غیر ملکی مشیران تعلیم کی غلط منصوبہ بندی سے نظام تعلیم تباہی کیجانب گامزن ہے،سجاد اکبر

غیر ملکی مشیران تعلیم کی غلط منصوبہ بندی سے نظام تعلیم تباہی کیجانب گامزن ...

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، جام صادق، چوہدری محمد سرفراز، رانا انوار،راناالطاف حسین، ساجد محمود چشتی، عبدالقیوم راہی ، سعید نامدار، اسلم گھمن، افضل کیانی، رحمت اللہ قریشی، شیخ اختر، عبد الطارق نیازی،رانا طارق، راؤ عابد، راؤ شمشاد، نجم النساء، صفدر کالرو، ،یونس حسن، منیر انجم ، امتیاز طاہر و دیگر عہدیداران نے کہا ہے کہ غیر ملکی مشیران تعلیم کی غلط منصوبہ بندی سے نظام تعلیم تباہی کی طرف گامزن ہے اور اپ گریڈیشن میں بلاوجہ تاخیر اساتذہ میں شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ جبکہ کچھ عناصر گمراہ کن ایس ایم ایس کرکے اساتذہ میں مایوسی پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

یف کو سکولوں کی حوالگی حکومتی تعلیمی اصلاحات کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ 8 سالوں سے حکومت نت نئے تجربات کرکے تعلیمی اداروں کو تنزلی کی طر دھکیل رہی ہے۔ پیک کا امتحانی سسٹم غریب بچوں کی ذہنی سطح سے ہم آہنگ نہیں ۔یہ اساتذہ کے معاشی استحصال کا ذریعہ ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام سے کوئی تعلیمی انقلاب برپا نہیں ہوگا۔ بلکہ بگاڑ پیدا ہوگا جس طرح 2002 کے بعد نئے نظام سے مسائل پیدا ہوئے اور آج پنجاب میں تعلیمی اداروں کی تعداد 52000 تک پہنچ چکی ہے جبکہ یہ تعداد 70000 کے لگ بھگ تھی ۔ہمیں افسوس ہے کہ پنجاب کی آبادی بڑہنے کے ساتھ تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر جسے کھلی چھوٹ دی گئی اب وہ بے لگام ہو چکا ہے اور انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اساتذہ راہنماؤں کا کہنا تھا کہ جس طرح پرائیویٹ سیکٹر حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے اسی طرح پیف کے پارٹنرز بھی آنے والے وقت میں طاقت ور ہو کر پیف اور حکومت کو بلیک میل کریں گے۔لہذا وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اساتذہ کو حقیر مت سمجھیں ۔پیف کو سکولوں کی حوالگی ، ڈسٹرکٹ ایجو کیشن اتھارٹی اور پیک کے امتحانی سسٹم پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روکیں۔ اور اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی سمری جلد از جلد منظور کرکے اساتذہ میں پھیلی مایوسی کا خاتمہ ممکن بنائیں اگر اساتذہ کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو 10 مارچ سے اساتذہ ہر جمعرات کو پنجاب بھر میں ضلعی سطح پر پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4