مصطفی کمال کی اچانک آمد!

مصطفی کمال کی اچانک آمد!
مصطفی کمال کی اچانک آمد!

  

کیا مصطفی کمال صاحب کو فوج نے لانچ کیا ہے؟۔۔۔ کیا فوج ایم کیو ایم کو ختم یا تقسیم کرنا چاہتی ہے؟۔۔۔ کیا ایم کیو ایم کا عسکری ونگ، مصطفی کمال یا انیس قائم خانی کو برداشت کر لے گا؟۔۔۔ کیا فوج نے مصطفی کمال اور ان کے ساتھی کے اہل خاندان کو وہ تحفظ فراہم کیا ہے جو ان کے مخالفین کو ان کے نزدیک پھٹکنے نہیں دے گا؟۔۔۔ کیا فوج ہی نے نئی سیاسی پارٹی کا نام گھڑ کر ابھی تک مصطفی کمال کو نہیں دیا اور اگر فوج کسی نام کا فیصلہ کر چکی ہے تو اس کا اعلان نہ کرنے میں کیا مصلحت ہے؟۔۔۔ کیا الطاف حسین کے دن پورے ہو چکے ہیں؟۔۔۔ کیا کمال اور قائم خانی ایم کیو ایم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے آئے ہیں؟۔۔۔یہ اور اس نسل کے اور بھی سوالات ہیں جو قارئین نے سوشل میڈیا پر پوچھے ہیں۔ مَیں ان حضرات کو جواب دیتا ہوں کہ ان سوالوں کے کافی اور شافی جواب الیکٹرانک میڈیا پر دیئے جا رہے ہیں۔ مجھ فقیرِ بے نوا سے کیا پوچھتے ہو؟ لیکن قارئین اصرار کرتے ہیں کہ میڈیا یہ نہیں بتا رہا کہ یہ سب کچھ فوج کروا رہی ہے یا خودبخود ہو رہا ہے۔ اور اگر فوج کروا رہی ہے تو پردے کے پیچھے کیوں چُھپ رہی ہے،اسے سامنے آنا چاہئے اور الزامات کا جواب دینا چاہئے۔

میرے قارئین جانتے ہیں کہ مَیں افواج کے دفاعی پہلوؤں پر بات کرتا رہتا ہوں۔ سیاسی پہلوؤں یا نیم سیاسی معاملات پر نقد و نظر کرنے کے لئے میرے بہت سے دوسرے دوست موجود ہیں۔ ان میں سویلین تو ہیں ہی، فوج سے ریٹائر ہونے والے کئی سینئر آفیسر بھی اس کارِ خیر کو بھگتا اور نمٹا رہے ہیں۔ان کا رینک اور ان کی لفاظی، ہر شب، اظہر من الشمس ہوتی ہے۔مَیں خود ان مبصروں کو سنتا ہوں اور افسوس کرتا ہوں کہ ان کی کوالیفکیشن ان کا فوجی رینک ہے یا کوئی اور سیاسی قد و قامت ہے۔ ہاں ایک لولا لنگڑا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ان ’’فوجی بھائیوں‘‘ کو فوج کی الیٹ جاسوسی ایجنسی نے لانچ کر رکھا ہے۔ یہ مبصرین فوج کی ترجمانی کرتے ہیں اور فوج سے Input لے کر اسے اپنیOutput میں تبدیل کرتے اور مختلف الیکٹرانک چینلوں پر رونق افروز ہو جاتے ہیں وغیرہ۔

مجھے خبر نہیں کہ ایسے ناظرین کی یہ سوچ فوج کے حق میں ہے یا خلاف ہے۔ فوج کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔اس کا منشور اور ہے۔ میرے کسی قاری نے اگر اس منشور کے سلسلے میں مجھ سے کچھ پوچھنا ہو تو مَیں حاضر ہوں۔ بعض ٹاک شوز کا آخری حصہ جو چند منٹوں پر محیط ہوتا ہے اس میں ناظرین براہِ راست کسی مبصر سے سوال کرتے ہیں اور جناب مبصر اس کا جواب دیا کرتے ہیں، لیکن مَیں نے آج تک کسی سوال کرنے والے کا یہ سوال کسی پروگرام میں نہیں سُنا کہ فوج کے سینئر رینک کے حامل حضرات خالص عسکری معاملات پر کیوں نہیں بولتے اور ناظرین کو سیاسیات کی ٹیکٹیکس میں اُلجھا کر عسکریات کی سٹرٹیجی سے چشم پوشی کیوں کرتے ہیں۔مثلاً یہ دیکھئے کہ کمال صاحب کے انکشافات میں ’’را‘‘ کے ساتھ ایم کیو ایم کے روابط کا بڑا چرچا کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بازار تو ایک عرصے سے گرم ہے۔ ’’را‘‘ کے ساتھ ایم کیو ایم کے روابط کوئی نئی بات نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا کمال صاحب کوئی نئی سوغات لے کر آئے ہیں یا کوئی ایسا نیا شوشہ چھوڑنے آئے ہیں کہ ایم کیو ایم کے وہ رہنما جو ڈائی ہارڈ شمار نہیں ہوتے وہ ان کی بے نام مجوزہ پارٹی میں شریک ہو جائیں؟

لیکن پاکستانی سیاسیات کو ’’را‘‘ یا ’’ آئی ایس آئی‘‘ کے محدود محیط میں مقید کرنا میرے خیال کے مطابق پاکستان کو بھارت کے اصل خطرے سے ’’غافل‘‘ کر دینے کے مترادف ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ بھارت اپنی عسکری قوت میں جو اضافہ کر رہا ہے اس کا ہدف کیا اور کون سا ہے؟۔۔۔ کیا بھارتی فوجی تیاریاں چین کا مقابلہ کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں؟۔۔۔ بھارت کن ممالک سے اسلحہ اور گولہ بارود خرید رہا ہے، کیا خرید رہا ہے اور اس خرید کی اصل تاثیر کیا نکلنے والی ہے؟۔۔۔ اگر پاکستان اور بھارت کے پاس جوہری ہتھیار اور میزائل موجود ہیں تو کیا ان کی تاثیر پر بحث کرنی چاہئے یا ’’را‘‘ کے اس کردار کا ذکر دہراتے رہنا چاہئے جو الیکٹرانک میڈیا کے ناظرین اور پریس میڈیا کے قارئین کے دل و دماغ میں ہر شب اور ہر روز بٹھایا جاتا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے لئے ’’را‘‘ وغیرہ کا جو موہوم سا خطرہ ہے وہ بالواسطہ ہے، براہِ راست نہیں۔ ہم نجانے ڈائریکٹ خطرے کو پس پشت ڈال کر اِن ڈائریکٹ خطرے پر بحث و مباحثے میں کیوں اُلجھے رہتے ہیں۔ دسمبر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو دو لخت کرنے میں ’’را‘‘ کا کردار کیا اور کتنا تھا؟۔۔۔ کیا یہ کردار بالواسطہ تھا یا براہِ راست تھا؟۔۔۔ براہِ راست اور بالواسطہ کرداروں کے اثرات اور ان کے نتائج میں کیا فرق ہوتا ہے؟۔۔۔ ان کے درمیان کیا تناسب(Ratio) ہوتا ہے؟۔۔۔ کیا ایم کیو ایم یا پاکستان کی کوئی اور سیاسی جماعت اگر بھارت کے ساتھ خفیہ دوستی کرتی ہے اور وہاں سے ٹریننگ لے کر کیا پاکستانی معاشرے کے تارو پود کو اس حد تک برہم کر سکتی ہے کہ خدانخواستہ ایک اور بنگلہ دیش وجود میں آ جائے تو اس کا کیا علاج ہو گا؟۔۔۔ کیا آئی ایس آئی کا بالواسطہ رول اپنے یا دشمن کے سیاسی ماحول میں پاکستانی افواج کے براہِ است رول کا بدل ہو سکتا ہے؟۔۔۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان سوالوں پر بھی غور کیا کریں، ان پر بھی ٹاک شوز منعقد کیا کریں اور ان پر بھی کالم نگاری کیا کریں!

