ہے، تاہم وہ وقت بھی گذر ہی جاتا ہے۔ اب حقیقت کیا ہے؟ پاکستا ن کے لئے جمہوریت واقعی زہر قاتل ہے؟ کیا پاکستانی سماج میں جمہوریت سے مراد لوگوں کو حقوق، روزگار اور تحفظ دینا ہے یا ان کی جمع پونجیوں پر ڈاکہ ڈالنا اور عزت نفس سے محرومی؟یہ بحث بہت پرانی ہے۔ حق میں اور مخالفت میں صفحوں کے صفحے سیاہ کئے جا چکے ہیں۔ فوج آئے تو لوگ جمہوریت کی خاطر آہیں بھرتے ہیں ، جمہوریت نصیب ہو تو بد دعاؤں پر اتر آتے ہیں۔ ایک بے چین قوم کی نوحہ گری پر مشتمل طرز فکر ہے یا لوگ حقیقتاً اپنے اردگرد تبدیلی دیکھنے کی خاطر فریقین کی پنگ پانگ سے اکتا جاتے ہیں؟ جمہوری تسلسل کی براہ راست ذمہ داری پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف تین مرکزی کردار ہیں۔ مسلم لیگ نے دھوم دھڑکے سے حکومت سنبھالی، چند ہی ہفتوں بعد علم ہوا حالات توقع سے زیادہ ابتر ہیں۔

گذرے اڑھائی سالوں میں بھرپور مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔بعض شعبوں میں کامیابیاں بھی نصیب ہوئیں، لیکن جس وسیع تر اور متاثر کن تبدیلی کی توقع کی جا رہی تھی وہ برپا نہ کی جا سکی۔ تجربے اور تگ ودوکے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرنے کی کیا وجوہات تھیں؟ گدھا گاڑی کی پگڈنڈی والے روٹ پر نئی بس چلانے کی کوشش۔ بیشتر حکومتی پالیسیاں اس وقت دم خم کھو بیٹھتی ہیں جب انہیں عملی نفاذ کے لئے انتظامیہ کے سپر د کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ گھاک ہو چکی ہے۔1973 ء کے آئین کے تحت اپنے فوائد، مضبوطی اور حاکمیت پر مبنی شقوں کو انتظامی افسران مذہب کا سا درجہ دیتے ہیں۔اوپر سے لے کر نیچے تک، سارے کا سارا انتظامی ڈھانچہ ، بدلتی دنیا میں اپنی فکری سوچ کو تبدیل کرنے پر تیار نہیں۔ فوج کی سوچ میں ڈرامائی تبدیلیاں آئیں، سیاستدانوں نے خود کو ریفائن کیا، لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر نئی فورس بنانے کا ارادہ کیا۔ پولیس تن کر کھڑی ہوگئی اور وزیر اعلیٰ کو بیک فٹ پر جانا پڑا۔ نتیجہ کیا نکلا؟۔۔۔ رینجرز کی آمد۔ پٹرول پچاس روپے نیچے آیا، لیکن اشیائے خورونوش کی قیمتیں اوپر جانے لگیں۔ وجہ ڈی سی او حضرات کی بادشاہت ۔ 20 روپے لاگت والی ڈبل روٹی 80 روپے میں بیچی جا رہی ہے۔ 120 روپے کلو والی مٹھائی کا ریٹ 500 روپے سے اوپر جا چکا ہے ،ماش کی دال 300 روپے کا ہندسہ پھلانگ چکی ہے۔

یہی رجحان صنعتوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ خام لوہے تانبے اور اسٹیل کے خرید ریٹ کم ترین سطح پر ہیں، جبکہ مینوفیکچرر تین گنا سے کم پر بیچنے پر آمادہ نہیں۔ اب اگر آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر تیل کی پروڈکشن کم کرکے فی بیرل ریٹ کو سوا سو روپے لیٹر پر پہنچا دیا گیا تو کیا پاکستانی سماج 150 روپے کی ڈبل روٹی اور 550 روپے کلو ماش کی دال خریدنے پر تیار ہوگا؟ مارکیٹ پلیئرز کی panic profit نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ پلئیرز اندھا دھند منافع کما کر بیرون ملک بھجوا رہے ہیں اور بیرون ملک کون ہے، پاکستان کے مستقبل سے’’ مایوس‘‘ ان کی امیگرینٹ اولادیں۔ اب کہا جا سکتا ہے حکومتی پالیسیوں کے اثرات عوام تک نہ پہنچنے کی بڑی وجہ ناقص انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔ یہی انتظامیہ سیاستدانوں کو ایک روپیہ کھلا کر خود نو روپے سمیٹ رہی ہے۔ بدنام سیاستدان اور نو روپے بنانے والا عزت دار۔ سیاستدانوں کے اثاثوں کا محدب عدسوں سے سراغ لگانے والے ذرا اس طرف بھی متوجہ ہوں۔ پچاسی فیصد ٹاپ بیوروکریٹس دو نمبر کمائی پر زندہ ہیں۔ معاملہ ضروریات زندگی تک محدود رہتا تو دوسری بات تھی، لیکن یہ پلاٹوں، بنگلوں اور قیمتی گاڑیوں کی دوڑ عام غریب کو خانہ جنگی پر نہیں اکسائے گی تو اور کیا ہوگا؟

اب افراتفری، خانہ جنگی یا آمریت کی راہ میں حائل دوسرے فریق پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کرتے ہیں۔ یہاں معاملات بری طرح اتھل پتھل کا شکار ہو چکے ہیں۔ تنظیمی ڈھانچہ، برین اور کارکن سبھی اپنی جگہ موجود ، لیکن قائدین اس فصل کو کاٹنے پر مجبور ہیں جسے اپنے ہاتھوں بویا۔اب بات کرتے ہیں معاشرے میں امنگ اور نئی زندگی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی۔ جناب عمران خان کا نظریہ انقلاب اسی وقت ہوا ہوگیا تھا جب انہوں نے انقلاب کی شروعات کو ایک ارب درختوں سے نتھی کر دیا۔عمران خان کو نہ تو بیوروکریسی کے فرائض و اختیارات میں انقلاب لانے کی سوجھی اور نہ ہی دھیان زرعی اصلاحات کی طرف گیا۔ اب وہ جانیں اور بے زبان درخت، وہ بھی اگر پہاڑی دنبوں کے معدوں میں جانے سے بچ گئے۔ تو جناب یہی ہے وہ مار دھاڑ سے بھرپور فلم جو پوری رعنائیوں سے چل رہی ہے، تاہم خیال رہے رنگ میں بھنگ ڈالنے والے بھی موجود ہیں۔ سیاستدان جس عنصر سے خوفزدہ رہتے ہیں، وہ مستقبل قریب میں حتمی اور حقیقی دھرنا سیاست کی طرف جا سکتا ہے۔ انقلاب کے داعی بھی موجود ہیں اور انقلاب کو زندہ باد کہنے والے بھی۔

مزید : کالم