تحریک پاکستان کے کارکنان کی خدمات نہ قابل فراموش ہیں :خواجہ سعد رفیق

تحریک پاکستان کے کارکنان کی خدمات نہ قابل فراموش ہیں :خواجہ سعد رفیق

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے تحریک پاکستان کے کارکنان کی خدمات نہ قابل فراموش ہیں جس سے نو جوان نسل کو آگاہی دینا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ ان کارکنان میں سے بابائے خیر پور اور کارکن تحریک پاکستان حضرت مرشد شاھین گورایا مرشدی ؒ قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ تصورات اور فرمودات کی ترویج و اشاعت کے لیے کوئی وقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے ان خیالات کا اظہا ر انھوں نے تحریک پاکستان کے کارکن ، دانشور، صحافی ، بابائے خیر پور، پیر طریقت ، رہبر شریعت حضرت مرشد شاھین گورایا مرشدی ؒ کی چوتھی برسی کے موقعہ پر ان کی یاد میں سینیئر سٹیزنز کونسل پاکستان اور جماعت مرشدی پاکستان کے زیر اہتمام آستانہ عالی مرشدیہ میں منعقدہ ریفرنس آف میموری مرشد شاھین گورایا مرشدی ؒ کے لیے دیئے گئے پیغام میں کیا جس کے مہمان خصوصی جسٹس( ریٹائرڈ ) سید دیدار حسین شاہ کو دانشور اور سماجی رہنما محفوظً نبی تھے ۔ مقررین میں خالد گورایا ، ریٹائرڈ چیف پوسٹ ماسٹر محمد ریحان ، سید عابد حسین شاہ ، نیاز راجپوت ، فرخ نواز گنڈا پور ایڈوکیٹ اور دیگر شامل تھے جبکہ صدارت سینیئر سٹیزن کونسل پاکستان کے چیئر مین سفیر امن صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی ۔ خواجہ سعد رفیق نے مذید کہا کہ مرشد شاھین گورایا ساری زندگی نظریہ پاکستان کے فروغ کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔ آپ ؒ کا سینہ علوم ظاہری و باطنی سے معمور تھا جس کی روشنی پھیل کر دلوں کو منور کرتی تھی ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو مرشد شاھین گورایا ؒ کا افکار سے آگاہی کے لیے خیر پور کی شاہ لطیف یونیورسٹی میں مرشدی گورایا چیئر کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ ریفرنس کے لیے دیئے گئے پیغام میں سینیٹر اسلام الدین شیخ نے کہا کہ بابائے خیر پور کارکن تحریک پاکستان حضرت مرشد شاھین گورایا مرشدی ؒ بالائی سندھ کی صحافت کے میدان کے مرد میدان اور فلاح انسانیت کے علمبردار تھے انھوں نے اپنی تمام فکری اور ذہنی صلاحیتیں بالائی سندھ کی رہنمائی کے لیے قرطاس و قلم ہی کے ذریعے وقف کردی اور یہ کارئے خیر ان کی ان کی زندگی کی آخری سانسوں تک جاری رہا ۔ اس موقع پر جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ نے کہا کہ بابائے خیر پور مرشد شاھین گورایا مرشدی نے پھول باغ خیر پور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کشمیر کی آزادی پر خطاب کے دوران شہید بھٹو کو قائد عوام کا خطاب دیا تھا جو ہمیشہ کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام نامی کا حصہ بن گیا انھوں نے کہا کہ مرشدی بابا ؒ 14زبانوں کا عبور رکھتے تھے شعلہ بیاں مقرر تھے ۔ محفوظ النبی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرشد شاھین گورایا مرشدی ؒ کا بزرگان دین سے بہت گہرا تعلق تھا آپ ؒ دامن حضرت غوث اعظم ؒ سے وابستہ تھے اور اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی ؒ سے والہانہ عشق رکھتے تھے ۔ خالد گورایا نے کہا کہ مرشد بابا جی ؒ نے ساری زندگی مسلک اہلسنت کی ترویج و اشاعت کی آپ ملنے جلنے والوں پر شفقت فرماتے اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ماہر فلکیات ہونے کی وجہ سے زائچے بنوانے والوں اور تعویزات لینے والوں کا ایک ہجوم رہتا تھا آپ خاص علم حاصل کرنے والوں اور مریدوں کی تربیت کا بہت خیال فرماتے تھے ۔ دیگر مقررین نے کہا کہ مرشد باباجی ؒ نے پی پی پی اور دیگر سیاست دانوں کی بے اعتنائی اور خد غرضانہ سیاست کے بعدالگ تھلگ ہو کر خود کو عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اور آخر وقت تک عوام کی خدمت کے لیے کوشاں رہے ۔ انھوں نے اپنے دروازے پر آنے والے بڑے بڑے حکمرانوں ، افسروں سے کبھی کسی چیز کی تمنا نہ کی اور جن لوگوں کو مرشد بابا جی ؒ نے انگلی پکڑ کر سیاست سکھائی آج وہ ملک میں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں ۔ صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بابا جی ؒ نے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آپ ؒ نے حضرت علامہ عنایت اللہ مشرقی کے ساتھ خاکسار تحریک میں بھرپور خدمات انجام دیں جبکہ قائد اعظم ؒ ، خان لیاقت علی خان ؒ ، سردار عبد الرب نشتر ؒ ، قاضی عیسٰی ؒ ، حسین شہید سہروردی ؒ ، محمود خان اچکزئی ، خواجہ خیر الدین ، محمود علی اور مادر ملت فاطمہ جناح شانہ بشانہ تحریک آزادی میں شریک رہے ۔ انھوں نے کہا کہ مرشد بابا جی ؒ ماہر علم فلکیات بھی تھے ان کی زندگی کا مشن اقامت دین تھا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول