حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورابکس کھولنا حکومت کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے ، چیئرمین ہوپ

حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورابکس کھولنا حکومت کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے ، ...

 لاہور(انٹرویو: میاں اشفاق انجم،تصاویر:ایوب بشیر)سعودی وزارت الحج اور موسسہ جنوب ایشیاء کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم پر اعتماد کا اظہار،وفاقی سیکرٹری سہیل عامر مرزا اور ان کی ٹیم کی مانیٹرنگ اور سرپرستی کا نتیجہ ہے حج پالیسی 2016ء میں پچاس فیصد سرکاری اور پچاس فیصد پرائیویٹ حج سکیم کی تقسیم کا فارمولہ قبول ہے جب تک 20فیصد حج کوٹہ کی کٹوتی موجود ہے حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورا بکس کھولنا حکومت کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے ہوپ نے کبھی حاجیوں سے کی گئی کمٹمنٹ کو پورا نہ کرنے والے حج آرگنائزر کی کبھی حمایت نہیں کی اور نہ آئندہ کریں گے ہم مستحق ٹورز اپریٹر کو حج کوٹہ دینے کے خلاف نہیں ہمیں انرولمنٹ،کرائی ٹیریا پر اعتراض ہے وزارت مذہبی امور کی زیر نگرانی سعودی تعلیمات پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں مرکزی چےئرمین ہوپ ندیم شریف کی روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو ،انہوں نے کہا اداروں میں اور کمپنیوں میں تھوری بہت کمی کمزوری ہو سکتی ہے اگر100میں سے ایک فیصد غلط ہو تو 99فیصددرست افراد کو ایک فیصد کی سزا نہیں دی جا سکتی ،ندیم شریف نے کہانائن الیون کے بعد یورپ کی ائیرلائنز نے پاکستان آنا بند کر دیا تھا اگر کسی جگہ غلطی ہو تو اس کی نشاندہی کرنا چاہیے اصلاح کرنا چاہیے پھر بھی زخم ٹھیک نہ ہو تو آپریشن کرنا چاہیے پھر بھی ٹھیک نہ ہو تو اس حصے کو کاٹنے کی بات کی جانی چاہیے ،پرائیویٹ حج سکیم اللہ کے فضل سے مرحلہ وار آگے بڑھی ہے ،2004ء میں پاکستان سے پرائیویٹ حج سکیم کا آغازہی اس لیے کیا گیا تھا کہ مقابلے کی فضا پیدا ہو 99فیصد حج آرگنائزر کمٹمنٹ پوری کرنے والے ہیں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پرائیویٹ حج سکیم کو وزارت مذہبی امور نے ہی پرموٹ کیا ہے 742حج آرگنائزر اب تجربہ کار ہو چکے ہیں 10سالوں میں پُل صراط عبور کیا ہے اپنی غلطیوں پر قابو پایا ہے ،ندیم شریف نے کہا ہمیں فخر ہے ہمارے سیکرٹری سہیل عامر مرزا ہماری صلاح کے لیے اقدامات کر رہے ہیں ان کی دور اندیشی کا فائدہ پرائیویٹ حج سکیم کو ہو رہا ہے ہم تعاون کریں گے ، ندیم شریف نے کہا ہم نے کبھی نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے کی مخالفت نہیں کی نہ اب کر رہے ہیں 2004ء میں جو کرائی ٹیریا بنایا گیا اسی کے مطابق کرائی ٹیریا بنایا جائے 10سال سے کام کرنے والوں کو فارغ کر کے نئے نان تجربہ کار کو کوٹہ دینے کی باتیں دانش مندی نہیں ہے نئے سیکنڈل سامنے آئے گا وزارت کی بدنامی آئے گی آڈٹ کرنے والی فرم کرمینل ریکارڈ چیک نہیں کر سکتی ،ایاٹا لائسنس اور عمرہ گروپ کا تجربہ نہیں دیکھ سکتی ،انہوں نے کہا عمرہ کرنا حج کرنا اور بات ہے حج گروپ لے کر جانا اور بات ہے بنیادی فرق کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مزید : علاقائی