سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طلبا قیادت کریں :چیف جسٹس سپریم کورٹ

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طلبا قیادت کریں :چیف جسٹس سپریم کورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طا لب قائد اعظم محمد علی جناح کے نقش قدم پر عمل کرتے ہوئے آگے آئیں اور لیڈرشپ کا کردار ادا کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے دورے دوران فیکلٹی ممبران، اسٹاف، طالب علموں اور دیگر اہم شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی کم سے کم ایک نسل پاکستان میں قیادت پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا اور ملک تعلیمی اور سماجی شعبے اور انفراسٹرکچر میں پھیچے رہ گیا۔ انہوں نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں دی جانے والی تعلیم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائد اعظم کی مادر علمی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ مستقبل میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک اعلی مقام حاصل کریگا۔ چیف جسٹس نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی شیخ نے سندھ مدرستہ الاسلام کے بانی کے خوابوں کوعملی جامعہ پہناتے ہوئے آج اس ادارے کو یونیورسٹی کے درجہ تک پہنچایا ہے۔میں یہاں کا جناح میوزم دیکھ کراس سے بہت متاثر ہوا جہاں پر بابائے قوم اور دیگر قومی ہیروز کی یادگارز اور ان سے منسلک ریکارڈز کو سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ ایس ایم آئی یو کے طالبعلموں کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے کہ وہ اس تاریخی ادارے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں سے قائد اعظم سمیت کئی عظیم لیڈز نے تعلیم حاصل کی۔ اسی طرح اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے موجودہ طالبعلموں پر اب یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قائد اعظم کے نظریے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس ملک کو ایک خوشحال ریاست بنائیں۔ وائس چانسلر ایس ایم آئی یو ڈاکٹر محمد علی شیخ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی اپنی ایک سو تیس سالہ تاریخ میں قائد اعظم سمیت کئی نامور لیڈرز پیدا کرچکا ہے۔ ہم نے چین کی سات جامعات سے معاہدات کیے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ہم برطانیہ اور دیگر ممالک کے اداروں کیساتھ بھی کام کررہے ہیں۔ایس ایم آئی یو اپنے طالبعلموں کی تعلیمی پرورش کررہا ہے تاکہ ان کے اندرموجود لیڈرشپ کوالٹیزمزید اجاگر ہوں جس کیلئے ہم نے کئی لیڈرشپ پروگرامز بھی شروع کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم آئی یو نے تحقیق اور اعلی تعلیم کے عوض ملکی سطح پر اپنی منفرد پہچان بنائی ہے جس کی وجہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی کوالٹی اینہانسمینٹ سیل کو ڈبلیو کیٹیگری سے بھی نوازا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس ندیم اختر سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں کی سینڈیکیٹ کے رکن ہونے کے ناطے اس ادارے سے منسلک ہیں اور اسے یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے کی گئی جدجہد سے بہ خوبی واقف ہے۔انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں کلیہ قانون قائم کی ضرورت ہے۔ ا س موقع پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین اور شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) آغا رفیق نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی اپنی اعلی تعلیم کے باعث سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں کیلئے ایک مثال ہے اس لیے سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیب کے سابق چیئرمین اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ نے کہا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی معیاری تعلیم فراہم کررہا ہے اور یہاں پر میرٹ کی بنیاد پر اسٹاف کی تقرریاں کی جاتی ہیں۔جسٹس (ر) حامد مرزا نے چیف جسٹس آف پاکستان کا سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو شیلڈ اور اور دیگر تحائف پیش کیے۔ تقریب میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طالبعلموں، فیکلٹی ممبرز، اسٹاف ، وکلأ، سوئس قاؤنصل جنرل اور روسی قونصل خانے کے حکام سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں قائم جناح میوزم کا دورہ کیا اور وہاں پر سنبھال کر رکھی گئی تاریخی نوادرات کی تعریف کی۔

مزید : کراچی صفحہ اول