سیوریج کی آمیزش اور آرسینک کی بڈ ھتی مقدار پینے والا پانی میٹھا زہر بن گیا

سیوریج کی آمیزش اور آرسینک کی بڈ ھتی مقدار پینے والا پانی میٹھا زہر بن گیا

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے 52فیصد علاقوں میں پینے کے پانی میں آرسینک یعنی میٹھا زہر اور 27فیصد علاقوں میں سیوریج ملے پانی کی آمیزش سامنے آ گئی ہے جس کی تصدیق پی سی ایس آئی آر نامی ملک کے معروف ادارے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی کی اس پر ریسرچ بھی ہوئی، مگر لاہور کے پانی میں بڑھتی ہوئی آرسینک یا سنگھیا کی مقدار کو کم کرنے کے لئے عملی طور پر کچھ نہیں کہا گیا رپورٹ کے مطابق پینے کے پانی میں سنگھیا کی بڑھتی ہوئے مقدار نے وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب این اے 120 قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے حلقہ این اے 122وزیر اعلیٰ کے فرزند حمزہ شہباز کے حلقہ این اے119،ملک ریاض کے حلقہ 118اور روحیل اصغر کے این اے 124، افضل کھوکھر کے حلقہ این اے 128کو بھی نہیں بخشا جہاں سالانہ بنیادوں پر زیر زمین پینے کے پانی میں آر سینک کی مقدار میں 2سے 3فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور پانی پینے کے قابل نہیں رہا، پانی میں آرسینک کی زیادہ سے زیادہ مقدار مسلم لیگ (ن) کے ملک ریاض کے حلقہ این اے 118افضل کھوکھر کے حلقہ این اے 128اور سپیکر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122میں ہے ان حلقوں میں پانی کے اندر آرسینک کے ساتھ ساتھ سیوریج کی آمیزش بھی ریکارڈ پر آ چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ان علاقوں میں فیکٹریوں سے کیمیکل ملا پانی سیوریج کی لائنوں میں ڈالنے کی بجائے فیکٹریوں کے اندر 2سو سے 3سوفٹ گہری گرکیاں کھود کر ان میں ڈالا جا رہا ہے اور یہ آلودہ اور زہر یلا پانی زمین کے اندر واقع صاف پانی میں مل کر اسے بھی زہریلا بنا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانی کے اندر آرسینک کی موجودگی کی رپورٹ ایل ڈی اے ، واسا، ضلعی حکومت، محکمہ ماحولیات محکمہ ہاؤسنگ پبلک ہیلتھ کے علم میں ہے مگر مذکورہ محکمے اس کی روک تھام میں عملاً ناکام ہو چکے ہیں اس حوالے سے گزشتہ دنوں واسا حکام نے ایک تفصیلی رپورٹ حکومت کو فراہم کی جس میں بتایا گیا تھا کہ شہر لاہور کے پانی میں آرسینک کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے اس کی روک تھام نہ کی گئی تو آئندہ 20سالوں میں لاہور کا پانی پینے کے قابل نہیں رہے گا مگر اس رپورٹ کو فائلوں میں دفن کر دیا گیا اور شہریوں کو سنگھیا ملا پانی پی کر پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہونے پر چھوڑ دیا گیا ہے اس حوالے سے محکمہ ماحولیات کے ڈی جی ڈاکٹر جاوید اقبال سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسی فیکٹریاں جو پینے کے پانی کو آلودہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ایسی فیکٹری مالکان کو نوٹس دیئے گئے ہیں کہ وہ گھر کی سسٹم بند کریں استعمال شدہ پانی کشیدہ کر کے سیوریج میں ڈالیں ورنہ فیکٹریاں بند کر دیں گے جبکہ واسا کے ایم ڈی چودھری نصیر احمد نے کہا کہ پانی کے اندر بڑھتی ہوئی آرسینک کی مقدار لمحہ فکریہ ہے اس کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہونگے ورنہ پانی پینے کے قابل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں تمام محکموں کو ساتھ ملا کر مشترکہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ لاہور کے میٹھے پینے کو بچا لیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1