مفسر قرآن پر وفیسر ڈاکڑ علامہ اسلم صدیقی کی زیر صدارت خصوصی نشست

مفسر قرآن پر وفیسر ڈاکڑ علامہ اسلم صدیقی کی زیر صدارت خصوصی نشست
مفسر قرآن پر وفیسر ڈاکڑ علامہ اسلم صدیقی کی زیر صدارت خصوصی نشست

  

لاہور ( پ ر ) متماز مذہبی سکالر مفسر قرآن پر وفیسر ڈاکڑ علامہ اسلم صدیقی کے جامع مسجد حجاز گلبرگ میں درس قرآن کی نشت میں درس قرآن کی نشست میں’’تحریر کی قوت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرکے تے ہوئے کہا ہے۔کہ نبی کریمﷺ نے تحریر کو بہت اہمیت دی ہے چونکہ آپ کے زمانے میں جہانت بہت عروج پر تھی۔

مکہ معظمہ میں 17نوجوان ایسے تھے جو تحریر کر سکتے تھے۔اور ی تحریر حافظہ کی مدد سے کی جاتی،انہوں نے کہا کہ عذمانی عربوں کا حافظہ بہت مضبوط تھا۔مسلمان اپنی یاد کی ہوئی سورتیں دوسرے مسلمانوں کو سناتے اور یہ اُنکے ذوق بن گیا۔

اُنہوں نے مزید کہا۔کہ قرآن کریم کے ہزاروں نسخے جمع کئے جاتے اور اُسے تحریر ی شکل دی جاتی تحریروں کی مدد سے بڑی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں۔جو دنیا کی لابیرریوں کی زینت ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے تحریر پر زور دیا۔آپ میں اگر فرماتے لوگو جو تمہارے ہونٹوں سے نکلے اُسے تحریر کر لیا کرو،مکہ معظمہ میں 300ایسے صحابی تھے۔جو احادیث یاد کر تے جو حدیث اُنہیں ملتی وہ اُنہیں محطوظ کر لیتے،اُنہوں نے بتایا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان ہوتا ہے۔فرشتہ نیکی کی طرف اور شیطان بُرائی کی طرف راغب کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ صحابیوں سے نسخے تحریر کرواتے امام ابو حنیفہ امام حمبل نے جتنی بھی احادیث تحریر کیں وہ بالکل مستنید ہیں تحریر کا سلسلہ نبی کریم کے زمانے سے شروع ہوا۔جتنی بھی احادیث تحریر ہوئیں وہ واقعات تھے اعتبار سے درست ہیں۔زکوۃ کے بارے میں جو احکامات دیئے گئے وہ بھی تحریر ہوئے۔اس لئے ضرورت اس کی ہے شریعت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی بعض دین اور دیگر زندگی کے امور ہیں۔انہیں تحریر کر لینا چاہیے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4