خوابیدہ جمہوریت، جاگتی آنکھیں

خوابیدہ جمہوریت، جاگتی آنکھیں
 خوابیدہ جمہوریت، جاگتی آنکھیں

  

عوام کی ترجمانی کا جو فریضہ جمہوریت کے علمبردار سیاستدانوں کو ادا کرنا چاہئے، وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ادا کر رہے ہیں۔ مثلاً اب اس بات کو کون جھٹلائے۔۔۔ ’’جمہوریت کے نام پر کچھ گروہ ملکی وسائل پر قابض ہیں۔‘‘ ہم تو بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت نہیں منتخب لوگوں کی آمریت ہے۔ اگر جمہور کی واقعی ترجمانی ہوتی تو آج عوام اور حکمران طبقے ایک دوسرے کے مقابل نہ کھڑے ہوتے، تاہم میں اس میں اضافہ یہ کروں گا کہ گروہوں کے مفادات کی علمبردار یہ جمہوریت صرف سیاستدانوں کے کاندھوں پر نہیں کھڑی بلکہ اسے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے بھی کندھا دے رکھا ہے۔ ضلع میں تعینات ایک ڈی سی او کہاں چاہے گا کہ یہ جمہوریت ختم ہو، جس میں چند فیصد طبقے نے ملکی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ ان گروہوں کو خوش رکھ کے خود بھی کروڑوں روپے بناتا ہے، اگر حقیقی جمہوریت ہو تو جوابدہی کے نظام میں اسے ایک پیسے کی کرپشن کرنے کا موقع نہ ملے۔ سو نچلی عدلیہ میں کرپشن ہو یا انتظامیہ میں بد عنوانی کا کلچر، وہ اس لئے پنپ رہا ہے کہ جمہوریت جعلی ہے۔ اس جعلی جمہوریت میں جمہور کی کوئی شنوائی نہیں، اس میں خواص کی چودھراہت ہے اور وہ اس کی آڑ میں ہر وہ کام کر رہے ہیں، جس کی نہ تو آئین اجازت دیتا ہے اور نہ قانون۔

حیرت ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کو تو اس تلخ حقیقت کا علم ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا محال ہے، حالانکہ وہ عوامی آدمی نہیں اور نہ ہی سیاستدانوں کی طرح جلسے کرتے ہیں، جبکہ ہمارے سیاستدان اور حکمران تو ہر وقت عوام میں رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں پھر انہیں یہ بات کیوں معلوم نہیں کہ عوام پر کیا بیت رہی ہے۔ عجیب جمہوریت ہے کہ جمہور کے دکھوں اور محرومیوں سے آگاہ نہیں اس جمہوریت کا سب سے بڑا دکھ مال بنانا ہے۔ 68 برسوں میں عوام کی حالت تو ترقی، معکوس کا شکار ہوئی ہے لیکن جو لوگ جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے میں کامیاب رہے، وہ ارب پتی بن گئے۔ مجھے کوئی ایک شخص بھی ایسا دکھا دیں، جس نے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد حیرت انگیز ترقی نہ کی ہو۔ خود میں نے اپنی زندگی میں ایسے بے شمار لوگوں کو دیکھا ہے جو سیاست میں آنے سے پہلے غریب غربا میں شمار ہوتے تھے، جمہوریت سے فیض یاب ہوتے ہی ان کے دن بدل گئے۔ بدلے بھی ایسے کہ اب وہ پہچانے نہیں جاتے، یا اپنے ماضی کو پہچانتے نہیں چیف جسٹس نے تو مرض کی صحیح تشخیص کی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جو لوٹ مار شروع ہوئی وہ اب تک رک نہیں سکی۔ اس میں اشرافیہ نے ایک دوسرے کی پوری پوری مدد کی۔ ڈاکوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی کبھی شکایت نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ ہماری جمہوری سیاست کا انداز بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ آج تک کوئی سیاستدان دوسرے سیاستدان کی لوٹ مار اور کرپشن کے خلاف خود مدعی بن کر سامنے نہیں آیا۔ عوام کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لئے بیان بازی ضرور کی جاتی ہے مگر عملاً کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ اسمبلی کے فلور پر بھی ایک دوسرے کی کرپشن کے قصے ہی سنائے جاتے ہیں، ان قصوں کو قانون کے حوالے کر کے کسی کی گردن نہیں ناپی جاتی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی اس بات پر یہ کرپٹ اشرافیہ بے حال ہو کر ہنس رہی ہو گی کہ معاشرے سے خوف خدا اور حلال و حرام کا فرق ختم ہو چکا ہے۔ اشرافیہ کو ان دونوں باتوں سے کیا غرض، ہاں کبھی کبھی اسے خوف نیب سے محسوس ہوتا ہے یا پھر سپریم کورٹ سے کہ کہیں بلا ہی نہ لے اور کچا چٹھا سامنے آ جائے۔ جو لوگ ملکی قانون کو نہیں مانتے، اسے توڑنے سے نہیں ڈرتے، انہیں خوفِ خدا کیسے ہو سکتا ہے۔؟ جن کے منہ کو ازلی طور پر حرام لگ چکا ہے، وہ حلال و حرام میں تمیز کیسے کر سکتے ہیں، انہوں نے تو کبھی حلال کا ذائقہ ہی نہیں چکھا۔ ایسی باتوں سے اشرافیہ اور جمہوریت کی پروردہ اشرافیہ کی دم پر پاؤں نہیں آتا، دم پر پاؤں تو اس وقت آتا ہے، جب کبھی قانون حرکت میں آ جاتا ہے اور چھٹکارے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ سیاستدانوں نے بڑی صفائی سے اس نظریئے کو متعارف کرایا ہے کہ جمہوریت سے بڑا کوئی انتقام نہیں۔ جس ملک میں جمہوریت عوام کو ووٹ کے استعمال کا آزادانہ حق بھی نہ دیتی ہو، اس میں یہ کہنا کہ وہاں جمہوریت ایک بہترین انتقام ثابت ہو سکتی ہے، ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ یہاں تو عوام اور جمہوریت سے انتقام لیا جاتا ہے۔ عوام سے اس بات کا انتقام کہ انہوں نے منتخب کیوں کیا اور جمہوریت سے اس بات پر کہ وہ اعلیٰ اوصاف کی بات کیوں کرتی ہے؟ کیوں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دنیا کا بہترین نظام ہے۔ بہترین نظام کی جو ایسی تیسی پاکستان میں ہوتی ہے، اسی کی طرف چیف جسٹس آف پاکستان نے اشارہ کر دیا ہے۔

