کلرک اور افسر سے ملی بھگت، ملتان میں 1408نان رجسٹرڈ سکولوں میں تدریس جاری

کلرک اور افسر سے ملی بھگت، ملتان میں 1408نان رجسٹرڈ سکولوں میں تدریس جاری

ملتان ( اعجاز مرتضیٰ سے) محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی کے باعث ملتان میں 1408غیر رجسٹرڈ سکولزدھڑلے سے کام کر رہے ہیں‘جس کا دل چاہتا ہے گلی کوچے میں سکول کھول لیتا ہے‘تعلیم کا بیڑہ غرق ا ور طلبا وطالبات کا مستقبل تباہ ہورہا ہے‘خفیہ ادارے کی رپورٹ پر بھی کارروائی نہیں ہو سکی‘تفصیل کے مطابق ملتان میں 2800پرائیویٹ سکولز میں سے صرف 1392سکولز رجسٹرڈ ہیں اور باقی 1408سکولز رجسٹریشن کے بغیر بلا خوف کام کر رہے ہیں ‘ان سکولوں کے مالکان ’’نوٹ چھاپ رہے ہیں‘‘جبکہ ان میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے‘ذرائع کے مطابق ایک خفیہ ادارے نے بھی اس بارے میں رپورٹ دی تھی کہ ملتان میں 2800سکولز میں سے1408سکولز غیر رجسٹرڈ ہیں ‘مذکورہ سکولوں کے مالکان قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اس سے بچوں کا تعلیمی کیریئر برباد ہو رہا ہے‘لیکن اس کے باوجود ان تعلیمی اداروں کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکی اور مذکورہ سکولز مالکان محکمہ تعلیم کے اہلکاروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے مالا مال ہورہے ہیں اور تعلیم کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں‘مذکورہ سکولز مالکان نجی سکولز قائم کرنے کیلئے مطلوبہ شرائط بھی پوری نہیں کرتے ‘نہ ہی پرائمری ‘مڈل ‘ہائی سکول کے لئے مطلوبہ رقبہ ہوتا ہے نہ ہی کمرے تعداد میں پورے ہوتے ہیں‘ پلے گراؤنڈ ‘لائبریری اور سائنس لیبارٹری تک نہیں ہوتی ‘بیشتر کی عمارتیں کھنڈر ہیں جو ہڑپہ اور مو ہنجو دڑوکا منظر پیش کر رہی ہیں‘اس کے علاوہ مذکورہ اداروں میں ٹیچرز کی تعلیمی قابلیت بھی شرمناک ہوتی ہے‘کوالیفائیڈ سٹاف نہیں ہوتا ‘جو ٹیچر خود انڈر میٹرک ہوں گے وہ آگے بچوں کو کیا تعلیم دیں گے‘اس طرح جس کا دل چاہتا ہے گلی کوچوں میں سکول کھول کرتعلیم کے نام پر کاروبار شروع کر دیتا ہے‘سرکاری اہلکار اگر جاتے بھی ہیں تو’’جیب گرم‘‘ کرکے واپس ہو جاتے ہیں سیکڑوں ادارے عرصہ دراز سے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں ‘قانو ن کے مطابق سکول قائم ہونے کے 90روز کے اندررجسٹریشن کے لئے رجوع کرکے کوائف جمع کرانا لازمی ہے‘ایسا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ اور سزاکا قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا‘ لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ‘ان تعلیمی اداروں میں داخل ہونے والے بچوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ مذکورہ سکولز مالکان پنجم اور ہشتم کے پنجاب ایگزامنیشن کے امتحانات میں بھی بچوں کے داخلے نہیں دلواتے‘ گورنمنٹ سکولوں اور ’’پیف ‘‘ کے سکولوں کے طلباو طالبات پنجاب ایگزامنیشن کے تحت پنجم اور ہشتم کے امتحانات میں شریک ہو تے ہیں‘اس لئے گورنمنٹ اور ’’پیف‘‘ سکولوں میں بچوں کو پنجاب ایگزامنیشن کے تحت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کی بھر پور تیاری کرائی جاتی ہے‘لیکن غیر قانونی طور پر قائم ادارے چونکہ رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ‘اس لئے ان سکولوں کے بچے پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کے تحت پنجم اور ہشتم کے امتحانات میں شریک ہی نہیں ہو پاتے‘کیونکہ ان سکولوں کے بچے تعلیمی قابلیت کے حوالے سے بہت کمزور ہوتے ہیں اور وہ پنجاب ایگزامنیشن کے تحت پنجم اور ہشتم کے امتحان میں کامیاب ہی نہیں ہو سکتے‘غیر قانونی سکولز مالکان بچوں کو ہر کلاس میں پاس کئے جاتے ہیں اور لاعلم والدین بہت خوش ہوتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم میں بہت اچھے جا رہے ہیں‘بہترین پڑھائی ہو رہی ہے اور وہ پاس ہو رہے ہیں لیکن انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو کچھ آتا جاتا نہیں ہے ‘نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے جب سرکاری یا’’پیف‘‘ کے سکول میں داخلے کیلئے جاتے ہیں تو انہیں کچھآتا جاتا نہیں اور وہ ٹسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں اور پانچویں یا چھٹی جماعت کے بچے دوسری یا تیسری جماعت میں داخل کرانا پڑتے ہیں‘مذکورہ سکولوں کے بچوں کا چونکہ پنجاب ایگزامنیشن کمیشن کے تحت پنجم اور ہشتم کا امتحان نہیں ہوتا اس لئے جب تعلیمی بورڈ کے تحت نہم کے امتحان کیلئے داخلہ بھجواتے ہیں تو وہ فیل ہو جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر دلبرداشتہ ہو کر تعلیم چھوڑ کر کام پر لگ جاتے ہیں کوئی ورکشاپ کا رخ کرتا ہے تو کوئی حجام کا کام سیکھنے لگ جاتا ہے‘کوئی کسی دکان میں ملازم ہو جاتا ہے ‘غرض یہ کہ یہ عمر بچے کے پڑھنے کی ہوتی ہے مگر وہ دلبرداشتہ ہو کرچائلڈ لیبر کا شکار ہو جاتاہے‘صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف تو حکومت پنجاب ’’تعلیم عام کرو‘‘ کے ویژن پر عمل پیرا ہے اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف شعبہ تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں‘شرح خواندگی میں اضافے کیلئے سالانہ اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں‘اس مقصد کیلئے پنجاب میں اربوں روپے کی لاگت سے دانش سکولز بھی قائم کئے گئے ہیں‘سرکاری سکولوں اور ’’پیف‘‘ کے سکولوں کے طلبا وطالبات کی فیسیں حکومت پنجاب خود ادا کرتی ہے اور کتابیں بھی حکومت پنجاب فراہم کرتی ہے‘لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود نااہل افسران کے باعث تعلیم عام کرنے کی مہم ’’زیرو‘‘ معلوم ہوتی ہے‘شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ اداروں کیخلاف کارروائی کرکے قوم کے نونہالوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچایا جائے‘اس کے لسی پی کر سونے والیغفلت کے ذمہ دارمحکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کیخلا ف بھی کارروائی کی جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر