مغرب کو خوش کرنے کیلئے تحفظ خواتین بل جیسے قانون منظور کئے جارہے ہیں: حافظ سعید

مغرب کو خوش کرنے کیلئے تحفظ خواتین بل جیسے قانون منظور کئے جارہے ہیں: حافظ ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مغرب کو خوش کرنے کیلئے تحفظ خواتین بل جیسے قانون منظور کئے جارہے ہیں۔ اس سے خاندانی نظام تباہی سے دوچار ہو گا۔بیرونی قوتیں میدانوں میں ناکامی پرمسلم ملکوں میں انتشار پیدا کر رہی ہیں۔ مسلمانوں کو باہم دست و گریباں رکھنے کیلئے ان میں دراڑیں ڈالی جارہی ہیں۔فرقہ واریت دن بدن بڑھ رہی ہے اور اغیار کو مسلم معاشروں میں مداخلت کے مواقع مل رہے ہیں۔ اساتذہ نوجوان نسل کی رہنمائی اور بہتر تربیت کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔وہ مرکز القادسیہ چوبرجی میں اساتذہ جماعۃالدعوۃ کے زیر اہتمام ایک تربیتی و تنظیمی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعۃالدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، اساتذہ جماعۃالدعوۃکے مسؤل حافظ طلحہ سعید،پروفیسر بشیر احمدجاوید، بلال حیدر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔تربیتی نشست میں ملک بھر سے اساتذہ جماعۃالدعوۃ کے زونل، ضلعی اور تحصیلی ذمہ داران نے شرکت کی۔ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلم حکمرانوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ مغرب کے قوانین اپنے ملکوں میں رائج کئے جائیں۔ آزادی نسواں کی بات کر کے تحفظ خواتین بل جیسے قانون بنائے جارہے ہیں۔ بظاہر کہنے کو تو یہ بڑی آزادیوں والے حقوق ہیں لیکن درحقیقت یہی وہ چیزیں ہیں جس سے مغرب میں عورت ہوس کا نشانہ بن کر رہ گئی اور آج مغرب کی عورتیں اسلام کے خاندانی نظام سے متاثر ہو کر سب سے زیادہ اسلام قبول کر رہی ہیں۔ اسلام نے عورت کو حقوق دیے اور اس کی عزت و عصمت کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں اس وقت اسلام اور کفر کا معرکہ جاری ہے۔ ہر آنے والے دن اس میں شدت بڑھ رہی ہے۔کفار متحد ہو کر تمامتر وسائل کے ہمراہ مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔ ان کی خفیہ ایجنسیاں مسلمانوں کیخلاف خوفناک سازشیں اور منصوبہ بندیاں کر رہی ہیں جبکہ مسلمانوں کو جس طرح متحد ہو نا چاہیے تھا آج مسلم معاشروں میں وہ چیز نظر نہیں آتی۔ عالم اسلام پارہ پارہ ہے۔مسلمانوں میں فرقہ واریت زور پکڑ رہی ہے جس سے دشمنان اسلام فائدے اٹھا رہے ہیں۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ بیرونی قوتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس خطہ میں مسلمان ملکوں کے پاس تیل اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں اس لئے انہیں آپس میں لڑا کر ہی ان کے وسائل برباد کر دیے جائیں۔ یہ بہت بڑی سازش ہے جو اس وقت کی جارہی ہے۔ ہمیں دشمن کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے انہیں ناکام بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام دشمن قوتوں کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ یہاں کے تعلیمی نظا م کو غیر اسلامی بنانے کیلئے بے پناہ وسائل خرچ کئے جارہے ہیں۔ان سازشوں سے نمٹنے کیلئے اساتذہ ہی ہیں جو بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ وہ اسلام و پاکستان کے تحفظ کیلئے نوجوان نسل کی تربیت کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

مزید : صفحہ آخر