یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کیمپس سیکیورٹی انتظامات کے با وجود بند

یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کیمپس سیکیورٹی انتظامات کے با وجود بند

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کیمپس سیکیورٹی انتظامات کے با وجود قریبا ڈیڑھ ماہ سے تاحال بند اور تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کے باعث کیمپس میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء و طالبات کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے متفکر اور پریشان نظر آرہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق رواں سال جنوری میں سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے تناظر میں حکومت نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کیمپس سمیت متعدد سرکاری وپرائیوٹ تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی کے غیر مناسب انتظامات کے باعث بند کر دیا تھا۔ان میں سے اکثر ادارے دوبارہ کھل گئے مگر یونیورسٹی کیمپس اوکاڑہ تاحال بند ہے۔اس حوالے سے جب یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی گئی تو معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر فی الفور عملدرآمد کرتے ہوئے کیمپس کے گرد 8 فٹ اونچی اور پونے دو کلو میٹر ( 5500 فٹ)طویل چاردیواری تعمیر کرائی جس کے اوپر مزید ڈیڑھ فٹ بلند خاردار تاریں بھی بچھائیں گئیں۔علاوہ ازیں فوول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور موثر مانیٹرنگ کیلئے پورے کیمپس میں 18 عدد سی سی ٹی وی کیمرے،واک تھرو گیٹس نصب کرائے جانے کے علاوہ جدید اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ59 سیکیورٹی گارڈز بھی بھرتی کیئے گئے ہیں۔تاہم حکومتی نمائندے ان انتظامات سے مطمئن نظر نہیں آرہے ہیں جبکہ ضلعی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ سیکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی کی عدم دلچسپی اور تاخیری حربوں کے باعث ڈویژن بھر میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد تعلیمی ادارہ تاحال بند ہے۔ذرائع کے مطابق کیمپس انتظامیہ فوول پروف سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیئے جانے کے بارے میں ضلعی حکومت کو متعدد بار تحریری طور آگاہ بھی کر چکی ہے مگر نہ تو کوئی جواب موصول ہوا اور نہ ہی ذمہ دار حکام نے کیمپس کا وزٹ کیا۔کیمپس کی تاحال بندش سے تدریسی سرگرمیاں عملا معطل ہیں اور جولائی میں یونیورسٹی کے منعقدہ کمپری ہینسو امتحانات کے ملتوی ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔طلباء و طالبات،والدین اور سماجی حلقوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم دوست وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف،محکمہ تعلیم کے اعلی افسران اور حکومتی نمائندگان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ کیمپس کو جلد از جلد کھول کر تدریسی سرگرمیاں بحال کی جائیں اور طلباء کا قیمتی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے۔اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر ترجمان یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم کی خصوصی ہدایت اور دلچسپی کے باعث یونیورسٹی کے پنجاب بھر میں پھیلے ہوئے تمام کیمپسز میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر