قومی ایکشن پلان پر عمل کیساتھ نظریاتی اصلاح بھی ناگزیر ہے ،طاہر القادری

قومی ایکشن پلان پر عمل کیساتھ نظریاتی اصلاح بھی ناگزیر ہے ،طاہر القادری

لاہور(خبر نگار خصوصی) عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ مجلس ختم الصلوۃ علی النبی ﷺ کے عظیم الشان اجتماع سے ٹورنٹو سے براہ راست ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے نام پرحاصل کئے گئے ملک میں حکمرانوں نے اپنے اقتدار کیلئے انتہا پسندی کو فروغ دیا ۔قومی ایکشن پلان پر عمل امن و امان بحال کرنے کے ساتھ ساتھ فکری اور نظریاتی اصلاح کیلئے بھی ناگزیر ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ مسلمانوں کی شناخت قلم اور کتاب تھی ۔حکمرانوں نے اس کی جگہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی ۔قومی مجرم حکومتوں نے دانستہ آنکھیں بند کئے رکھیں کہ نوجوان تعلیمی اداروں اور مدرسوں میں کس قسم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس ظالم نظام کے تحت دو فی صد کرپٹ اشرافیہ اپنے اقتدار کیلئے دہشت گرد گروپوں کو تو گوارا کر رہی ہے مگر اسے یہ گوارا نہیں کہ عام آدمی کو تعلیم اور شعور ملے اور وہ اپنے حق کیلئے کھڑی ہو ۔انہوں نے کہاکہ تحریک منہاج القرآن کے تعلیمی ادارے جدید اور با مقصد تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنا ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں ،نوجوان تعلیم برائے ڈگری یا روزگار کی بجائے تعلیم برائے اسلام اور انسانیت کی خدمت کے مقصد حیات سے وابسطہ ہوں،انہوں نے کہاکہ دہشتگردی اور جہالت عالم اسلام کے دکھتے ہوئے مسائل ہیں،افسوس غریب اور امیر اسلامی ممالک نے جدید اور معیاری تعلیم و تحقیق کی ناگزیر ضرورت کو نظر انداز کیا اور نتیجتاً اغیار کی غلامی کے طوق پہننے پڑے ،انہوں نے کہاکہ نوجوان دہشتگردی کے خاتمے اور فروغ امن نصاب کو اپنے مطالعہ کا حصہ بنائیں اور یہ پیغام ہر شہری تک پہنچائیں اور انتہا پسندی سے پاک اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں اپنا دینی،ملی اور قومی کردار ادا کریں ۔

مزید : صفحہ اول