محنت کش کیخلاف منشیات فروشی کا جعلی مقدمہ ، سی سی پی او کا انکوائری کا حکم

محنت کش کیخلاف منشیات فروشی کا جعلی مقدمہ ، سی سی پی او کا انکوائری کا حکم

لاہور (لیاقت کھرل) شاد باغ پولیس کے اے ایس آئی وقاص بھٹی کے کار خاص اہلکار ذوالفقار جانگلی ا ور کانسٹیبل عمران نے محنت کش نواز مسیح کو مبینہ طور پر ’’مک مکا‘‘ نہ ہونے پر ڈیڑھ کلو چرس کے ناجائز مقدمہ میں ملوث کر دیا۔ محنت کش کی والدہ بیوہ خاتون پروین پی پی دن بھر تھانے میں اہلکاروں کے پاؤں پکڑتی رہی، اہلکاروں نے رہائی کے لئے 30 ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی اورمبینہ طور پر رشوت نہ ملنے پر دھکے دئے اوتشددکرکے تھانہ سے نکال دیا۔ سی سی پی او لاہور نے بیوہ خاتون کی درخواست پر سخت نوٹس لے لیا اورسی سی پی او لاہور نے اپنے آرڈر نمبر CCPO-2016-515 کے تحت ایس پی سٹی ڈویژن اور ڈی ایس پی مصری شاہ کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ۔ بیوہ خاتون پروین بی بی نے اپنی بہو رخسانہ اور بڑے بیٹے شہزاد مسیح کے ہمراہ ’’پاکستان‘‘ کے دفتر میں آ کر بتایا کہ اس کا بیٹا نواز مسیح ایک کم سن بیٹے کا باپ اور سیف الماریوں کا کام کرتا ہے۔ متاثرہ کے مطابق اس کا بیٹا نہ تو چرس فروخت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے بیٹے کا کسی دھندے کرنے والے سے کوئی تعلق ہے کہ بیوہ خاتون کاکہناتھاکہ اس کا بیٹا 8 فروری کو گھر واپس آ رہا تھا کہ ایس ایچ او کے کار خاص اہلکار ذوالفقار جانگلی اور عمران علی نے راہ جاتے پکڑ لیا اور تھانے لے جا کر پہلے تچھرول کی اور پھر رہائی کے لئے 30 ہزار روپے رشوت طلب کر لی بیوہ خاتون کے مطابق اس نے سود پر 18 ہزار روپے رقم لے کر اہلکاروں کو دیئے لیکن رشوت کی پوری رقم کا بندوبست نہ ہونے پر اہلکاروں نے تھانیدار وقاص بھٹی کے حوالے کر دیا، جس نے اہلکاروں کے ہمراہ اس کے بیٹے پر پہلے چھترول کی اور بعد میں الٹا لٹکا کر دن بھر تشدد کرتے رہے اور رشوت کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر ڈیڑھ کلو چرس کا بوگس اور ناجائز مقدمہ نمبر 109/16 درج کر دیا ۔ خاتون کے مطابق وہ دن بھر تھانیدار وقاص بھٹی اور کار خاص اہلکاروں کے پاؤں پکڑتی رہی، لیکن اہلکاروں کو ترس نہ آیا اور دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا، بیوہ خاتون کے مطابق انوسٹی گیشن کے تفتیشی افسر نے بھی اس کی بات نہ سنی اور بے گناہ کرنے کے لئے 20 ہزار مانگے اور دس ہزار روپے کی رقم لینے پر بھی جیل بھجوا دیا ۔بیوہ کے مطابق اس کا بیٹا بغیر کسی جرم کئے ایک ماہ سے جیل میں بند ہے۔ اس کامزید کہناتھاکہ محلے میں سر عام چرس فروخت ہو رہی ہے جو ہاتھ آ جائے، پولیس اہلکار اس سے 50 ہزار سے 80 ہزار تک میں مک مکا کر کے چھوڑ دیتے ہیں جو پولیس اہلکاروں کے معیار پر پورا نہ اترے اس کو جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے۔ اہلکاروں نے علاقے میں اپنے الگ سے ٹاؤٹ رکھے ہوئے ہیں جو مک مکا کرواتے ہیں۔ میرے بیٹے کی رہائی کے لئے بھی ٹاؤٹوں کے ذریعے مک مکا کرنے کی آفر دی گئی اور کارخاص ذوالفقار اور عمران کی ڈیمانڈ کے مطابق رشوت کی رقم نہ دے سکی جس پر دھکے کھا رہی ہوں۔ اب جیل میں ملاقات کے لئے جاتی ہوں تو یہ ملاقات 800 سے 1000 روپے خرچ ہو جاتے ہیں جیل اہلکار بھی ملاقات کے لئے مٹھی گرم کرنے کو کہتے ہیں۔ بیوہ خاتون نے بتایا کہ سی سی پی او لاہور نے اسے انصاف کی مکمل گارنٹی دی اور ایس پی سٹی اور ڈی ایس پی مصری شاہ کے پاس بھجوایا سی سی پی او اور ایس پی سٹی کے حکم پر ڈی ایس پی مشرف شاہ حاجی محمد اکرم نے بھی اسے انصاف کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔ سی سی پی او مداخلت کر کے اسے جلدی انصاف دلائیں اور اس کے بے گناہ بیٹے کو جیل سے رہائی دلوائی جائے۔ جبکہ اس حوالے سے ڈی ایس پی مصری شاہ حاجیم حمد اکرم کا کہنا ہے کہ بیوہ خاتون کی درخواست پر کارروائی کی جا رہی ہے انشااللہ انصاف ہوگا آپریشن پولیس کے اہلکاروں کے رشوت طلب کرنے اور انوسٹی گیس کے تفتیشی افسر کے رشوت وصول کرنے سمیت تشدد کرنے کے خلاف الگ سے انکوائری کی جا رہی ہے جبکہ تھانیدار وقاص بھٹی کے اختیارات سے تجاوز کرنے اور بوگس کارکردگی ظاہر کرنے کے لئے ناجائز مقدمہ درج کرنے پر ڈی آئی جی آپریشن کو حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

مزید : علاقائی