البتہ مجھے یہاں شیدے ریڑھی والے کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ اس نے ایک دن مجھے کہا کہ ہمارے عوام خراب ہیں، انہیں کوئی بات یاد ہی نہیں رہتی۔ کل کے لٹیروں کو وہ پھر ووٹ دے دیتے ہیں اور نئی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ ان کی کمزور یادداشت سے فائدہ اٹھا کر ہر بار سیاستدان انہیں بے وقوف بناتے ہیں اور وہ خوشی سے بنتے چلے جاتے ہیں۔ پھر اس نے ایسی بات کی جس پر مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی۔ اس نے کہا میری ماں کہا کرتی تھی کہ کسی کی یاد داشت کمزور ہو تو اسے شربت بادام پینا چاہئے لیکن عوام کے پاس تو صاف پانی کی بوتل لینے کے پیسے نہیں ہیں شربت بادام کیسے پی سکتے ہیں، وہ تو بس بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں، میں سوچنے لگا شیدا بھی کتنا ظالم ہے اپنے ہی طبقے کے افراد کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، مگر اس کی یہ عادت مجھے اس لحاظ سے اچھی لگی کہ وہ اشرافیہ کے طبقوں کی طرح ہر برائی کے باوجود سب اچھا کہنے کو تیار نہیں، اگر معاشرے میں یہ رویہ جڑ پکڑ جائے تو کرپٹ لوگوں کو بچنے کا موقع نہ ملے۔

جس طرح اُلجھی ہوئی ڈور کا کوئی سرا نہیں ملتا، اسی طرح ہمارے مسائل کا حل بھی دور دور تک نظر نہیں آتا اگرچہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ قومی وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے تو پانچ، دس سال میں ملک کی صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اشرافیہ تو پہلے ہی قومی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے، اب اور کتنا اٹھائے، اگر چیف جسٹس صاحب کی عوام کی طرح یہ خواہش ہے کہ قومی وسائل کی لوٹ مار کو روک کر انہیں قوم پر خرچ کیا جائے تو معاف کیجئے اس خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی چیل کے گھونسلے میں ماس ڈھونڈنا کار بیکار ہے۔ اشرافیہ کا دل ابھی اتنا نرم نہیں ہوا کہ اس پر کلام نرم و نازک اثر کر سکے۔ اسے تو قانون کا ڈنڈا ہی راہ راست پر لا سکتا ہے۔ جو فی الوقت ملک میں دستیاب نہیں۔ جہاں چیف جسٹس صاحب یہ کہتے ہوں کہ ملکی عدالتی نظام میں کوئی خرابی نہیں، تنقید بلا جواز ہے، وہاں صبر و شکر کے تین کڑوے گھونٹ پی کر لمبی تان کے سونا ہی مناسب ہے کیونکہ اس جمہوریت میں زیادہ جاگنے والوں کی آنکھیں خراب ہو سکتی ہیں۔

مزید : کالم