کوٹلیا کا بھارت

کوٹلیا کا بھارت
 کوٹلیا کا بھارت

  

بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر نے الزام لگایا ہے کہ پٹھان کوٹ ایئربیس حملے میں ملوث غیرریاستی عناصر کو اسلام آباد کی مدد حاصل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرریاستی عناصرکوئی بھی ایسا کام ریاست کی حمایت کے بغیر آسانی سے نہیں کر سکتے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی حکومت نے خاصی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس نے پاکستان پر الزامات کی بارش کرنے سے گریز کیا تھا۔ پاکستان نے بھی پٹھان کوٹ حملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کی بھرپور مذمت کی تھی اور بھارتی حکومت کو بھرپور یقین دلایا تھا کہ تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا اور اگر پاکستان میں کوئی اس میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ تفتیش اور تحقیق کے مرحلے طے کئے بغیر صرف بھارت کی شکایت پر کچھ لوگوں اور اداروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی۔ پہلی مرتبہ بھارت میں ہونے والے ایک واقعے کی ایف آئی آر پاکستان میں درج کی گئی۔ بھارتی حکومت سے کہا گیا کہ وہ پاکستانی تفتیشی ٹیم کو وقوعہ کی جگہ تک رسائی کی سہولت فراہم کرے۔

پاکستان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اسے نہ صرف پٹھان کوٹ واقعے پر افسوس ہے، بلکہ وہ خلوص نیت سے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس پس منظر میں بھارتی وزیردفاع کی یہ دلیل کہ غیرریاستی عناصر کوئی بھی ایسا کام ریاست کی حمایت کے بغیر آسانی سے نہیں کر سکتے بظاہر خاصی غیرمعقول نظر آتی ہے۔ اگر اس دلیل کو اصول کا درجہ دے دیا جائے تو بھارت میں ان گنت ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن کے متعلق ثابت ہو چکا ہے کہ وہ بھارت کے اندرونی عناصر نے کئے تھے، مگر ان کانتیجہ پاک بھارت تعلقات کی خرابی کی صورت میں نکلا تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کے مقدمے اور ملزمان کے ساتھ بھارت میں جو فراخدلانہ سلوک کیا گیا ہے اس پر بھارت میں بھی تنقید کی گئی ہے اور اس واقعہ نے تو ثابت کر دیا تھا کہ بھارت میں ایسے عناصر خاصے طاقتور ہیں،جو کسی قیمت پر بھی پاک بھارت تعلقات کو بہتر ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

بھارت میں ایسے سیاستدان بھی رہے ہیں جو پاک بھارت تعلقات کی بہتری چاہتے تھے یا کم از کم اس کے دعوے ضرور کرتے تھے۔ پنڈت نہرو نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے استصواب رائے کی تجویز خود اقوام متحدہ میں دی تھی، مگربھارت میں نہرو کو اس پر موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی کو اس لئے قتل کیا گیا کہ انہوں نے انصاف کے مطابق پاکستان کو اس کے اثاثے دلانے کے لئے مرن برت رکھنے کا اعلان کیاتھا۔ اگر بھارتی قیادت امن قائم کرنے کے لئے اپنے ان محترم قائدین کی باتوں پر آج بھی توجہ دے تو مسئلہ کشمیرکا حل نکل سکتا ہے۔ اس خطے سے ایٹمی جنگ کے خطرات کم ہو سکتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔۔۔شملہ معاہدہ پاکستان نے دباؤ میں کیا تھا۔ بھارت نے اس میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات تو ہوئے، مگر بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت نہیں کی۔ اس کی یہی پالیسی رہی کہ اس معاملے کو اتنا طول دیا جائے کہ پاکستان اس سلسلے میں اپنے موقف سے دستبردار ہو جائے۔

بھارتی پالیسیوں پر غور کیا جائے تو اس میں کوٹلیا کا فلسفہ نظر آتا ہے۔ کوٹلیا جسے چانکیہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے چندرگپت موریا کا قریبی دوست اور مشیر تھا۔ ٹیکسلا میں کوٹلیا نے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کر کے ایک غیرمعمولی طریقہ دریافت کیا تھا۔ ایک دن کوٹلیا مایوس و دل شکستہ بیٹھا مستقبل کے متعلق سوچ رہا تھا کہ اسے کچھ دور سے ایک عورت کی آواز سنائی دی جو اپنے بیٹے کو ڈانٹ رہی تھی جو تکلیف سے چیخ رہا تھا۔ بچے کو بہت بھوک لگی تھی۔ اس کے سامنے چاولوں کی پلیٹ آئی تو اس نے بے قراری سے چاولوں کو درمیان سے کھانے کی کوشش کی اور اس کی انگلیاں جل گئیں۔ ماں اپنے بچے کو سمجھا رہی تھی کہ کھانے کا آغاز ہمیشہ پلیٹ کے کنارے سے کرنا چاہئے، کیونکہ درمیان کی نسبت کناروں پر چاول زیادہ گرم نہیں ہوتے۔ اس واقعے سے کوٹلیا نے ’’چاول کے پیالے سے ماخوذ حکمت عملی‘‘ تیار کی ۔ اس نے چندرگپت کو مشورہ دیا کہ عجلت میں یا سامنے سے آ کر سیدھا وار کرنے سے گریز کرناچاہئے۔ پہلے دشمن کے ایسے دستوں کو ناگہانی حملوں سے ہراساں اور پریشان کیا جائے جو اپنے مرکز سے دور ہوتے ہیں۔ سرحدوں پہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد آخر میں مرکز پر بھرپور حملہ کر کے مکمل فتح حاصل کرنی چاہئے۔ چندرگپت موریہ نے اسی حکمت عملی کے ذریعے برصغیر میں عظیم موریہ مملکت قائم کی،جس پر ہندو آج بھی فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں کوٹلیا کے اصولوں پر بناتے ہیں۔ کوٹلیا کے نام سے نئی دہلی میں ایک پوش علاقہ بھی موسوم ہے۔

