فیسوں میں 5فیصد اضافہ ، پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا کل اور پرسوں سکول بند ، سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کا کھلے رکھنے کا اعلان

فیسوں میں 5فیصد اضافہ ، پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا کل اور پرسوں سکول بند ، ...

لاہور( اپنے نامہ نگار سے) پاکستان ایجوکیشن کونسل نے ایجوکیشن اتھارٹی بل سال 2016ء کے خلاف صوبے بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مکمل ہڑتال اور کل سے دو روز کے لئے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے، جس پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تنظیم دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ اس سلسلہ میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا ہے کہ ایجوکیشن کے خلاف صوبے بھر کے ایک لاکھ پرائیویٹ سکولز کل سے دو روز کے لئے بند رہیں گے۔ اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں کل منگل اور بدھ کو دو روز کے لئے اے کیٹگریز اور بی کیٹگریز کے سکولز بند کر کے ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ حکومت نے ایجوکیشن اتھارٹی بل کو واپس نہ لیا تو صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کو غیر معینہمدت کے لئے بند کیا جائے گا جس کے لئے مرکزی مجلس کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے اور ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ادیب جاودانی نے کہا ہے کہ چونکہ بچوں کے نرسری کلاس سے آٹھویں کلاس تک سالانہ امتحانات ہو رہے ہیں اور امتحانات کے دوران تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے بچوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو جائیگی۔ بچے سالانہ امتحانات نہیں دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن اتھارٹی بل کے خلاف ہائی کورٹ میں باقاعدہ ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے جس کی ہائی کورٹ لاہور میں آج سماعت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش یا ہڑتال سے یہ اتنا بڑا مسئلہ حل نہیں ہو گا، اگر ہڑتال ہی کرنا ہے تو بچوں کے سالانہ امتحانات ختم ہونے کے بعد مشاورت سے اس کا اعلان کرنا چاہیے۔ دوسری جانب تعلیمی اداروں میں ہڑتال سے بچوں کے نرسری سے مڈل تک کی کلاسوں کے ہونے والے سالانہ امتحانات میں تعطل پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور بچوں کے والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ اس حوالے سے سیکرٹری تعلیم پنجاب عبدالجبار شاہین اور ای ڈی او تعلیم لاہور پرویز اختر خان نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے معاملات پر کوئی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم سکولوں میں فیسوں کو بڑھانے کے حوالے سے وزیر تعلیم کے ساتھ دو روز قبل پرائیویٹ سکولز مالکان کی ہونے والی میٹنگ میں تمام معاملات طے پا گئے تھے جس میں تعلیمی اداروں کے مالکان کو قانون کے مطابق اگلے اکیڈمک سیشن سے فیسوں میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر کسی کو اعتراض یا مزید کوئی مشورہ کرنا یا کوئی شکایت ہے تو ہر ضلع میں ایجوکیشن اتھارٹی قائم ہے، بات کر کے معاملات حل کروا سکتے ہیں۔ جس میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ادیب جاودانی اور ان کی تنظیم سمیت درمیانے درجہ کے پرائیویٹ سکولز مالکان نے ہڑتال میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ای ڈی او تعلیم پرویز اختر خان نے مزید بتایا کہ درمیانے سکول کے مالکان نے انہیں یقین دہانی کروا رکھی ہے کہ ان کا ایشو نہ ہے۔ دوسری جانب پانچویں ، آٹھویں ، نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے آج کل سکولز ویسے ہی خالی پڑے ہیں اس کے باوجود ہڑتال کا حق نہیں بنتا، تاہم اس معاملے کو سلجھانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، انشاء اللہ ہڑتال کی کال کو واپس کروانے میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی۔

مزید : صفحہ اول