یومِ پاکستان کی تقریبات

یومِ پاکستان کی تقریبات
یومِ پاکستان کی تقریبات

  

سیانے کہتے ہیں کہ جو آدمی کام کرتا ہے، غلطی اُسی سے ہوتی ہے، گویا:

گِرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ہمارے پنجاب کے پورے اور اصلی وزیر تعلیم رانا مشہود کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ وہ پنجاب کے منظر نامے پر جتنے متحرک اور فعال نظر آتے ہیں، ہماری میڈیا کمیونٹی ان کے بارے میں اتنے ہی سوالات اُٹھاتی رہتی ہے بقول غالب:

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

رانا صاحب بھی کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا کئے رکھتے ہیں۔ کبھی یوتھ فیسٹیول کے خیال کو بروئے عمل لاتے ہیں، کبھی تقریری مقابلوں اور مجالس مباحثہ کا بیڑہ اُٹھا لیتے ہیں۔ اب مارچ کا مہینہ آتے ہی ان کے دِل میں خیال آیا ہے کہ کیوں نہ اس بار یوم پاکستان کا ہفتہ منایا جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اپنا خیال رکھا تو حسب توقع وہاں سے بھی منظوری مل گئی، چنانچہ طے ہوا کہ19سے26مارچ تک یومِ پاکستان کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ ان دِنوں وہ مختلف محکموں کے سیکرٹریز، سیکرٹریوں، پنجاب کی جامعات کے وائس چانسلروں اور پاکستان کی بات کرنے والے اداروں کے عہدیداروں سے دن رات مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یوم پاکستان کو ایک نئے ڈھنگ سے منانے کا آغاز کیا جا سکے۔ اس ضمن کی پہلی میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ الحمرا میں سات روزہ تقریبات منعقد ہوں گی، تقریری مقابلے ہوں گے، ملی نغموں کی محافل ہوں گی، تحریکِ پاکستان،بالخصوص قراردادِ لاہور پیش کرنے میں سرگرم کردار ادا کرنے والی شخصیات کی تصویری نمائش ہو گی، سکولوں اور کالجوں میں بھی پہلی بار شایانِ شان طریقے سے یومِ پاکستان منایا جائے گا۔ الحمرا میں سات روزہ کتاب میلہ ہو گا۔نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل شاہد رشید نے مجھے بتایا کہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری صاحب نے خوشخبری سنائی ہے کہ رعایتی قیمت پر کتاب بیچنے والے پبلشروں کو حکومتِ پنجاب کی طرف سے 20فیصد سبسڈی دی جائے گی۔

یومِ پاکستان منانے کے لئے لائحہ عمل بنانے والی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، جس کی صدارت رانا مشہود احمد خان کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں تجویز دی گئی کہ23مارچ کے سلسلے میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس پر میری رائے یہ تھی کہ اس موقع پر غزلیہ مشاعرے کی کوئی گنجائش نہیں، بہتر ہے کہ اس برس ایک قومی مشاعرے کی طرح ڈالی جائے،جس میں نامور اور مستند شعرائے کرام اپنی قومی اور ملی شاعری پیش کریں تاکہ حب الوطنی کے جذبے کو مزید مہمیز مل سکے۔ یہاں مَیں نے انیسویں صدی میں قائم ہونے والی انجمنِ پنجاب کا ذکر بھی کیا، جس نے مولانا حالی اور آزاد جیسے شاعروں کی معاونت سے برصغیر میں موضوعاتی نظموں کا آغاز کیا اور شاعروں کو گل و بلبل اور لب و رخسار کے سحر سے نکال کر غمِ روزگار اور زندگی کی دوسری حقیقتوں سے نظریں ملانے کا حوصلہ عطا کیا تھا۔اس بار انجمنِ پنجاب کا کردار الحمرا آرٹس کونسل ادا کر سکتی ہے۔ یہ قومی مشاعرہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میں بھی ہو سکتا ہے۔

دو سال پہلے ریڈیو پاکستان لاہورنے یوم پاکستان کے حوالے سے ملی نغموں کے ایک مقابلے کا اہتمام کیا تھا، جس میں بے شمار شاعروں نے اپنا کلام ارسال کیا ہے۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے ملی نغمے معروف گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کئے گئے اور مُلک بھر کے ریڈیو سٹیشنوں سے نشر کیے جاتے رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نغمے اس سال بھی ریڈیو سے یومِ پاکستان کے موقع پر نشر کیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت ریڈیو پاکستان لاہور کی میوزک لائبریری سے یہ نغمے حاصل کر سکتی ہے اور الحمرا میں ہونے والے کتاب میلے اور دیگر تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے جذبۂ حب الوطنی کی تسکین کے لئے انہیں بار بار چلا سکتی ہے، یعنی کم خرچ بالا نشیں والا کام ہو گا۔ ہینگ لگے گی نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آ جائے گا۔

کتاب میلے میں صرف ان پبلشروں اور تاجرانِ کتب کو مفت سٹال فراہم کیے جائیں جو خریداروں کو 50فیصد تک رعایت دیں۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور لاہور مرکز کی انچارج محترمہ نزہت اکبر نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بھی اس سات روزہ کتاب میلے میں اپنا سٹال لگائیں گے اور شائقین کتب کو عمدہ اور معیاری کتابیں نہایت سستے داموں فراہم کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب حکومت پنجاب کی20فیصد سبسڈی اس میں شامل ہو جائے گی تو رعایت مزید بڑھ جائے گی۔

یومِ پاکستان کے ہفت�ۂ تقریبات کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں بعض اداروں کے سربراہوں نے کچھ ایسی تجاویز دیں، جن پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پہلے ہی متحرک طریقے سے عمل کر رہا ہے۔ان کی بات سُن کر وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کم از کم ایک بار نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا دورہ ضرور کریں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ یہ ادارہ کس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ رانا صاحب کے اس مشورے پر، جناب شاہد رشید نے تجویز دی کہ اگلی میٹنگ کیوں نہ ٹرسٹ کے دفتر میں رکھ لی جائے؟

چنانچہ آج سات مارچ کو نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میں اجلاس ہو گا، جس میں لائق عمل تجاویز پر مزید غور کیا جائے گا:

ہے جستجو کہ خوب سے خوب تر کہاں

اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں

مزید : کالم