بھارت خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں طالبان کے ذریعے آگ بھڑکاتا رہتا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھارت کی طرف سے فنڈنگ کی جاتی ہے۔ کراچی کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لئے بھارت سے ٹریننگ حاصل کرنے والے اب اعتراف کر رہے ہیں کہ کس طرح انہیں وطن عزیز کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ یوں بھارت پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آگ بھڑکا کر اس کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان باتوں کو سازشی تھیوری قرار دے رہے ہیں۔ ان سے صرف یہ گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ بھارت میں لکھی جانے والی ان تحریروں پر ایک نظر ضرور ڈالیں جن میں بھارت کے مقتدر سیاست دانوں، فوجیوں اور دوسرے لوگوں نے واضح طور پر فخر سے بتایا ہے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے کس طرح سازشوں کے جال پھیلائے گئے تھے۔ خود بنگلہ دیش کی حکومت ان لوگوں کو قومی ہیرو کا درجہ دے رہی ہے، جنہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے کے لئے سازشیں کی تھیں۔ پاکستان کی سرحدوں پر بھڑکنے والی آگ کے پیچھے بھارتی ہاتھ نظرآتا ہے، مگر اس کے متعلق اس طرح آواز نہیں اٹھائی جاتی جیسے بھارت پٹھان کوٹ جیسے واقعات پر اٹھاتا رہتا ہے اور ایسے واقعات کو بہانہ بنا کر بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے گریز کرنے کے مقصد میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تفتیشی ادارے جرم کی تفتیش کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ اس سے کس کو فائدہ ہوا؟ اگر اس پہلو سے پٹھان کوٹ کے واقعے کو دیکھا جائے تو باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ پٹھان کوٹ کے واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف نہ صرف دنیا بھر میں بھرپور پراپیگنڈا کیا،بلکہ اسے مذاکرات کے التوا کے لئے بھی استعمال کیا۔ تاریخ کے اس مرحلے پر پٹھان کوٹ جیسے واقعات سے پاکستان کے اصولی موقف کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ بھارتی دانشوروں کو پٹھان کوٹ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین کرتے وقت اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔

پٹھان کوٹ کے واقعہ پر بھارتی وزیردفاع کے بیان کو پڑھ کر ہمیں لارڈ مونٹ بیٹن کی وہ طنزیہ مسکراہٹ یاد آئی جس کا تذکرہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تصنیف ’’آزادی ہند‘‘ میں کیا ہے۔ مولانا رقم طراز ہیں:’’سردار پٹیل ممبر داخلہ تھے اور اس طرح دہلی انتظامیہ براہ راست ان کے ماتحت تھی۔ جیسے ہی قتل اور لوٹ مار کی وارداتوں کی فہرست طویل تر ہوتی گئی گاندھی جی نے پٹیل کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ اس خونریزی کو روکنے کے لئے وہ کیا کر رہے ہیں؟ سردار پٹیل نے یہ کہتے ہوئے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ گاندھی جی کو ملنے والی خبریں نہایت مبالغہ آمیز ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حد تک کہا کہ مسلمانوں کو شکایات کرنے یا ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مجھے ایک موقع اچھی طرح یاد ہے۔ جب ہم تینوں گاندھی جی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جواہرلال نہرو نے گہری افسردگی کے ساتھ کہا کہ دہلی کی صورت حال کو جس میں مسلمان کتوں اور بلیوں کی طرح مارے جا رہے تھے‘ وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا ضمیر انہیں چین سے بیٹھنے نہ دے گا، کیونکہ جب لوگ ان ہولناک واقعات کے بارے میں شکایت کرتے تھے تو ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا تھا۔ جواہر لال نے کئی بار دہرایا کہ صورت حال ان کے لئے ناقابل برداشت تھی اور ان کا ضمیر انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتا‘‘۔

