اورنج لائن ۔ ڈاکٹر عائشہ غوث کا مقدمہ

اورنج لائن ۔ ڈاکٹر عائشہ غوث کا مقدمہ
 اورنج لائن ۔ ڈاکٹر عائشہ غوث کا مقدمہ

  

کیا اورنج لائن منصوبہ درست ہے کہ نہیں۔ اپوزیشن اس کے خلاف ایک مربوط مہم چلانے میں کا میاب ہو گئی ہے۔ کسی حد تک سول سو سائٹی نے بھی اس میں اپوزیشن کا ساتھ دیا ہے۔ جس نے اس منصوبہ پر حکومت پنجاب کو دفاعی حکمت عملی پر مجبور کر دیا ہے۔ اورنج لائن کا یہ مقدمہ لڑنے کے لیے پنجاب کی خاتون وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا میدان میں آئی ہیں۔ انہوں نے اورنج لائن اور حکومت پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اورنج لائن کے لئے دیگر محکموں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز استعمال نہیں کئے جارہے بلکہ اورنج لائن چین کی جانب سے ملنے والے ایک آسان قرضہ سے بنائی جا رہی ہے۔ کیاپنجاب کی وزیر خزانہ کی جانب سے یہ وضاحت کم ازکم اس بحث کوختم کر سکے گی کہ پنجاب کے تمام ترقیاتی پروگراموں کے فنڈز اورنج لائن کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ یہاںیہ حقیقت بھی اہم ہے ایک طرف تو اورنج لائن کے مخالفین یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام ترقیاتی فنڈز منجمد کر کے اورنج لائن بنائی جا رہی ہے ۔ دوسری طرف اپوزیشن اس بات پر بھی تنقید کر رہی ہے کہ اورنج لائن کا منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری میں کیوں شامل ہے اور چین سے اس مقصد کے لئے قرضہ کیوں لیا گیا ہے۔ شاید تنقید کرنے والوں کے نزدیک یہ بات اہم نہیں ہے کہ اورنج لائن منصوبہ کے لئے فنڈز کہاں سے آئے ہیں، یہ جہاں سے بھی آئے ہیں انہوں نے اس کی مخالفت کرنی ہے۔ اگر یہ پنجاب کے اپنے فنڈز ہیں تو بھی غلط ہے اور اگر یہ ایک آسان قرضہ ہے تو بھی غلط ہے۔

ڈاکٹر عائشہ غوث کی بات میں اس حد تک تو دم ہے کہ ماس ٹرانزٹ نظام کے بغیر کسی بھی بڑے شہر کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں استحکام ممکن نہیں۔ جب تک لوگ بڑے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے نہیں جا سکیں گے، شہر کی ترقی کی رفتار بڑھ نہیں سکتی۔ اگر ہم شہر کو آپس میں نہیں جوڑیں گے تو شہر آپس میں کئی حصوں میں بٹ جائے گا۔ بلا شبہ اورنج لائن کے مخالفین ایک دلیل یہ دے رہے ہیں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ اورنج لائن سے روزانہ اڑھائی لاکھ لوگ استفادہ کریں گے، تو جتنے میں اورنج لائن بن رہی ہے اتنے میں تو اڑھائی لاکھ مہران گاڑیاں خرید کر ان اڑھائی لاکھ لوگوں کو دی جا سکتی ہیں، جنہوں نے اس سے استفادہ کرنا ہے۔ کیا یہ ایک مضحکہ خیز دلیل نہیں۔شائد اورنج لائن کے مخالفین اس کی مخالفت میں ہر حد عبور کرنے کو تیار ہیں، کیا کسی کو اندازہ ہے کہ اگر لاہور شہر کی سڑکوں پر اڑھائی لاکھ اورگاڑیاں آجائیں تو شہر کی ٹریفک کس حد تک خراب ہو جائے گی۔ لاہور کی ٹریفک پہلے ہی اس قدر سست ہو چکی ہے ہر سڑک پر ٹریفک بند اور پھنسی رہتی ہے۔ اسی لئے سڑکوں کو سگنل فری کیا جا رہا ہے کہ ٹریفک کو دوبارہ رواں کیا جا سکے۔ اس وقت شہر میں اوسط بیس کلومیٹر کا سفر کرنے کے لئے ایک گھنٹہ کا وقت درکار ہے۔ اس لئے اگر اورنج لائن سے شہر کی سڑکوں سے اڑھائی لاکھ گاڑیاں کم ہو جائیں گی تو یہ شہر کے لئے بہتر ہے کہ اس کی جگہ اڑھائی لاکھ مزید گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر لانا شہر کے لئے بہتر ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں نے جب ماس ٹرانزٹ سسٹم بنا لئے تو انہوں نے پارکنگ فیس اور دیگر قواعد سے لوگوں کو اس بات پر راغب کیا کہ وہ اپنی گاڑیاں استعمال کرنے کی بجائے ماس ٹرانزٹ سسٹم کو استعمال کریں ۔

یہ بات سمجھ سے با لا تر ہے کہ حکومت پنجاب اس وقت اورنج لائن پر اس قدر دفاعی حکمت عملی پر کیوں مجبور ہے۔ گزشتہ انتخابات سے قبل جب لاہور میں میٹرو منصوبہ بن رہا تھا تو ایک طوفان تھا، ہر ٹاک شو اس پر تھا۔ شاید اس سے زیادہ شور تھا، کوئی اسے جنگلہ بس کہہ رہا تھا کوئی اس کو ایک مکمل نا کام منصوبہ کہہ رہا تھا۔ لیکن اس شور میں یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور پھر ساری ا پوز یشن نے سر تسلیم خم کیا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی فتح میں میٹرو بس کا ایک اہم کردار تھا اور شاید اب اورنج لائن سے بھی مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ شاید یہی ایک خوف اورنج لائن کی مخالفت کی بنیادی وجہ ہے، اس سے زیا دہ شایدکچھ نہیں۔

اسی طرح پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن بھی ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ بلا شبہ پٹواری کلچر نے ملک میں کرپشن کلچر کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پٹورای کرپشن کا ایک سمبل بن گیا تھا۔ پٹواری کی ٹرانسفر پوسٹنگ کسی سیکرٹری کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے زیادہ اہم ہو گئی تھی۔ یہ بات درست ہے کہ پٹواری کے پاس بے پناہ اختیارات نے ہی اس کی کرپشن کی بنیاد رکھی ہوئی تھی اور اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے پٹواری کلچر کا بھی خاتمہ ہو گا اور عوام کے لئے بھی آسانی ہو گی، کیونکہ کوئی بھی نیا نظام تب ہی ناکام ہو تا ہے جب اس سے آسانیاں پیدا ہونے کی بجائے مشکلات پیدا ہوں۔ اگر جیسا کہ کہا جا رہا ہے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے بعد پٹواری کے اختیارات ختم ہو جائیں گے اور ایک فرد کا حصول پندرہ منٹ کا کام رہ جائے گا اور فرد حاصل کرنے کے لئے پٹواری کا کردار ختم ہو گیا ہے تو یہ بھی کسی اورنج لائن منصوبہ سے کم بات نہیں ہے۔

مزید : کالم