نیب کا موجود ہ ڈھانچہ مشرف نے نواز شریف سے انتقام کیلئے بنایا تھا ، پرویز رشید

نیب کا موجود ہ ڈھانچہ مشرف نے نواز شریف سے انتقام کیلئے بنایا تھا ، پرویز ...

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے نیب کا ڈھانچہ نواز شریف سے انتقام کے لئے بنایا تھا ۔بینظیر بھٹو کا احتساب ہو یامشرف کا احتساب ہو ہم دونوں میں سر خرو ہوئے ہیں ،جنہوں نے احتساب کے خوف سے اس دور میں مسلم لیگ (ن) کو نہیں چھوڑا وہ آج بھی نہیں چھو ڑیں گے ،کیا خیبر پختوانخوامیں نیب کے قوانین کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ وہاں تو ادارے کے سربراہ کی ہی چھٹی کر ادی گئی بتایا جائے عمران خان کی دم پر کس کا پاؤں آیا ہے ، حقوق نسواں بل پنجاب کیلئے ہے اٹک سے اس پار رہنے والوں کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ،اگر مصطفی کمال کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت ہیں تو وہ سرفراز مرچنٹ کے معاملے میں چوہدری نثار علی خان کی طرف سے بنائی جانے والی کمیٹی کو پیش کریں ،ہم نے تو کراچی کے حالات ٹھیک کرنے کیلئے سندھ میں اپنی حکومت کی قربانی دی ، ہم نے تو انہیں حکومت سے نکال دیا تھا ، دوبارہ انہیں حکومت میں کون لایا اور کس نے مضبوط بنایا،جو مشرف کے دائیں اور بائیں تھے وہ بھی پارٹنر ان کرائم ہیں ان سے بھی پوچھا جانا چاہیے ،عمران خان بتائیں انہوں نے 2004ء میں الطاف حسین کی بھارت میں تصاویر لگی دیکھیں لیکن انہوں نے اس راز کو کیوں 12سال اپنے سینے میں دفن رکھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی تقریب حلف بردار ی کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔پرویز رشید نے کہا کہ حقوق نسواں بل پنجاب میں پاس ہوا ہے لیکن اس بارے میں بات کہیں اور کی جارہی ہے۔ پنجاب کی حدود تو اٹک پر ختم ہو جاتی ہے جو اٹک سے دورپرے رہتے ہیں وہ اس بل سے کیوں خوفزدہ ہیں ۔جو شخص پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان میں رہتا ہے اسے تو حقوق نسواں بل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ،اس بل کا اطلاق تو راولپنڈی ، ملتان ،لاہور اور پنجاب کے اندر ہوتا ہے ۔ ہاں اگر ان سے پنجاب میں کوئی غلطی ہوئی ہے جو انہوں نے خفیہ رکھی ہوئی ہے اور بتائی نہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،اگر ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی تو اٹک سے اس طرف رہنے والوں کو اس بل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے نیب کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وفاق کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے 2005ء میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے اور اس میں احتساب کے حوالے سے شقیں شامل کی گئی تھیں ۔سب جانتے ہیں کہ نیب کے موجودہ قوانین اور ڈھانچہ جنرل مشرف نے بنایا تھا اور اس کا مقصد صرف نوازشریف سے انتقام لینا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا حتساب تو 20سال سے ہوتا چلا آرہا ہے ، دو مرتبہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ہمارا احتساب کیا اور پھر دس سال تک مشرف نے ہمارا احتساب کیا ،اگرہم سے کہیں پر بدعنوانی اورجرم کرنا تو بہت دور کی بات ہے اگر کوئی غلطی یا کوتاہی بھی سرز دہوتی تو مشرف کبھی ہمیں سپیئر نہ کرتا لیکن الحمد اللہ محترمہ بینظیر بھٹو کا احتساب ہو یامشرف کا احتساب ہو ہم دونوں سے سر خرو ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اداروں کو درست کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔جب ہم بجلی کے نظام کو درست کرنے کی بات کرتے ہیں تو کیا یہ سوچا جائے گا کہ کیوں ہم بجلی کو ٹھیک کر رہے ہیں کیا ہم اس سے خوفزدہ ہیں ،اگر ہم اچھی ٹرانسپورٹ کا سوچیں گے تو یہ سوچیں گے کہ اس میں ہم نے خود بیٹھنا ہے اس لئے عوام کو ٹرانسپورٹ دے رہے ہیں ہم نے لوگوں کی سہولت دینے کے لئے اورپاکستان کے لئے کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترامیم ہو سکتی ہے بلکہ کی گئی ہیں کیا آئین سے خوف تھا بلکہ آئین میں کچھ غلط شقیں تھیں جنہیں ختم کرنا ضروری تھا ۔ اگر نیب کے نظام میں کوئی کمی ہے کوئی خامی ہے اس کو بہتر بنانا چاہیے تو ہم بنائیں گے لیکن الحمد اللہ نیب کے کسی قانون سے ہمارے خلاف کوئی کارروائی ثابت ہو سکی ہے اور نہ ہم ہم اس سے خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا پختوانخواہ میں نیب کے قوانین کو تبدیل نہیں گیا بلکہ وہاں تو نیب کے سربراہ کی چھٹی کرا دی گئی ۔ہم نے تو کسی کی چھٹی نہیں کرائی نہ کوئی قانون تبدیل نہیں کیا بلکہ صرف اپنے تحفظات ہیں وہ بیان کرتے ہیں اور ہم 2005اور اس سے پہلے سے بیان کرتے آرہے ہیں ۔ عمران خان نے نیب کے سربراہ کی چھٹی کر دی ،قوانین کو تبدیل کر دیا ان کی دم پر کس کا پاؤں آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نیب کے حوالے سے 2005ء میں اٹھائی ا سکے بعد پانچ سال پیپلزپارٹی کی حکومت رہی انہوں نے کیوں اس میں تبدیلیاں نہیں کیں۔ہماری نیب کے خلاف کوئی شدت نہیں ۔ بلکہ نیب کے چیئرمین نے خو تسلیم کیا ہے کہ اس کے نظام میں تبدیلیاں لانی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں نیب پنجاب میں جس کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے کرے لیکن جب تک ثابت نہیں ہوتا کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جانی چاہیے اور یہاں پر ثابت ہونے سے پہلے پگڑی اچھالی جاتی ہے۔ انہوں نے مصطفی کمال کے ایم کیو ایم پر سنگین الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس پر بڑی تفصیلی بات کر چکے ہیں۔ سرفراز مرچنٹ نے بھی الزامات لگائے تھے اس کے لئے چوہدری نثار نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو ان الزامات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرے گی اگر مصطفی کمال کے پاس کوئی شواہڈ ہیں دستاویزات ہیں تو انہیں بھی اس کمیٹی کے پاس ضرور جانا چاہیے وہ جو میڈیا پر الزامات لگارہے ہیں انہیں وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں۔

مزید : صفحہ اول