جب دہلی میں قتل و غارت گری ہو رہی تھی تو جواہرلال نہرو وزیراعظم ہوتے ہوئے بے بس تھے اور گاندھی جی کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس صورت حال کو سردار پٹیل جس طرح دیکھ رہے تھے اس سے منوہرپاریکر جیسے ہندو لیڈروں کی ذہنیت سمجھی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم مولانا ابوالکلام آزاد کی ہی شہادت پیش کرتے ہیں۔ وہ رقمطراز ہیں:’’ایک اور واقعے نے‘ جو تقریباً اسی وقت ہوا‘ صاف ظاہر کر دیا کہ سردار پٹیل کا ذہن کس طرح کام کر رہا تھا۔ شاید انہوں نے یہ سوچا کہ مسلمانوں پر ہر روز جو حملے ہو رہے ہیں ان کا کوئی جواز ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک نظریہ یہ پیش کیا کہ شہر میں مسلمان علاقوں سے مہلک اسلحے برآمد کئے گئے تھے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ دہلی کے مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں پر حملہ کرنے کے لئے اسلحے جمع کئے تھے اور اگر ہندوؤں اور سکھوں نے جارحیت میں پہل نہ کی ہوتی تو مسلمانوں نے انہیں برباد کر دیا ہوتا۔ قرول باغ اور سبزی منڈی سے پولیس نے کچھ اسلحے برآمد کئے۔ سردار پٹیل کے حکم سے انہیں گورنمنٹ ہاؤس لایا گیا اور کیبنٹ روم کے اینٹی چیمبر میں رکھ دیا گیا۔ جب ہم اپنی روز کی میٹنگ کے لئے یکجا ہوئے سردار پٹیل نے کہا کہ پہلے ہم اینٹی چیمبر میں جائیں اور برآمد کردہ اسلحے دیکھ لیں۔ ہم وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میز پر باورچی خانے میں کام کرنے والے درجنوں چاقو جن میں زنگ لگا ہوا تھا، جیب میں رکھنے اور قلم یا پنسل تراشنے والے چاقو، جن میں بعض دستوں کے ساتھ تھے بعض بغیر دستوں کے اور لوہے کی کچھ سلاخیں جو پرانے مکانات کے جنگلوں سے نکالی گئی تھیں اور کچھ ڈھلے ہوئے فولاد کے واٹر پائپ رکھے ہوئے تھے۔ سردار پٹیل کے قول کے مطابق یہی وہ اسلحے تھے جو دہلی کے مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے جمع کئے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک یا دو چاقو اٹھائے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ سامان اکٹھا کیا تھا‘ وہ جنگی داؤ پیچ کا ایک حیرت انگیز تصور رکھتے ہوں گے۔ اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ شہردہلی پر انہی اسلحوں کی مدد سے قبضہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔۔۔سردار پٹیل کی ذہنیت آج بھی بھارت کی ہندو قیادت میں نظر آتی ہے۔ پٹھان کوٹ کے واقعہ کی تفتیش کرنے کے لئے پاکستان کے تفتیشی اداروں سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔ اس کی بجائے بھارتی وزیرداخلہ یہ اصرار کر رہے ہیں کہ ان کی بوگس دلیل کو پاکستان کے خلاف ثبوت کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں بھارتی حکومت کے ہر اقدام کو ہدف تنقید بنانے والے کم نہیں ہیں، مگر جس طرح بھارتی وزیردفاع کی پاکستان کے خلاف دلیل کو تسلیم کیا گیا ہے اس کے پیش نظر سوچا جا سکتا ہے کہ بھارت ہٹ دھرمی‘ ضد اور سازشوں کے ذریعے برصغیر کے مسائل کے حل کا خواہش مند ہے۔بھارتی حکمرانوں کے طرزعمل سے یہ نتیجہ اخذ بھی کیا جا سکتا ہے کہ بھارت نہرو یا گاندھی کی حکمت عملی کی بجائے سردار پٹیل کے نقش قدم پر چل رہا ہے، مگر بھارتی وزیردفاع پٹھان کوٹ کے واقعہ کو جس طرح پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اس حد تک جانے سے تو شاید سردار پٹیل بھی گریز کرتے۔ انہوں نے دہلی کی قتل و غارت گری کا جواز دینے کے لئے معصومانہ اسلحہ بطور نمائش رکھا تھا۔ اگر ان کی جگہ منوہرپاریکر ہوتے تو سردار ماؤنٹ بیٹن کو گورنمنٹ ہاؤس میں اس دور کے خطرناک ترین ہتھیار نظر آتے۔ وقت نے بھارتی قیادت کو سچ سے دور کر کے کتناخطرناک بنا دیا ہے؟ بھارت کوٹلیا کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہر پڑوسی مُلک کی سرحد پر تشدد اور بے چینی کی آگ بھڑکا رہا ہے مگر اسے اپنے جنون میں یہ نظر نہیں آ رہا کہ اس سے اس کی سرحدوں پر بھی آگ کے شعلے تیز ہو رہے ہیں۔

مزید : کالم