’’را‘‘ یا آئی ایس آئی یا سی آئی اے یا موساد یا کوئی بھی اور اندرونی یا بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی رائے عامہ کو کتنا متاثر کر سکتی ہے، وابستگانِ فوج ان جاسوسی اداروں کے پراپیگنڈہ سے کس حد تک متاثر ہوتے ہیں اور ان کی عسکری کارکردگی پر اس پراپیگنڈے کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ہمیں ان سوالوں پر بھی تو غور کرنا چاہئے۔ ماضی میں ہم نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے کارکنوں کو بلیک واٹر وغیرہ کے روپ میں تو دیکھا، لیکن وہ لوگ پاکستان کی علاقائی یا نظریاتی سالمیت کو کس حد تک نقصان یا ضعف پہنچا سکے، اس کا کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا اور اس پر کسی این جی او نے کوئی ’’اعداد و شمار‘‘ شائع نہیں کئے۔ بھارت ایک عرصہ تک اپنے ہر قومی سانحے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ دیکھ رہا ہے لیکن کیا 26/11 یا پٹھان کوٹ کو آئی ایس آئی نے پلان اور لانچ کیا تھا اور اگر کیا تھا تو اس کے اثرات کیا نکلے، یہ موضوع ایک عرصے سے زیر بحث چلا آ رہا ہے اور مستقبل میں بھی نجانے کب تک اس پر بحث و مباحثہ چلتا رہے گا۔لیکن ہمیں جان لینا چاہئے کہ جاسوسی اداروں یا ایجنسیوں کا کام ہر چند کہ اہم ہوتا ہے، لیکن کسی مُلک کو توڑنے یا قائم رکھنے کے اسباب کچھ اور ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش صرف مکتی باہنی یا ’’را‘‘ نہیں بنا سکتی تھی، اسے اگر بنایا گیا تو بھارت کی مسلح افواج نے بنایا، اس کے لئے باقاعدہ جنگ ہوئی۔ اگر مصطفی کمال کی آمد کو پاکستانی عوام نے اس عینک سے دیکھنا ہے کہ ان کے آنے سے کوئی آسمان ٹوٹ پڑے گا تو ایسا خیال کرنا غلط ہو گا۔ ہمارے میڈیا کو دن رات اسی ’’غم‘‘ نے گھلایا اور اِسی سوال نے بوکھلایا ہوا ہے کہ کمال صاحب کو کس نے لانچ کیا ہے؟اس موضوع پر بحثیں اور مباحثے کرنے کرانے کی بجائے اُن مادی اسباب پر بحث کرنی کرانی چاہئے جو نظریاتی مباحث کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں۔ فرض کریں اگر کمال صاحب آج کوئی نئی پارٹی بنا لیتے ہیں،ایم کیو ایم قصۂ پارینہ بن جاتی ہے، نئی ’’ کمال اینڈ قائم خانی‘‘ پارٹی2018ء کے عام انتخابات میں کراچی سے اتنی سیٹیں جیت لیتی ہے جتنی ماضی میں ایم کیو ایم جیتتی رہی ہے تو کیا کراچی میں امن قائم ہو جائے گا؟ کیا ہاری ہوئی ایم کیو ایم ماضی کے اپنے رول کو بھول کر اپنی شکست کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے گی، کیا کراچی میں زد د خورد کا ایک نیا دور شروع نہیں ہو جائے گا اور کراچی کا وہ امن و امان جسے پاکستان کا سوادِ اعظم اپنے دِلوں اور دماغوں میں بسائے بیٹھا ہے، منصہ شہود پر جلوہ گر ہو سکے گا؟ کیا کمال صاحب کا وہ ماضی جو شہر کے تعمیراتی اور فلاحی منصوبوں کا صورت گر شمار ہوتا ہے کیا وہ سی پیک (CPEC) کے اُن منصوبوں کا روپ دھار سکے گا، جو آج کے پاکستان کی اشد ضرورت ہیں۔ اگر کمال صاحب کو واقعی کسی ’’آئی ایس آئی‘‘ نے لانچ کیا ہے تو یہ ایک نہایت گرانبار ذمہ داری ہے۔ یہ سی پیک میری نظر میں ابھی سے آنے والے (2018ء کے) الیکشنوں کی چلمن کے پیچھے بیٹھا جھانک رہا ہے۔ کیا کراچی کا وہ چیئرمین جس نے اپنے دورِ نظامت میں کراچی کو ایک حیرت انگیز ترقی اور امن و امان سے ہمکنار کیا تھا، گوادر کا بھی کوئی ایسا چیئرمین پروڈیوس کر سکے گا، جس کا رول ’’کمالی دور‘‘ کی صدائے باز گشت بن جائے؟

اگر کمال صاحب کے ذہن میں ایسا کوئی منصوبہ ہے تو قارئین کو بہت جلد اس کی خبر ہو جائے گی۔ نئی پارٹی کا نام بھی سامنے آ جائے گا، لیکن جب تک ’’کام‘‘ سامنے نہیں آئے گا، کراچی اور پاکستان کے لوگ کمال صاحب کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔ اگر واقعی کسی ’’آئی ایس آئی‘‘ نے یہ منصوبہ سوچا ہے اور پاکستان کے مستقبل کے آسمان پر جھلملاتی کہکشاؤں کا خواب دیکھا ہے تو اس کی تعبیر لاریب پائی جا سکتی ہے۔ الطاف حسین صاحب کے Image کوUn-make کرنا اور ان کی جگہ مصطفی کمال کے نئے بُت کو Makeکرنا، اگرچہ ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر ایسا ہو گیا تو یہ پاکستان کے لئے ایک خوش آئند پیشرفت ہو گی۔ کمال صاحب کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ الطاف حسین صاحب اور ان کی ایم کیو ایم کو ’’را‘‘ کے پس منظر میں دکھا کر مطعون اورمتہم نہ کیجئے، بلکہ اس کے مقابلے میں سی پیک(CPEC) کے پیش منظر کی جھلکیاں دکھا کر اگلے الیکشن پر نگاہ رکھئے! ہر نئی تعمیر کے لئے تخریب تمام شرط ہوتی ہے۔پاکستان میں اگر کراچی نے کوئی نیا جہان پیدا کرنا ہے تو پرانی تعمیرات کا نیست و نابود ہو جانا ایک فطری عمل ہو گا:

گرچہ برہم ہے قیامت سے نظامِ ہست و بود

ہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسرارِ و جود

زلزلے سے کوہ و دَر اُڑتے ہیں مانندِ سحاب

زلزلے سے وادیوں میں تازہ چشموں کی نمود

ہر نئی تعمیر کو لازم ہے تخریبِ تمام

ہے اسی میں مشکلاتِ زندگانی کی کشود

مزید : کالم