نظام میں بہتری کے لئے مکالمے کا آغاز کریں

نظام میں بہتری کے لئے مکالمے کا آغاز کریں
 نظام میں بہتری کے لئے مکالمے کا آغاز کریں

  

قرآن نے انسانی جبلت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر دیا ہے۔۔۔’’عصر کی قسم انسان نقصان میں ہے ‘‘۔۔۔ چھٹی صدی کے عظیم امام فخر الدین رازی کہتے ہیں مَیں نے اس آیت مبارکہ کا مفہوم سمجھنے کے لئے اپنے اساتذہ سے رابطہ کیا ،مختلف تفاسیر کا مطالعہ کیا ،مگر جس آسان اور جامع طریقے سے ایک عام برف بیچنے والے نے سمجھایا کوئی نہ سمجھا سکا ،جو آواز لگا رہا تھا: ’’ لوگو مجھ سے برف خرید لو میر ا کل سرمایا تیزی سے گھلا جا رہا ہے‘‘۔۔۔زمین ایک جیسی ۔۔۔وہی دو گز،مستقل رہنے کی جگہ کیسی؟ وہی ویران گورستان ،پھر اس عارضی چند روزہ زندگی کے لئے اس قدر حرص و ہوس کیوں؟یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس نے تمام جج صاحبان کی موجودگی میں اس نظام کے سقم کی نشاندہی کی ہو۔روزانہ سپریم کورٹ میں اس نظام کو کوسا جاتا ہے ،مگر اس نظام کو چلانے والے معزز پارلیمینٹرین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔اس ملک کے دانشور طبقے نے تو اس نظام میں اصلاحات کے لئے تجاویز پیش کرنے یا مکالمے کے آغاز ہی کو گناہ کبیرا سمجھ رکھا ہے، وہ بس اس نظام سے اپنا حصہ بٹورنے کے لئے راستے تلاش کرتے ہیں۔آپ نے سنا ہے کبھی کسی تنظیم نے اس نظام میں بہتری لانے کے لئے ملکی سطح پر مکالمے کا آغاز کیا ہو ،کوئی سال ایسا رکھا ہو کہ جس میں ادیبوں سے کہا گیا ہو کہ وہ اس نظام میں بہتری کے لئے اپنے اپنے مقالے پیش کریں،شاعری اور افسانے سے آگے ان کی سوچ جامد ہو جاتی ہے ۔انہیں ادراک ہی نہیں کہ قوموں کی سوچ سیاست دان تبدیل نہیں کرتے ،دانشور طبقہ زبان و بیان سے تبدیل کرتا ہے۔

افسوس کہ ہمارے ہاں یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات،عمرانیات اور سوشل ورک کے تمام لوگ محض ڈگریوں کے حصول کے لئے کاغذ کالے کررہے ہیں کو ئی نئی سوچ،کوئی جدیدفکر اور کوئی مثبت جدوجہد نظر نہیں آتی۔تمام یونیورسٹیوں کے شعبہ سیاسیات اور عمرانیات زنگ آلودہ ہیں ،بانجھ سوچوں کا بسیرا ہے۔۔۔بلدیاتی نظام میں وہی اس نظام کے چور دروازوں سے آنے والے منتخب ہو چکے۔پانچ سو سے لے کر دو ہزار میں فی ووٹ ضمیروں کا سودا کرنے والے آگے اداروں میں کیا کریں گے؟یہ بات عیا ں ہو چکی کہ یہاں کوئی ڈسپلنڈ پارٹی نہیں ،سب گروہ اور جتھے ہیں جو اپنی اپنی طاقت او ر حیثیت سے اوپر آتے ہیں اور جو پلڑا بھاری دیکھتے ہیں، اس میں اپنا وزن ڈال دیتے ہیں۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں کیا ہوا؟ لوگوں نے چاروں صوبوں میں بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں کے خلاف آزاد ارکان کو بھی بھاری اکثریت سے جتوا کر ان پارٹیوں پر عدم اعتماد کیا ہے اور یہ آزاد لوگ اقتدار کے انہی ایوانوں میں جا بیٹھے ،جس کے خلاف ووٹ لے کر آئے تھے۔

آئین کا مطالعہ کیا جائے تو ہمارا نظام خراب نہیں، اسے چلانے والے خراب ہیں۔چاروں صوبوں کے حکمرانوں کو اپنی اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور نظام کو اس کے اصولوں کے مطابق چلانے کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔اس نظام پر قابض لوگوں کی تیسری نسل اقتدار میں آچکی۔آج اڑسٹھ سال بعد بھی قوم کو وہی برسوں پرانے مسائل کا سامنا ہے ،بلکہ پہلے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ آج بھی پیپلز پارٹی کی تیسری نسل ڈھٹائی سے لگا رہی ہے،مسلم لیگ (ن) تھانہ کلچر بدلنے ،تعلیمی انقلاب لانے ،بیروزگاری ختم کرنے اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کے خاتمے کے لئے گھسے پٹے جملے اور دعوے کر رہی ہے،تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے سے عوام کو بے و قوف بنانے کی ناکام مشق میں توانائی ضائع کر رہی ہے۔حکمران سمجھتے ہیں شائد وہ عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے اقتدار کو دوام دے رہے ہیں، یادآیا جولائی کی ایک گرم دوپہر تھی جب لاہور میں مجھے اس آیت ’’عصر کی قسم انسان نقصان میں ہے ‘‘ کی چند لمحوں میں سمجھ آگئی۔میرے دل میں خیال آیا جہانگیر کے مقبرے پر جاتا ہوں۔عجب لمحہ تھا جب مَیں جہانگیر کے مقبرے پر پہنچا تو پندرہویں صدی کے اس عظیم بادشاہ کا مزار ویران پڑا تھا۔دو بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔

مَیں ایک جگہ پر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کرکے اس کے شہنشاہیت کے دور کا تصور کرنے لگا۔۔۔پُررونق دربار،درباریوں کی خوشامد،قصیدہ گوشاعروں کے قصیدے،گرمی میں ہاتھ سے پنکھا جھلتے ملازم،پورے ہندوستان سے لوگوں کی حاضری، غلاموں کے واہ واہ کرتے گروہ،کنیزوں کے خوبصورت روپ،آنکھیں کھولیں تو ویرانی دیکھ کر دل ڈوبنے لگا، ایسے سنائی دینے لگا جیسے مقبر ے کے اندر سے آہیں،سسکیاں اور لاچاری کی ہچکیاں ابھر رہی ہوں۔وہاں ایک لمحہ ٹھہرنا عذاب لگنے لگا۔وہاں سے سیدھا درویش کے مزار پر پہنچا۔۔۔سید علی ہجویری داتا گنج بخشؒ ۔۔۔زندگی فقیروں جیسی،نہ کوئی تخت نہ تاج،خاک پر بیٹھنا اور سر پر معمولی کپڑے کی پگڑی باندھ کر معمولی کپڑے کو ریشم سے بھی قیمتی بنا دینا۔شدیدگرمی میں اللہ کی یاد سے خود کو سکون دینا۔عاجزی و انکساری سے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔عجیب سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کرگئے کہ صدیوں بعد بھی مزار پر دن رات یوں رونق ہوتی ہے، جیسے کسی مغل بادشاہ کا دربار ہو۔۔۔پاکستان کے حکمرانو اور سیاسی پنڈتو! تمہاری تیسری نسل آ گئی۔ سوچو لاہور میں مدفون ایک شہنشاہ اور درویش کا ایسا مختلف انجام کیوں؟کیونکہ بادشاہ نے گمان کر لیا تھا کہ اس کی بادشاہت سدا رہنی ہے، جبکہ درویش کو یقین تھا کہ یہ دنیا کا میلہ چند روزہ ہے، یہاں جاہ و جلال سے تخت و تاج کا خود کو وار ث سمجھ کر اور عوام پر حکومت کرکے ان کی زندگیوں کو عذاب بنانے سے رتبہ نہیں ملتا، بلکہ عاجزی و انکساری سے عوام کی خدمت کرنے سے اصل شہنشاہت نصیب ہوتی ہے۔وہ جان گئے تھے کہ خاک پر کھڑا ساڑھے پانچ چھ فٹ کا پتلہ بھی خاک ہے تو جاہ جلال کیسا؟۔۔۔اپنا ایک قطعہ یاد آگیا:

بندیا تیری ذات کیہ اے

بندیا تیری اوقات کیہ اے

خاک چوں نکلی اے خاک سی

خاک چے جانی اے خاک ای

معزز چیف جسٹس صاحب جیسے اہم عہدے اور اس نظام کی تمام باریکیوں کو سمجھنے والی شخصیت اگر کہہ رہی ہے کہ موجودہ نظام عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اس کی زندگی اجیرن کر رہا ہے تو ہمیں اسے نظر انداز کرنے کی بجائے سنجیدگی سے اس پر مکالمے کا آغاز کرنا چاہئے اور نظام میں اصلاح کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ آپ روزانہ کی بنیاد پر اگر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی رولنگ سنیں تو وہ اس نظام کی فعالیت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، مگر ہمارے ہاں کوئی بھی ان بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور اصلاح کی طرف توجہ نہیں دیتا۔اگر ہم اڑسٹھ سال بعد بھی ان چند خاندانوں کے تسلظ سے آزاد نہیں ہو پا رہے اور ان کے گھسے پٹے نعروں سے عاجز آ چکے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ آگے بڑھیں۔دانشور طبقے کی سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام میں اصلاحات کے لئے عوام اور ایلیٹ کلاس کو تیار کرے۔یونیورسٹیوں میں شعبہ عمرانیات اور سیاسیات کے لوگوں کو بھی ڈگریوں کے حصول اور لیکچر دے کر تنخواہ لینے کے اس گول چکر سے باہر نکل کر اس نظام میں بہتری کے لئے اپنی تجاویز دینی چاہئیں۔اگر ہم بہتری کے لئے غوروفکر نہیں کرتے تو آسمان سے کوئی مخلوق نہیں اترے گی اور ہم آئندہ بھی اسی طرح اس نظام میں جکڑے رہیں گے اور چند خاندان اور طاقتور لوگ ہم پر مسلط رہیں گے۔ایلیٹ طبقہ تو حرص ہ ہوس کا شکار ہو کر سرا سر خسارے میں ہے ہی ،عوام بھی جدوجہد چھوڑ کر سراسر خسارے میں جا رہے ہیں۔

مزید : کالم