بنوں ،داؤد شاہ میں 150 افراد لشمینیا کے مرض میں مبتلا

بنوں ،داؤد شاہ میں 150 افراد لشمینیا کے مرض میں مبتلا

بنوں(نمائندہ پاکستان)لشمانیہ کی بیماری نے دہشت پھیلادی برلشتی داؤد شاہ میں 150سے زائد بچے،بچیوں اور مرود وخواتین کا شکار کرلیا ،عوام میں شدید خوف وہراس پھیل گیا محکمہ صحت سے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ ،تفصیلات کے مطابق بنوں کے دیہی علاقے برلشتی داؤد شاہ میں لشمانیہ مچھروں کے کاٹنے سے 150سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی ہے جبکہ مرد وخواتین بھی شامل ہیں جبکہ دو ماہ کا بچہ بھی شامل ہے متاثرہ افراد کے چہروں اور جسم پر محصوص قسم کے دانے نکل آئے ہیں اس سلسلے میں صحافیوں کی ٹیم نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اس دوران ویلج کونسل مشر داؤد شاہ کے ویلج ناظم ضیاء اللہ اور تحریک انصاف داؤد شاہ کے صدر شہانزیب خان نے بتایا کہ برلشتی میں لشمانیہ مچھروں کے کاٹنے سے متاثرہ افراد کی تعداد 150سے زائد ہوگئی ہے اور ان مچھروں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے متاثرہ افراد میں ہر عمر کے مردوخواتین شامل ہیں تاہم اکثریت بچے اور بچیوں کی ہے اور یہ مرض تیزی سے دیگر علاقوں تک بھی پھیل رہا ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس سلسلے میں محکمہ صحت سے بھی فوری رابطے کئے ڈی ایچ او بنوں نے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم بھجوائی جنہوں نے مریضوں کا معائنہ کیا اور علاقے کا جائزہ لیا لیکن تاحال کسی قسم کی ادویات فراہم نہیں کی گئی ہیں صرف لارواسائیڈ سپرے کیا گیا ہے اور اب عوام میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر شاہد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں جاری پروگرام بند کردیا گیا ہے ناظم ضیاء اللہ اور شہانزیب خان نے مطالبہ کیا کہ ڈبلی ایچ او کا پروگرام دوبارہ جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ علاقے میں مذید انسانی جانوں کو بچایا جاسکے انہوں نے صوبائی حکومت،عالمی ادارہ صحت اور محکمہ صحت بنوں سمیت ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ متاثرہ مریضوں کیلئے داؤد شاہ میں میڈیکل کیمپ لگایا جائے علاقے میں مچر مار سپرے کیا جائے گھر گھر مچھر دانیاں تقسیم کی جائیں اورادویات سمیت ڈاکٹروں کی حصوصی ٹیمیں بھجوائی جائیں کیونکہ عوام میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے پورا بنوں متاثر ہوگا اور بعد میں سنبھالنا مشکل ہوگا۔

مزید : کراچی صفحہ اول